امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی روکنے سے متعلق ایک اہم قرارداد منظور کر لی ہے۔ اس دوران چند حکمران جماعت کے ارکان نے بھی حزبِ اختلاف کا ساتھ دیا۔
بدھ کے روز ہونے والی رائے شماری میں قرارداد 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس قرارداد کا مقصد ایران کے خلاف تقریباً تین ماہ سے جاری فوجی کارروائیوں کو محدود کرنا ہے۔
ایوانِ نمائندگان کے سربراہ مائیک جانسن اس قرارداد کی منظوری روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دو ہفتے قبل انہوں نے کارروائی معطل کر دی تھی تاکہ قرارداد منظور نہ ہو سکے، تاہم جنگ کے طویل ہونے اور امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث اس کی مخالفت میں اضافہ ہوتا گیا۔
ایوان کی خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ رکن گریگوری میکس نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب بہت ہو چکا ہے اور صدر کو درست فیصلہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق عوام اس جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور روزمرہ اشیا کے اخراجات سے تنگ آ چکے ہیں۔
اگرچہ اس قرارداد کی منظوری کے بعد بھی فوری طور پر جنگ بند نہیں ہوگی، تاہم اسے صدر کی جنگی حکمتِ عملی کے خلاف ایک اہم سیاسی پیغام سمجھا جا رہا ہے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد ایوان میں موجود ارکان نے خوشی کا اظہار بھی کیا۔
یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ ماہ ایوانِ بالا میں بھی چند حکمران جماعت کے ارکان نے اپنی جماعتی قیادت سے اختلاف کرتے ہوئے ایسی ہی ایک قرارداد کی حمایت کی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران بیرونِ ملک تنازعات سے دور رہنے اور ملکی معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو امریکی سیاست کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔
جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی بھی متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی جس سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا بھر میں تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد یہ قرارداد اب ایوانِ بالا میں جائے گی، جہاں اس پر حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اگر دونوں ایوان اس کی منظوری دے دیتے ہیں تو صدر اور کانگریس کے اختیارات کے درمیان ایک نیا آئینی اور قانونی تنازع بھی جنم لے سکتا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر کانگریس ایسی قرارداد منظور کرتی ہے تو ایران یہ سمجھے گا کہ امریکی حکومت کے ہاتھ بندھ گئے ہیں اور اس پر دباؤ کم ہو جائے گا، جس سے امن مذاکرات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، جبکہ صدر بطور سپریم کمانڈر فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ اور امن کے معاملات میں دونوں اداروں کے اختیارات اکثر بحث کا موضوع بنتے رہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ چونکہ موجودہ تنازع میں جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، اس لیے باقاعدہ جنگی کارروائیاں ختم سمجھی جا سکتی ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے کیونکہ مختلف مقامات پر اب بھی جھڑپوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔