انسانی جسم میں موجود کون سے پروٹین سےامراض قلب کی تشخیص ممکن ہے؟

یورپی ماہرین نے ایک طویل تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ، دل کے امراض کی بروقت تشخیص کے لیے ایک سادہ اور عام کولیسٹرول ٹیسٹ، جو عموما نظر انداز کر دیا جاتا ہے، نہایت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، اگر اس ٹیسٹ پر توجہ دی جائے تو ہزاروں افراد میں دل کی بیماریوں کی پیچیدگیاں وقت سے پہلے پکڑی جا سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق، اب تک امراض قلب کی تشخیص کے لیے مختلف اقسام کے ٹیسٹس استعمال کیے جاتے رہے ہیں، جن میں ‘لپڈ پروفائل’ یعنی کولیسٹرول ٹیسٹ کو مرکزی اہمیت حاصل رہی ہے۔ تاہم، حالیہ تحقیق میں اس ٹیسٹ کے اندر موجود ایک خاص جزو، "اپو بی (apoB) پروٹین کو امراض قلب کی ابتدائی علامت کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
یورپ کے مختلف ممالک میں 2 لاکھ سے زائد دل کے مریضوں کے ڈیٹا کا 15 سال تک تجزیہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ، جن افراد کو دل کی شریانوں کی بیماریاں لاحق تھیں، ان کے خون میں موجود ’بیڈ کولیسٹرول‘ میں apoB نامی پروٹین کی شرح نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ یہی پروٹین دراصل شریانوں میں رکاوٹ، سوزش اور تنگی کا سبب بنتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ، اگر مستقبل میں کولیسٹرول کے عام ٹیسٹس میں خاص طور پر اس پروٹین کی مقدار پر توجہ دی جائے تو دل کی بیماریوں کا خطرہ کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ بیماری شروع ہونے سے پہلے ہی شناخت ہو جائے گی۔ یہ طریقہ فالج اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں