بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی پانچ شمالی یورپی ممالک کے رہنماؤں سے حالیہ ملاقاتوں میں تجارت، توانائی، ماحولیات، دفاع اور بدلتی ہوئی عالمی سیاست مرکزی موضوعات رہے۔
انڈیا-نارڈک سمٹ ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں منعقد ہوا، جس میں ناروے، سویڈن، فن لینڈ، آئس لینڈ اور ڈنمارک کے وزرائے اعظم شریک ہوئے۔ یہ اس سلسلے کا تیسرا اجلاس ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ اجلاس 2018 میں اسٹاک ہوم اور 2022 میں کوپن ہیگن میں منعقد ہو چکا ہے۔
بھارت اس وقت اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے اور نئی منڈیاں اور شراکت دار تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ، امریکہ کی تجارتی پالیسیوں میں سختی، اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی اور تجارت کے نظام پر دباؤ ہے، جس کے نتیجے میں نئی علاقائی شراکت داریوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
اس اجلاس میں بنیادی توجہ تجارت کے فروغ، توانائی کے متبادل ذرائع، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے، اور ٹیکنالوجی میں تعاون پر رہی۔ بھارتی حکام کے مطابق شمالی یورپی ممالک جدید ٹیکنالوجی، صاف توانائی اور صنعتی ترقی میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتے ہیں، اور بھارت ان تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
بھارت اور شمالی یورپی ممالک کے درمیان باہمی تجارت گزشتہ برسوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے، جس میں ادویات، صنعتی مصنوعات، مشینری اور ٹیکسٹائل شامل ہیں۔ اسی طرح یورپی کمپنیاں بھارت میں توانائی، ٹرانسپورٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، بھارت کا مقصد صرف تجارت بڑھانا نہیں بلکہ اپنی صنعتی اور توانائی کی ضروریات کے لیے طویل المدتی شراکت داریاں قائم کرنا بھی ہے۔ خاص طور پر صاف توانائی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی بھارت کی ترجیح بن چکی ہے۔
اجلاس میں آرکٹک خطے پر بھی بات چیت متوقع رہی، جہاں بھارت برسوں سے سائنسی تحقیق میں سرگرم ہے۔ بھارت نے اس خطے میں اپنی موجودگی 2007 میں ایک تحقیقاتی مشن کے ذریعے شروع کی اور بعد میں ناروے میں ایک تحقیقی مرکز بھی قائم کیا۔ اس کے علاوہ بھارت نے برف پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تحقیق کے لیے ایک زیرِ سمندر مشاہدہ نظام بھی نصب کیا۔
بھارت آرکٹک خطے کو مستقبل میں توانائی، معدنیات اور نئے تجارتی راستوں کے لحاظ سے اہم سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اس خطے میں اپنی سائنسی اور اسٹریٹجک موجودگی کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
اجلاس میں روس کی یوکرین جنگ کے اثرات بھی زیر بحث آئے، کیونکہ شمالی یورپی ممالک روس کے اقدامات کو اپنی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتے ہیں۔ تاہم بھارت اور ان ممالک کے درمیان روس کے حوالے سے کچھ اختلافات بھی موجود ہیں، کیونکہ بھارت نے جنگ کے دوران روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، اس کے باوجود دونوں طرف یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اختلافات کو تعاون پر غالب نہ آنے دیا جائے، کیونکہ دونوں فریق تجارت، توانائی اور عالمی سپلائی چین میں ایک دوسرے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس بھارت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ کسی ایک بلاک پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف خطوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔
اجلاس کے بعد امکان ہے کہ بھارت اور شمالی یورپی ممالک کے درمیان تعاون کے مزید منصوبے سامنے آئیں گے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر کوئی بڑی یا باضابطہ تبدیلی فوری طور پر متوقع نہیں، بلکہ یہ تعلقات بتدریج مضبوط ہوں گے۔