پاکستان کے معروف سابق کرکٹر راشد لطیف اپنے دور میں میچ فکسنگ اور فینسی فکسنگ کے خلاف آواز آٹھانے کی وجہ سے مشہور ہوئے تھے۔ راشد لطیف اور باسط علی نے تب ٹیم میں ایسے بعض فکسنگ واقعات کی وجہ سےاحتجاجاً ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ دو ہزار تین کے ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی بری کارکردگی کے بعد کئی سینئر کھلاڑیوں جیسے وقار یونس، وسیم اکرم، سعید انور، ثقلین مشتاق وغیرہ کو ریٹائر ہونے پر مجبور کر دیا گیا تھا، تب راشد لطیف کی ٹیم میں واپسی ہوگئی اور انہیں ٹیم کا کپتان بنایا گیا تھا، تاہم کچھ ہی عرصے کے بعد انضمام الحق کو بھی ٹیم میں شامل کر لیا گیا اور انہیں کپتان بنا دیا گیا ، تب راشد لطیف میچ ریفری کی طرف سے عائد کردہ چند میچز کے بین کی وجہ سے باہر ہوگئے تھے، بعد میں اگلے چار سال انضمام ہی کپتان رہے ، حتیٰ کہ دو ہزار سات کے ورلڈ کپ میں پاکستان ہار گیا اور انضمام بھی ریٹائر ہوگئے۔
اب راشد لطیف نے اعلان کیا ہے کہ وہ کتاب لکھ رہے ہیں جس میں وہ میچ فکسنگ کے تمام کرداروں اور ان تمام واقعات سے پردہ اٹھائیں گے۔
راشد لطیف نے اپنی کتاب میں بڑے انکشافات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سب بتاؤں گا فکسنگ کیسے ہوتی تھی؟ کون کرتا تھا؟
ان کا کہنا تھا کہ 90 کے دور کی کرکٹ میں کیا کیا ہوتا رہا؟ یہ بھی بتاؤں گا اور یہ بھی بتاؤں گا کہ صدارتی معافی نامے کی درخواست کس سابق کپتان نے جمع کروائی تھی؟