پاکستان کے صوبہ، پنجاب کے ضلع، رحیم یار خان میں واقع شیخانی پولیس پوسٹ پر ڈاکوؤں کے ایک بڑے حملے میں ایلیٹ فورس کے پانچ اہلکار جان کی بازی ہار گئے، جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک ہو گیاہے۔
پولیس کے مطابق، حملہ رات کے اندھیرے میں کیا گیا جس میں 40 سے زائد ڈاکو شامل تھے، جنہوں نے خودکار ہتھیاروں، ہینڈ گرینیڈز اور راکٹ لانچرز کا استعمال کیا۔
حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں میں محمد عرفان، محمد سلیم، خلیل احمد، غضنفر عباس اور نخیل حسین شامل ہیں۔ ان کی میتیں شیخ زید ہسپتال منتقل کر دی گئیں جہاں پوسٹ مارٹم جاری ہے۔ اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ’صادق شہید پولیس لائنز‘ میں ادا کی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ، محسن نقوی نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ، پولیس کے بہادر جوانوں نے تاریکی میں کیے گئے بزدلانہ حملے کے خلاف جواں مردی سے لڑائی لڑی اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ وزیر داخلہ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ، کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق، آئی جی پنجاب، ڈاکٹر عثمان انور سینئر افسران کے ہمراہ جائے وقوعہ اور پولیس کیمپوں کا دورہ کریں گے اور شہید اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں بھی شرکت کریں گے۔
رحیم یار خان کا کچہ علاقہ ایک عرصے سے ڈاکوؤں کی پناہ گاہ رہا ہے۔ دریائے سندھ کے ساتھ پھیلے اس علاقے میں دریا کے بدلتے دھارے، گھنے جنگلات، ریتلی زمین، اور ندی نالوں کے درمیان موجود چھوٹے جزیروں نے ڈاکوؤں کو چھپنے اور پولیس کی پہنچ سے دور رہنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ مقامی زمینداروں کے مطابق، یہ علاقہ قدرتی طور پر اتنا پیچیدہ ہے کہ، یہاں تک پہنچنا سادہ فورسز کے لیے نہایت دشوار ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ، پولیس کے لیے یہ اکثر ’نو گو ایریا‘ بن جاتا ہے۔
کچے کے اس خطرناک علاقے میں ڈاکوؤں کا نیٹ ورک ایک طویل عرصے سے فعال ہے، جو مقامی و علاقائی عملداریوں کی پیچیدگیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محدود رسائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔