واشنگٹن میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی کانگریس میں پیشی کے دوران ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق کئی اہم اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ سماعت میں جنگی اخراجات، فوجی ہلاکتوں، یوکرین کو امداد سے متعلق بیانات اور جنگی قوانین پر مؤقف جیسے حساس معاملات زیرِ بحث آئے۔
پینٹاگون کے مطابق، ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر اب تک تقریبا 25 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھاری اخراجات بڑی حد تک ان دسیوں ہزار بموں اور میزائلوں کے استعمال کی وجہ سے ہوئے جو اس تنازع کے دوران فائر کیے گئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے اس جنگ کی مجموعی لاگت کا باضابطہ اندازہ پیش کیا ہے۔
سماعت میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنگ کے باعث امریکہ کے جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ استعمال ہو چکا ہے، جن میں اسٹیلتھ کروز میزائل اور انتہائی درست نشانہ بنانے والے میزائل شامل ہیں، جو امریکی دفاعی صلاحیت کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔
امریکی فوجی افسر جنرل ڈین کین نے انکشاف کیا کہ ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے دوران اب تک 14 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سرکاری اعداد و شمار میں اس سے کم تعداد ظاہر کی گئی تھی۔ تازہ ترین ہلاکت میجر سورفلی ڈیوئیس کی بتائی گئی، جو کویت میں طبی ایمرجنسی کے باعث جان سے گئے۔
وزیر دفاع ہیگستھ نے سماعت کے دوران یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے یوکرین کو ‘سینکڑوں ارب ڈالر’ کی فوجی امداد فراہم کی، تاہم سرکاری ریکارڈ کے مطابق، یہ رقم تقریبا 67 ارب ڈالر بنتی ہے، جس میں اسلحہ اور مالی امداد دونوں شامل ہیں۔
سماعت کے دوران وزیر دفاع نے ان ناقدین کو بھی سخت جواب دیا جنہوں نے ایران جنگ کو ‘دلدل’ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض دو ماہ پر محیط جنگ ہے اور اسے طویل تنازع قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی عوام اس کارروائی کی حمایت کرتے ہیں، اگرچہ حالیہ جائزوں میں اس کے برعکس رجحان دیکھا گیا ہے۔
ڈیموکریٹ اراکین کی جانب سے جنگ کے باعث بڑھتی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر اٹھائے گئے سوالات کو وزیر دفاع نے مسترد کرتے ہوئے انہیں ‘سیاسی حربہ’ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی ایک قیمت ضرور ہوتی ہے۔
جنگی قوانین کے حوالے سے بھی سماعت میں بحث ہوئی، جہاں وزیر دفاع نے اس مؤقف کا دفاع کیا کہ امریکی فوج ‘جیتنے کے لیے لڑتی ہے’۔ تاہم رکن کانگریس سیٹھ مولٹن نے نشاندہی کی کہ ‘کوئی رعایت نہ دینے’ جیسے بیانات بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرم تصور ہو سکتے ہیں، جسے وزیر دفاع نے رد کر دیا۔