پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمہ صحت نے صوبے بھر کے سرکاری تدریسی ہسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے 450 ڈاکٹروں کو عارضی طور پر تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جن میں مرد و خواتین میڈیکل افسران کے علاوہ 25 سینئر رجسٹرارز اور کنسلٹنٹس شامل ہیں۔
محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری اسکیم کے تحت سینئر رجسٹرارز اور کنسلٹنٹس کو آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی مکمل کرنے پر 10 ہزار روپے، جبکہ میڈیکل افسران و خواتین میڈیکل افسران کو 8 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے گا۔
یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا ہے جب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) نے سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا۔ محکمہ صحت نے یہ بھرتیاں اس لیے کیں، تاکہ آؤٹ پیشنٹ (او پی ڈی) اور ان ڈور سروسز کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) لاہور نے ان بھرتیوں کے لیے رجسٹریشن کا عمل صرف ایک ہفتے میں مکمل کیا اور اب تک تقریباً ساڑھے چار ہزار امیدواروں کو رجسٹر کر چکی ہے۔ ان میں کنسلٹنٹس، میڈیکل افسران اور خواتین میڈیکل افسران شامل ہیں۔ رجسٹریشن کے دوران امیدواروں کو یہ اختیار بھی دیا گیا تھا کہ، وہ اپنی تعیناتی کے لیے مطلوبہ ضلع خود منتخب کر سکیں۔
ایک سرکاری افسر نے اس غیر متوقع ردعمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، یہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ، پنجاب میں بڑی تعداد میں قابل اور تجربہ کار ڈاکٹر بے روزگار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، دنیا کے دیگر ممالک، جیسے امریکہ، برطانیہ اور خلیجی ریاستوں میں بھی ہسپتالوں کی وقتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسی نوعیت کی عارضی تقرریاں کی جاتی ہیں، تاہم انہیں مستقل روزگار تصور نہیں کیا جاتا۔
محکمہ صحت پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق، مجاز اتھارٹی نے ان عارضی تقرریوں کی منظوری دے دی ہے اور یو ایچ ایس کو اہل ڈاکٹروں کے انتخاب اور تعیناتی کا مکمل اختیار دے دیا ہے۔ ان ڈاکٹروں کو ایک ماہ کے لیے بھرتی کیا گیا ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی دی جا سکتی ہے، اور ان کی حاضری ڈیجیٹل ایپ یا ڈیوائس کے ذریعے لگائی جائے گی۔
اسی دوران، صوبے بھر میں نرسنگ اسٹاف کی عارضی بنیادوں پر بھرتی بھی جاری ہے اور صرف دو دنوں میں 150 نرسوں نے رجسٹریشن کروا لی ہے۔