پی ایس ایل 10: اسپنر عثمان طارق کا باؤلنگ ایکشن ایک بار پھر مشکوک قرار

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 10 کے جاری ایڈیشن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسپنر، عثمان طارق ایک بار پھر باؤلنگ ایکشن کے تنازع میں آ گئے ہیں۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں اتوار کو لاہور قلندرز کے خلاف کھیلے گئے میچ کے دوران امپائرز احسن رضا اور کرس براؤن نے عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن کو مشکوک قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا۔

قوانین کیا کہتے ہیں؟
پی ایس ایل اور آئی سی سی کے قوانین کے مطابق، کسی باؤلر کا ایکشن مشکوک قرار دیے جانے کے باوجود جب تک وہ دوبارہ رپورٹ نہیں ہوتا، وہ باؤلنگ جاری رکھ سکتا ہے۔ البتہ اگر عثمان طارق کو مستقبل میں دوبارہ مشکوک قرار دیا گیا تو وہ فوری طور پر باؤلنگ سے معطل ہو جائیں گے۔ اس کے بعد انہیں آئی سی سی سے منظور شدہ بایومکینیکل لیب سے اپنا ایکشن کلیئر کرانا ہوگا۔

عثمان طارق کا ماضی کا ریکارڈ
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن کو مشکوک قرار دیا گیا ہو۔ گزشتہ سال پی ایس ایل 9 کے دوران بھی ان کا ایکشن مشکوک رپورٹ ہوا تھا۔ مارچ 2024 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور کراچی کنگز کے درمیان میچ میں ان کے باؤلنگ ایکشن پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔

اس بار یہ پی ایس ایل 10 کے چوتھے میچ کے دوران پیش آیا، جس میں لاہور قلندرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 79 رنز سے شکست دی۔ لاہور نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 219 رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں کوئٹہ کی ٹیم 16.2 اوورز میں صرف 140 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

عثمان طارق فی الحال اگلے میچز میں باؤلنگ جاری رکھ سکتے ہیں، مگر ان کے ایکشن پر مزید کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اگر انہیں دوبارہ رپورٹ کیا گیا تو پی ایس ایل اور پی سی بی کے قواعد کے مطابق وہ فورا باؤلنگ سے معطل ہو جائیں گے۔
کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، بار بار ایکشن رپورٹ ہونے سے عثمان کی پیشہ ورانہ کریئر کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ، وہ جلد از جلد اپنے ایکشن کو درست کرائیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں