سمارٹ ٹائم مینجمنٹ: چند ٹِپس

ٹائم مینجمنٹ اور سمارٹ ٹائم مینجمنٹ ایسا موضوع ہے جس پر پوری سیریز لکھنے کی ضرورت پڑی، اسی وجہ سے مختلف حصوں میں یہ کالم آ رہے ہیں۔ پچھلے کالم میں ہم نے ویثوالائزیشن (visualization) کی بات کی کہ وہ کیا ہے اور اس کے کیا فوائد ہیں۔

آج ہم بات کریں گے اپنا پلان لکھنے پہ۔

لکھنے کی اہمیت یہ ہے کہ ہماری قسمت لوح محفوظ میں ” لکھی ” ہوئی ہے، خدا تعالیٰ نے قسمت کو لکھا اور جو لکھا وہ ہو کے رہے گا۔

اس لیے آپ اپنی زندگی کے سب چھوٹے بڑے پلان لکھ لیں ،ہم جو لکھ لیتے ہیں وہ پورا ہو جاتا ہے۔

روزمرہ کے کاموں کے لیے بھی To-do لسٹ بنائیں۔ بازار جائیں تو گروسروی سے لے کے ہر چیز جو خریدنی ہے یا دیکھنی ہے اسے لکھ لیں اور کچھ نہیں تو موبائل میں لکھ لیں۔ کسی کی دعوت ہے تو مینیو اور اہم اہم کام لکھ لیں۔

ہفتہ بھر کیا پکے گا ،مینیو لکھ لیں، سارا ہفتہ سوچنے سے جان چھٹی۔ کل کے دن آپ کو کون کون سے ضروری کام نمٹانے ہیں، لکھ لیں۔

اب جب آپ کاموں کو لکھ لیتے ہیں تو ان کو ترتیب دینا آسان ہوتا ہے کہ، پہلے کیا کرنا ہے اور بعد میں کیا۔

اپنے ہفتہ وار ٹارگٹ لکھیں۔
سال کے ٹارگٹ لکھیں۔
اور روز مرہ کے کام لکھیں۔

اس سب کے بعد عمل کا مرحلہ بالکل آسان ہو جائے گا اور وقت کی بچت ہو گی۔

ٹائم ٹیبل
ٹائم مینجمنٹ کا ایک اور سب سے اہم جز ٹائم ٹیبل کا بنانا ہے اپنے گھر میں سونے جاگنے کھانے پینے، پڑھنے اور آنے جانے کی پراپر روٹین سیٹ کریں۔ ٹائم ٹیبل کے تحت زندگی گزاریں۔ خود بھی پابند رہیں، گھر کے تمام افراد کو بھی پابند رکھیں۔

یہ نہیں کہ، کبھی بھی سو گئے، کبھی بھی اٹھ گئے، کبھی بھی کہیں بھی بیٹھ کے کھا لیا، کبھی بھی اٹھے ،کہیں بھی چلے گئے، جب دل کیا پڑھ لیا، نا کیا نا پڑھا۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔

اپنی زندگی میں کچھ اصول سیٹ کریں، ضوابط بنائیں، ٹائم ٹیبل بنائیں۔ اپنا اور بچوں کا سونے جاگنے کا ٹائم سیٹ کریں، اسی ٹائم پہ بچوں کو سلا دیں اور ٹائم پہ جگائیں۔

اسی طرح ایک ہی بار کھانا میز یا دسترخوان پہ لگائیں ۔سب افراد ایک ہی جگہ بیٹھ کے ایک ہی وقت میں کھانا کھائیں۔ پانچ سال کے بچے سے لے کے ہر فرد کو عادت ڈالیں۔ کھانے کے بعد اپنی پلیٹ سنک میں رکھے ۔اس کے بعد دسترخوان بڑھائیں کام ختم۔ اسی طرح کھانا پکانے اور چائے بنانے کا بھی مخصوص ٹائم ہو، اس میں کھانا پکائیں، چائے بنائیں۔

جن گھروں میں کھانے پینے میں میں بے ترتیبی ہوتی ہے ،سب کے منہ الگ ہوتے ہیں۔ سب اپنے اپنے کھانے اپنے اپنے کمروں میں جا کے کھاتے ہیں اور برتن وہیں چھوڑ دیتے ہیں ۔ایسے گھرانوں میں کام کبھی ختم نہیں ہوتے۔ بچے کو فیڈر دیں تو اسے بھی کہیں ختم کرے اور کچن میں سنک پہ رکھ کے آئے، وہ یہ کر سکتا ہے۔

ہمارے یہاں اکثر ماوں نے بچوں کو سپون فیڈنگ کر کر کے اپنے کام خود بڑھائے ہوئے ہیں۔ جتنی جلد ممکن ہو بچوں کو اس قابل کریں کہ، وہ اپنے کام خود کریں، اپنی زمہ داریاں خود اٹھائیں۔ جب آپ ایک شیڈیول اور ٹائم ٹیبل کے تحت زندگی گزاریں گے تو وقت خود بچے گا۔
اگر آپ کے شوہر کی روٹین الگ ہے تو ان کی روٹین پہ اپنی اور بچوں کی روٹین سیٹ مت کریں، خاص طور سے بچوں کی۔ ان کو انہی کے حساب سے وقت پہ سلائیں۔ ہمارے یہاں کچھ آدمیوں کی مجبوری ہوتی ہے۔ شام کی شفٹس ہیں کام کی اور وہ دیر سے سوتے ہیں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ، بچے بھی رات دیر تک جاگتے رہیں۔ انہیں تو صبح اٹھ کے سکول کالج جانا ہے۔

اس کے علاوہ ملنے ملانے اور مہمان داریوں اور مہمان نوازیوں کے لیے ویک اینڈز رکھیں۔ اپنی استطاعت کے مطابق، مہمان نوازی کریں اور غیر ضروری دباو ہرگز نا لیں۔

یقین کریں، جب ہم اصولوں پہ سختی سے کاربند ہوتے ہیں تو آہستہ آہستہ لوگوں کو بھی سمجھ آجاتی ہے کہ، ہمارے ساتھ کیسے رہنا ہے۔

(جویریہ ساجد کا تعلق رحیم یار کے ایک معروف علمی گھرانے سے ہے . انہوں نے اکنامکس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اسلامیہ یونیورسٹی میں پڑھاتی بھی رہی ہیں۔ وہ معروف لکھاری، بلاگر اور ولاگر ہیں ۔جویریہ ساجد اپنے موضوع پر پوری ریسرچ کر کے قلم اٹھاتی ہیں، اسی وجہ سے سوشل میڈیا فورمز پر ان کی تحریروں کو بھرپور عوامی پزیرائی ملتی ہے۔)

اپنا تبصرہ لکھیں