ازبکستان میں صحت کے شعبے کی بڑی اصلاحات، 2036 تک ہسپتالوں کو جدید بنانے کا منصوبہ

ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے ملک میں صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ہسپتالوں کی استعداد بڑھانے اور طبی خدمات میں نجی شعبے کی شراکت کو فروغ دینے کے لیے پیش کیے گئے جامع منصوبے کا جائزہ لیا ہے۔

حکام کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کے مطابق 2026 سے 2036 تک ملک بھر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک جامع ماسٹر پلان تیار کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت ہسپتالوں اور طبی مراکز کی تعداد، آبادی کی ضروریات، علاج کی سہولتوں تک رسائی اور موجودہ طبی اداروں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اصلاحات کی جائیں گی۔

حکام نے بتایا کہ ازبکستان کے بعض علاقوں میں طبی سہولتوں کی غیر مساوی تقسیم، ہسپتالوں میں بستروں کی کمی اور پرانی عمارتوں و طبی آلات کے استعمال کے باعث علاج کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں ملک بھر کے طبی اداروں کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جائے گا۔ دس علاقوں میں کیے گئے سروے کے دوران 3 ہزار 499 طبی مراکز کی نشاندہی ہوئی، جو سرکاری کیڈسٹر ایجنسی کے موجودہ ریکارڈ سے 494 زیادہ ہیں۔ حکومت تمام طبی اداروں کے الیکٹرانک پاسپورٹ تیار کرنے اور ایک مشترکہ ڈیجیٹل رجسٹر قائم کرنے کی تجویز پر کام کر رہی ہے۔

نئے ماسٹر پلان کے تحت یہ بھی طے کیا جائے گا کہ کن ہسپتالوں کو برقرار رکھا جائے، کن اداروں کو ضم کیا جائے، کہاں نئی عمارتیں تعمیر ہوں اور کن طبی مراکز کو جدید آلات اور اضافی عملے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ مریضوں کے ہسپتال تک پہنچنے کے وقت اور سفری فاصلے کو بھی منصوبہ بندی میں اہمیت دی جائے گی۔

سمرقند ریجن میں طبی سہولتوں کی توسیع

منصوبے میں سمرقند ریجن کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ریجن کی تقریباً 80 فیصد آبادی اضلاع میں رہتی ہے، لیکن وہاں ہسپتالوں کے صرف 41.7 فیصد بستر موجود ہیں۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت اضلاع میں بستروں کا تناسب بڑھا کر 67 فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

سمرقند، ارگت، پاست درغوم، کتہ قورغان، اشتخان اور پایارق میں نئے ہسپتالوں کی تعمیر اور موجودہ طبی اداروں کی تزئین و آرائش کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔

اس کے علاوہ 2030 تک ارگت، کتہ قورغان اور پاست درغوم میں مجموعی طور پر مزید 1500 ہسپتال بیڈ فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

سمرقند کے علاقائی مرکز میں خصوصی طبی اداروں کو کثیرالشعبہ ہسپتالوں کے ساتھ منسلک کرنے، مرکزی لیبارٹریوں، جراثیم سے پاک کرنے کے نظام اور جدید تشخیصی مراکز کے قیام کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔

نجی شعبے کو طبی خدمات میں شراکت کی دعوت

اجلاس میں صحت کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے سے متعلق ایک مجوزہ قرارداد پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے تحت ڈائیلاسز، لیبارٹری ٹیسٹ، تشخیصی معائنے اور طبی آلات کی دیکھ بھال جیسی بعض خدمات نجی اداروں کے ذریعے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سرمایہ کاروں کو طویل مدتی منصوبہ بندی کا موقع دینے کے لیے سالانہ معاہدوں کے بجائے پانچ سال تک کے تعاون کے معاہدے متعارف کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

مجوزہ نظام میں سرکاری ہسپتال نجی اداروں سے طبی خدمات حاصل کر سکیں گے، جبکہ نجی شراکت دار ضروری آلات کی خریداری، دیکھ بھال اور وقت کے ساتھ ان کی تبدیلی یا جدت کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔

مریضوں کے لیے جدید اور محفوظ طبی سہولتیں

حکام کے مطابق نئے ہسپتالوں کی تعمیر میں مریضوں کی آسان نقل و حرکت، انفیکشن سے بچاؤ، معذور افراد کے لیے رسائی اور جدید طبی آلات کی تنصیب کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی سفارشات کی بنیاد پر مقامی حالات سے ہم آہنگ طبی پروٹوکول متعارف کرانے اور ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لینے کی بھی تجویز ہے۔

صدر شوکت مرزایوف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پیش کردہ تجاویز کو مزید بہتر بنایا جائے اور صحت کے شعبے میں اصلاحات پر مرحلہ وار عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں