سانحہ بھاٹی گیٹ میں حاملہ ماں اور اس کی دس ماہ کی بیٹی کی ہلاکت کے بعد وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے ٹاپ بیوروکریسی اور پولیس افسروں کو سامنے بٹھا کر بتایا کہ اس جرم میں کون کون ملوث یا قصور وار ہے۔ یہ تمام کارروائی لائیو ٹیلی کاسٹ ہوئی۔ آخر میں چند چھوٹے افسروں /اہلکاروں کو پکڑنے کا حکم دے دیا گیا۔ یقینا اس اجلاس کے شرکا کو پورا اعتماد تھا کہ ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ جس “ پراسس “ سے گرز پر پوسٹ ہوئے ہیں وہ کسی بھی جوابدہی سے بچنے کی گارنٹی دیتا ہے ، سانحہ بھاٹی گیٹ کا فوری نتیجہ یہ بھی برآمد ہوا کہ ’’شائننگ پنجاب‘‘ کا نعرہ زمین بوس ہو گیا۔ لاہور جیسے شہر میں موت کے کنویں نما گٹر کو کھلا چھوڑنے پر بجا طور پر حکومت کی خوب بھد اُڑائی گئی۔ ن لیگ مخالف میڈیا نے تو لتّے لینے ہی تھے، غیر جانبدار میڈیا بھی تمام دن یہی ڈھول پیٹتا رہا:
’’پنجاب حکومت کی غفلت اور لاپروائی‘‘۔
حقیقت میں یہ محض غفلت نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت تھی۔ آئین کے مطابق کام کرنے والی سول حکومت ہوتی تو بڑی شخصیات، افسران اور پولیس والے فارغ ہو جاتے۔ یہاں یہ حال ہے کہ اب تک کسی کی جرأت نہیں ہو رہی کہ یہ بتائے وہ کون تھا جس نے اس واردات کو فیک نیوز قرار دلوانے کی مہم چلائی۔ کیا یہ کوئی ٹریپ تھا ؟ کئی افسر ٹی وی سکرینوں پر آ کر طمطراق سے الٹے سیدھے دعوے کرتے رہے، اب سب چپ ہیں اور مطمئن بھی۔اگرچہ یہ بہت بڑی ناکامی تھی، لیکن میڈیا میں جس طرح سے معاملہ اچھالا گیا اس سے یہ تاثر بھی ملا کہ یہ صرف خبر کی حد تک نہیں تھا۔ تاثر ملا کہ کسی ایجنڈے کی تکمیل بھی کی جا رہی ہے۔ اس ہلکی پھلکی کارروائی پر ن لیگ کے ہمدردوں نے داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے ہی تھی ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ بظاہر اعلیٰ حکام کی سرزنش کے لیے بلائے جانے والے اس اجلاس سے بیورو کریسی اور پولیس کی بالا دستی کے حوالے سے “رِٹ آف دی سول گورنمنٹ‘‘ کو شدید دھچکا لگا۔ہائبرڈ پلس نظام میں جو کچھ ممکن ہو سکتا تھا، پنجاب کے حکمران وہیں تک محدود رہے۔ اس واقعے کا خمیازہ ن لیگ کو بطورِ جماعت بھی بھگتنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ایک سبق یہ بھی ہے کہ دوسرے صوبوں میں ایسا کوئی واقعہ پیش آ جائے تو اظہارِ ہمدردی کے سوا مزید تبصرے کی ضرورت نہیں۔ نہروں کے معاملے پر کسی کے کہنے پر پیپلز پارٹی کے خلاف محاذ کھولنا بھی غیر سیاسی طرزِ عمل ہے۔ویسے بھی کسی غلط فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں، مقتدر حلقوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی، ن لیگ سے کئی گنا زیادہ فِدوی ہے۔
سانحہ بھاٹی گیٹ کے اگلے روز سب سے بڑے چینل نے دن بھر مریم نواز کا وہ خطاب بار بار چلایا جس میں وہ دعویٰ کر رہی تھیں کہ وہ ہر روز رات کو گٹروں کے ڈھکن چیک کر کے سوتی ہیں۔ جس نے پہلے نہیں سنا تھا وہ بھی سن کر حیران رہ گیا ، بیوروکریسی اور پولیس کا اس لیے کچھ نہ بگڑا، کیونکہ انہی کے ذریعے سول اور اصل حکمرانوں نے 26 کروڑ عوام کو نچوڑ کر اپنی ضروریات پوری کرنی ہیں۔جن افسروں کو پکڑا گیا، ان کی “ کلاس” ہی الگ ہے۔ ان جیسے لاکھوں سرکاری ملازمین کی پنشن اور بعد از ریٹائرمنٹ مراعات پر ڈاکا مارا جا رہا ہے۔ دنیا کے کسی بھی قانون کے تحت یہ ممکن نہیں کہ جن شرائط پر سرکاری ملازمین کو بھرتی کیا جائے، حکومت بعد میں اس سے مکر جائے۔لاکھوں سرکاری ملازمین نے ان پیسوں سےجو ان کا سو فیصد جائز حق ہے اپنی ناگزیر گھریلو ضروریات پوری کرنی ہوتی ہیں۔ کسی نے گھر بنانا ہے، کسی نے بیٹی یا بیٹے کی شادی کرنی ہے، یا اسی بچت کے ذریعے باقی ماندہ زندگی گزارنی ہے۔ اب یہ لوگ ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں اور جھولیاں اٹھا اٹھا کر حکومت کو بددعائیں دے رہے ہیں۔مانا کہ الیکشن میں کامیابی کا فیصلہ ووٹوں سے نہیں ہوتا، لیکن یہ فاش غلطی اپنا رنگ ضرور دکھائے گی۔ اگر کچھ کرنا ہی تھا تو نئے بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کے حوالے سے کر لیا جاتا (ویسے وہ بھی مناسب نہیں)ایک اشتہار دیکھ کر شرم آئی کہ اب ایم بی بی ایس ڈاکٹر فی گھنٹہ کے حساب سے معاوضے پر کام کریں گے۔
دوسری جانب بیوروکریسی ہے جس کے افسروں کی جائیدادیں اندرونِ ملک ہی نہیں، بیرونِ ملک تک پھیلی ہوئی ہیں۔تینوں مسلح افواج کا نام نہاد باس وزیرِ دفاع اس میگا کرپشن پر چیختا پھر رہا ہے، لیکن کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ چین کے سوا ہماری کوئی سرحد محفوظ نہیں، اس لیے مسلح افواج کے اخراجات تو سمجھ میں آتے ہیں، لیکن پیرا ملٹری فورسز اور پولیس وغیرہ پر بھی بے تحاشا خرچ کیا جا رہا ہے۔ہارڈ سٹیٹ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سب کو کنگال کر کے اور ان کے جائز مالی حقوق کچل کر ان کی رقم کہیں اور خرچ کی جائے۔ ریاست اور عوام پر اتنا ہی بوجھ ڈالنا چاہیے جتنا وہ برداشت کر سکیں۔
پتا نہیں کون ہے جو حکومتوں سے نئے محکمے اور ٹاسک فورسز ( پیر ا وغیرہ وغیرہ ) بنوا رہا ہے۔ جب مقابلے ہی کرنے ہیں تو پھر تھانوں والی پولیس کے ہوتے ہوئے سی سی ڈی اور سی ٹی ڈی کھڑے کرنے کی کیا ضرورت ہے؟خود ہماری صحافی کمیونٹی میں ایل ڈی اے جیسا ادارہ ہوتے ہوئے پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن بنا دی گئی، جو صحافیوں کے رہائشی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، الٹا بوجھ بنی ہوئی ہے، اور پتا نہیں کہاں سے ہدایات لیتی ہے۔سانحہ بھاٹی گیٹ کا غیر انسانی پہلو یہ بھی ہے کہ پولیس نے متوفیہ خاتون کے شوہر کو اس وقت دبوچ لیا جب وہ مدد حاصل کرنے لے ہر کسی کی منتیں کررہا تھا ، اسے تھانے لے جاکر تشدد کا نشانہ بنایا اور مجبور کیا کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کا قتل تسلیم کرے۔ وہ تو خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ پہلے خاتون اور اگلے دن اس کی بچی کی لاشیں مل گئیں۔ اگر نہ ملتیں تو شوہر کسی ویران مقام پر اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے اپنے لاپتہ گھر والوں کے پاس بھی پہنچایا جا سکتا تھا۔
اسے بدقسمت شوہر کی خوش قسمتی ہی کہا جائے گا
اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستانیوں پر رحم فرمائے۔ آمین۔