بین الاقوامی تعلقات میں وہی قومیں کامیاب سمجھی جاتی ہیں جو اپنے قریبی ہمسایہ ممالک کے ساتھ اعتماد، تعاون اور باہمی احترام پر مبنی رشتہ قائم رکھتی ہیں۔ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا بھر میں ”آہنی دوستی“ کے طور پر جانی جاتی ہے، اور یہی رشتہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا حالیہ دس روزہ کامیاب دورہ چین اس دوستی کو مزید وسعت دینے، نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے اور باہمی اعتماد کو مستحکم کرنے کی ایک سنہری کڑی ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا جب دنیا بھر میں جغرافیائی سیاست کے نقشے تیزی سے بدل رہے ہیں، عالمی طاقتوں کے درمیان بلاک سیاست اپنے عروج پر ہے اور خطہ جنوبی ایشیا غیرمعمولی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان اور چین کا ساتھ ان حالات میں نہ صرف ایک دوسرے کے لیے سہارا ہے بلکہ خطے کے امن اور ترقی کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی کو دنیا ایک لازوال رشتے کے طور پر تسلیم کرتی ہے، لیکن موجودہ عالمی حالات میں اس دوستی کو مزید مستحکم اور عملی تعاون میں ڈھالنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا یہ دورہ اسی سمت میں ایک بڑا قدم ثابت ہوا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری اپنا دس روزہ تاریخی دورہ چین مکمل کر کے وطن واپس پہنچ گئے ۔چنگدو، شنگھائی اور ارومچی میں صوبائی قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں۔پاک چین تعلقات اور اقتصادی و تجارتی تعاون پر بات چیت ہوئی۔دورے میں سی پیک اور مستقبل کے رابطہ کاری منصوبے زیر غور آئیں۔دورے سے پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری مزیدمستحکم ہوگی۔حالیہ دورہ چین کے دوران ہونے والی مثبت پیش رفت کے اثرات طویل مدت تک قائم رہیں گے۔
چنگدو میں صدر آصف علی زرداری کے اعزاز میں عشائیہ کی میزبانی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا سچوان کے پارٹی سیکرٹری وانگ شیاو ¿ ہوئی نے کی۔ خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی تھی۔پاکستان کے سفیر برائے بیجنگ خلیل ہاشمی اور چین کے سفیر برائے پاکستان جیانگ زائی دونگ بھی عشائیہ میں شریک تھے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کی چنگدو میں لی شو لی، ممبر پولیٹیکل بیورو اور وزیر پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ سے بھی ملاقات ہوئی۔صدر آصف علی زرداری نے چنگدو میںدوسرے گولڈن پانڈا انٹرنیشنل کلچر فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان چین کے ‘تبادلہ تہذیب اور باہمی سیکھنے کے وژن کی مکمل حمایت کرتا ہے پائیدار ترقی، علاقائی استحکام، اور عالمی اداروں کی شمولیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔پاکستان-چین کی دوستی باہمی احترام اور تعاون کی مثال ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے شنگھائی الیکٹرک کے چیئرمین وو لی سے شنگھائی میں ملاقات کی اور بعد ازاں شنگھائی میں کمپنی کی سہولیات کا دورہ کیا ۔اس موقع پر خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی صدر مملکت کے ہمراہ تھے۔ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق شنگھائی الیکٹرک کے چیئرمین نے پاکستان میں کمپنی کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی تھی جس میں تھر کے کوئلے، توانائی اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق صدر نے شنگھائی الیکٹرک کو پاکستان کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر کوئی زیر التواءمسائل ہوئے تو انہیں دوستانہ اور باہمی تعاون کے جذبے کے تحت حل کیا جائے گا۔اس موقع پر تھر میں کوئلہ گیسیفیکیشن پلانٹ کے قیام کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے تھے، یہ تھر کوئلے پر مبنی پہلا کوئلہ گیسیفیکیشن اور فرٹیلائزر منصوبہ ہوگا جو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ زرعی شعبے کو بھی سہارا دے گا۔اعلامیے کے مطابق ایم ایف ٹی سی کول گیسیفیکیشن کے سی ای او شاہد تواوالا اور سینو سندھ ریسورسز/شنگھائی الیکٹرک کے سی ای او لِن جیگن نے یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
صدر آصف علی زرداری نے شنگھائی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے پہلے نیشنل کانگریس میموریل کا بھی دورہ کیاصدر مملکت کے ہمراہ خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔میموریل شنگھائی کے تاریخی فرنچ علاقے میں واقع ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں جولائی 1921 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تھا۔صدر مملکت نے اس تاریخی ورثے کے تحفظ کو سراہا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے شنگھائی میں پاکستان اور چین کو مفاہمت کی تین یاد داشتوں (ایم او یوز) کی دستخط کی تقریب میں شرکت ۔جن کا مقصد پاکستان میں زراعت، ماحولیات اور ماس ٹرانزٹ شعبوں کی ترقی ہے۔ اس تقریب میں خاتون اول بی بی آصفہ، چیئرمین بلاول بھٹو اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا ، پاکستان میں چین کے سفیر بھی شریک تھے۔پہلا ایم او یو کنٹرولڈ ایگریکلچر سائنس اینڈ ایجوکیشن پارک، زرعی پیداوار اور خوراک کے تحفظ میں اضافہ کے حوالے سے تھا۔دوسرا ایم او یو شینونگ کالج، کسانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کرنے کے لئے ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے متعلق تھا۔تیسرا ایم او یو ٹائر ری سائیکلنگ پروجیکٹ، ماحول دوست فاضل مادہ کی مینجمنٹ کو فروغ دینے کے حوالے سے کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری کی شنگھائی میں چینی ماحولیاتی ٹیکنالوجی کمپنی کے سربراہ سے ملاقات بھی ہوئی ۔اس موقع پر خاتون اول بی بی آصفہ، چیئرمین بلاول بھٹوزرداری بھی شریک تھے۔چینی کمپنی نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کی۔ صدر آصف علی زرداری کی شنگھائی میں سی پی سی سیکرٹری چن جینِنگ سے بھی ملاقات ہوئی ۔ جس میں خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی ہمراہ تھے۔ملاقات میں ٹیکنالوجی، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدت پر بھی بات چیت ہوئی۔صدرآصف علی زرداری نے خصوصی اقتصادی زونز اور گوادر فری زون میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں چین کے شہر ا ±رومچی میں تین مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کی تقریب میں شرکت۔پاکستان اور چین کے درمیان لائیو اسٹاک انڈسٹری میں جدت کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط۔پاکستان میں جدید ٹیکسٹائل انڈسٹریل پارک کے قیام کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط۔فائر ٹرکس اور ایمرجنسی آلات کی فراہمی و خدمات کیلئے پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشت۔ یہ یادداشتیں خوراک کے تحفظ، صنعتی ترقی، برآمدات اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنائیں گئیں۔
پاکستان کے موجودہ حالات میں صدر مملکت آصف علی زرداری کا یہ دورہ اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان اب بھی عالمی برادری میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ دورہ ایک کامیاب پیغام ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن انداز میں آگے بڑھا رہا ہے اور اپنی معاشی بقا کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری کا حالیہ دورہ چین خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے عزم کا عکاس ہے۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا دورہ چین پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ جو پاکستان کے سنہری مستقبل کی راہوں کو مزید روشن کرتا ہے۔ اس دورے نے نہ صرف پاک-چین تعلقات کو نئی توانائی بخشی بلکہ پاکستان کے عوام کو بھی یہ امید دلائی کہ بہتر مستقبل کے دروازے کھلنے والے ہیں۔ آج جب دنیا طاقت کے نئے توازن کی جانب بڑھ رہی ہے، پاکستان اور چین کا یہ قریبی رشتہ خطے میں امن، ترقی اور استحکام کا ضامن ہے۔