روس نے ایک نئی دوا تیار کی ہے جو کینسر جیسے خطرناک مرض کے علاج کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس دوا کا نام "انٹرو مکس” ہے۔
روسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کے انسانوں پر تجربے شروع کرنے سے پہلے جو جانچ کی گئی ہے، وہ کامیاب رہی ہے۔
ان جانچوں سے معلوم ہوا کہ یہ دوا مختلف قسم کے کینسر میں 60 سے 80 فیصد تک پھولی ہوئی گانٹھوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔
یہ بات روس کے طبی ادارے کی سربراہ نے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دوا اب تیار ہے، لیکن عام مریضوں کو دینے سے پہلے حکومت کی منظوری ضروری ہے ۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دوا پر تین برس تک مسلسل تحقیق اور جانوروں پر تجربات کیے گئے، جن کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔
اس دوا کو سب سے پہلے آنتوں کے کینسر کے مریضوں کے لیے تیار کیا گیا ہے، مگر سائنسدانوں کی ایک ٹیم اس پر مزید کام کر رہی ہے تاکہ اسے دماغ کے خطرناک کینسر اور جلد یا آنکھوں میں ہونے والے نایاب کینسر کے لیے بھی مؤثر بنایا جا سکے۔
کچھ خبروں میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ دوا مکمل کامیابی کے ساتھ مرض کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اس بارے میں کچھ عالمی ادارے تصدیق نہیں کر سکے۔ اس لیے فی الحال محتاط رہنا ضروری ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ دوا عام لوگوں کو کب دستیاب ہوگی، کیونکہ اس کے لیے انسانوں پر آزمائش کا عمل باقی ہے، جو حکومت کی اجازت کے بعد ہی شروع ہو سکے گا۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دوا اگر مکمل کامیاب ہو گئی تو یہ دنیا بھر کے کروڑوں کینسر کے مریضوں کے لیے ایک نئی امید ثابت ہو سکتی ہے۔