امریکا میں نوجوان خواتین کی بڑی تعداد صحت اور ویل نِس سے متعلق معلومات کے لیے سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور پوڈکاسٹس سے رجوع کر رہی ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 18 سے 29 سال کی 57 فیصد امریکی خواتین کہتی ہیں کہ وہ صحت اور ویل نِس سے متعلق معلومات کبھی نہ کبھی انفلوئنسرز یا پوڈکاسٹس سے حاصل کرتی ہیں۔ یہ شرح اسی عمر کے نوجوان مردوں کے مقابلے میں 10 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
تحقیق کے مطابق اگرچہ امریکی شہری صحت سے متعلق معلومات کے لیے سب سے زیادہ ہیلتھ پرووائیڈرز، یعنی ڈاکٹروں اور طبی ماہرین سے رجوع کرتے ہیں، مگر سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور پوڈکاسٹس بھی نوجوانوں کے لیے اہم ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔
سروے میں بتایا گیا کہ صحت اور ویل نِس انفلوئنسرز کا مواد نوجوان خواتین اور مردوں تک مختلف انداز میں پہنچتا ہے۔ نوجوان خواتین خاص طور پر خوبصورتی اور ذاتی ظاہری شکل سے متعلق مواد زیادہ دیکھتی ہیں۔
صحت اور ویل نِس انفلوئنسرز سے معلومات لینے والی نوجوان خواتین میں سے 51 فیصد نے کہا کہ وہ اکثر خوبصورتی یا ذاتی ظاہری شکل سے متعلق مواد دیکھتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں صرف 18 فیصد نوجوان مردوں نے کہا کہ وہ اس قسم کا مواد اکثر دیکھتے ہیں۔
نوجوان خواتین متبادل یا غیر روایتی علاج سے متعلق مواد بھی نوجوان مردوں کے مقابلے میں تقریباً دگنی شرح سے دیکھتی ہیں۔ تاہم ذہنی صحت، وزن کم کرنے اور فٹنس جیسے موضوعات پر نوجوان مردوں اور خواتین کے رجحانات نسبتاً قریب ہیں۔
تحقیق کے مطابق دونوں گروہوں کے ایک تہائی یا اس سے زیادہ افراد کہتے ہیں کہ وہ ذہنی صحت اور وزن کم کرنے سے متعلق مواد اکثر دیکھتے ہیں۔ اسی طرح نوجوان مردوں اور خواتین کی نصف یا اس سے زیادہ تعداد فٹنس سے متعلق مواد اکثر دیکھتی ہے۔
پیو ریسرچ کے مطابق نوجوان خواتین کے انفلوئنسرز سے رجوع کرنے کی ایک بڑی وجہ اپنی صحت یا طرز زندگی میں تبدیلی لانے کی خواہش ہے۔ ایسی نوجوان خواتین میں سے 51 فیصد نے کہا کہ وہ صحت یا طرز زندگی میں تبدیلی کے لیے انفلوئنسرز سے معلومات لیتی ہیں، جبکہ نوجوان مردوں میں یہ شرح 37 فیصد ہے۔
نوجوان خواتین اس لیے بھی انفلوئنسرز کی طرف زیادہ رجوع کرتی ہیں کہ انہیں ایسے لوگ سننے کو ملتے ہیں جو ان کے پس منظر یا خیالات سے قریب ہوتے ہیں۔
سروے کے مطابق 23 فیصد نوجوان خواتین نے اسے ایک بڑی وجہ قرار دیا، جبکہ نوجوان مردوں میں یہ شرح 14 فیصد رہی۔ اسی طرح 19 فیصد نوجوان خواتین نے کہا کہ وہ ایسی باتیں جاننے کے لیے انفلوئنسرز سے رجوع کرتی ہیں جو وہ اپنے ڈاکٹر سے پوچھنا نہیں چاہتیں۔ نوجوان مردوں میں یہ شرح 10 فیصد رہی۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صحت سے متعلق معلومات کا نظام تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب نوجوان صرف کلینک، اسپتال یا ڈاکٹر تک محدود نہیں رہے، بلکہ وہ سوشل میڈیا پر ذاتی تجربات، طرز زندگی کے مشوروں، ذہنی صحت، فٹنس، وزن، خوبصورتی اور متبادل علاج کے بارے میں مواد دیکھ رہے ہیں۔
تاہم اس رجحان کے ساتھ خدشات بھی جڑے ہیں۔ صحت سے متعلق انفلوئنسرز کا مواد ہر وقت طبی طور پر درست یا مکمل نہیں ہوتا، اور بعض اوقات ذاتی تجربات کو عمومی مشورے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت، ادویات، سپلیمنٹس، وزن کم کرنے یا علاج سے متعلق کسی بھی مشورے پر عمل کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر یا طبی ماہر سے رابطہ ضروری ہے۔
پیو ریسرچ کی رپورٹ اس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ نوجوان خواتین کی صحت، جسمانی ظاہری شکل، ذہنی دباؤ اور طرز زندگی سے متعلق گفتگو اب بڑی حد تک سوشل میڈیا پر منتقل ہو چکی ہے۔
یہ رجحان ہیلتھ انڈسٹری، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور طبی اداروں کے لیے ایک اہم سوال پیدا کرتا ہے کہ نوجوانوں تک قابل اعتماد، آسان اور محفوظ صحت معلومات کیسے پہنچائی جائیں۔