البانیہ میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے منسلک لگژری سیاحتی منصوبے پر احتجاجی مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟

البانیہ کے مغربی ساحل کے قریب واقع غیر آباد جزیرے سازان پر مجوزہ پرتعیش سیاحتی منصوبے کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس منصوبے کا تعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور ان کی اہلیہ ایوانکا ٹرمپ سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ حکومت اسے ملکی معیشت اور سیاحت کے فروغ کے لیے اہم قرار دے رہی ہے۔

ایوانکا ٹرمپ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر ایک دوست کی کشتی پر سفر کے دوران اتفاقاً اس جزیرے تک پہنچے تھے اور اس کی خوبصورتی سے متاثر ہو گئے تھے۔ بعد ازاں اسی جزیرے پر ایک بڑے سیاحتی منصوبے کا تصور سامنے آیا، جس میں پرتعیش ہوٹلوں، رہائشی عمارتوں اور ولاز کی تعمیر شامل ہے۔

منصوبے کے تحت محفوظ قدرتی علاقے ویوسا۔نارتا کے ساحلی خطے میں سیاحتی ڈھانچے تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ سابق فوجی اڈے کو بھی تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی مالیت اربوں ڈالر بتائی جا رہی ہے۔

البانیہ کے وزیر اعظم ایڈی راما کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ملک کو عالمی سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا۔ ان کے مطابق حکومت اس منصوبے کو ہر صورت آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

دوسری جانب ماحولیاتی تنظیمیں، مقامی باشندے اور حکومت کے ناقدین اس منصوبے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں سے محفوظ قدرتی علاقوں، جنگلی حیات اور ساحلی ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ علاقے جہاں نقل مکانی کرنے والے پرندے قیام کرتے ہیں، خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں جب ساحل کے قریب تعمیراتی مشینری اور باڑ لگانے کا کام شروع ہوا تو ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ دارالحکومت تیرانا میں مسلسل کئی روز تک مظاہرے ہوئے، جن میں شرکاء نے “ملک فروخت کے لیے نہیں” اور “ہمیں اپنا ملک عالیشان تفریحی شہر نہیں بنانا” جیسے نعرے لگائے۔

ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ محفوظ علاقوں میں تعمیرات کی اجازت دینے والے قانون نے اس منصوبے کی راہ ہموار کی۔ ان کے مطابق ترقیاتی کاموں کے بارے میں مقامی آبادی اور شہری تنظیموں کو مناسب معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، ادھر البانیہ کے اینٹی کرپشن ادارے نے اس منصوبے سے متعلق بعض قانونی اور انتظامی معاملات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تحقیقات میں محفوظ علاقے کی حیثیت میں تبدیلی، زمینوں کی ملکیت اور سرمایہ کاری کے ذرائع جیسے امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام سرگرمیاں قانون کے مطابق ہو رہی ہیں اور منصوبے سے مقامی معیشت، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر فوائد صرف سرمایہ کاروں تک محدود رہے اور ماحولیاتی و سماجی نقصانات مقامی آبادی کو برداشت کرنا پڑے تو یہ ترقی پائیدار نہیں سمجھی جا سکتی۔

سیاحت کے شعبے سے وابستہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ البانیہ کو بڑے منصوبوں کے بجائے ایسا سیاحتی ماڈل اپنانا چاہیے جس میں قدرتی ماحول، مقامی ثقافت اور عوامی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ ان کے مطابق ملک کی خوبصورتی اور قدرتی ورثہ ہی اس کی اصل طاقت ہیں، جنہیں محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں