میں اپنے موضوع کی طرف جانے سے قبل ابوجہل کی باقیات میں سے ایک بندے کی بیہودہ بکواسیات پربات کرنااوراسے جواب دینااپنافرض سمجھتاہوں،جس نے کسی یوٹیوبر کے ساتھ پوڈکاسٹ میں عہد حاضر کے حکمرانوں کی نااہلی کادفاع اور ان کی شان میں قصیدے پڑھتے ہوئے کہاتھا،”خلفائے راشدین نے بھی کسی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی“۔اے جاہل سن! الحمدللہ وہ چاروں ”محمدیہ یونیورسٹی“سے فارغ التحصیل تھے۔چاروں خلفائے راشدین کے ساتھ کسی بھی دور کے حکمران کاموازنہ کرنا حماقت بلکہ جہالت تصورہوگی۔جو نیک بخت اورنیک سیرت صحابی کرامؓ سرورکونین سیّدنا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کی قربت، صحبت،تربیت اورنصیحت سے فیضیاب اورسیراب ہوئے ہوں،ان میں سے کوئی کسی دوسری دنیاوی یونیورسٹی کا محتاج نہیں ہوسکتا۔امام انبیاء،تاجدارانبیاء اورخاتم الانبیاء سیّدنا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم بیشک علم بلکہ علوم کاشہر جبکہ سیّدنا علی المرتضیٰ اسد اللہ رضی اللہ عنہ باب العلم یعنی شہر علم کامرکزی دروازہ تھے۔نظام خلافت میں انسانیت کی خدمت کاہررازپنہاں تھا۔مغرب کانظام جمہوریت انسانوں کیلئے”دوا“ نہیں بلکہ ہر”درد“کاروٹ کاز ہے۔
ہمارے ہاں بدعنوانی سے بھی بڑا بحران حکمران طبقات کی من مانی اور بدانتظامی ہے۔بظاہر منتخب حکمران آئین اور قانون کوروندتے ہوئے شہنشاہوں اورآمروں کی طرح فیصلے کرتے ہیں۔وفاق سے پنجاب تک ارباب اقتدار واختیار نیت، سمت اورصلاحیت تینوں ”اوصاف“ اور”اصناف“سے محروم ہیں۔ناتجربہ کار،شعبدہ بازاورشہرت پسندحکمران اشرافیہ کی بد انتظامی اورہٹ دھرمی سے محکمے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ماضی میں جوکام ایک محکمہ کرتاتھا اب اس کیلئے متعدد محکمے ہیں جبکہ مسلسل ناکامی اوربدنامی کے باوجود ان میں کسی کا محاسبہ نہیں ہوتا۔پرانے محکمے کوبحال اورفعال کرنے کی بجائے راتوں رات نیا محکمہ بنادیاجاتا ہے۔سیاسی بنیادوں پر”بھرتیاں“ اور”پھرتیاں“محکموں کابیڑا غرق کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ہرحکمران اہلیت اورقابلیت کاقتل عام کرتے ہوئے اپنے وفاداروں کوعہدوں اورمراعات سے نواز تے ہوئے مقروض ملک کے وسائل دونوں ہاتھوں سے اجاڑ رہا ہے۔ انتظامی اورادارہ جاتی تنازعات اورتضادات کے نتیجہ میں حادثات وسانحات اورتحریروں کیلئے موضوعات کی بہتات ہے۔راقم نے حالیہ دنوں میں آدم خور بسنت کیخلاف متعدد اورمدلل کالم سپردقرطاس کرتے ہوئے حکمرانوں کو بار بارجھنجوڑا لیکن وہ اپنے ارادوں سے باز نہیں آئے۔جہاں ترجیحات ناقص ہوں وہاں کسی کام کانتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔میں صاف دیکھ سکتا ہوں،حکمرانوں کو جشن بسنت منانے کاخمیازہ بھگتنا پڑے گا۔اللہ نہ کرے اگرپتنگوں کے ساتھ انسانی خون کے چھینٹے بھی اڑے توپھرحکمران زندگی بھر اپنے دامن سے داغ نہیں دھوسکیں گے۔شہرت پسندحکمران اپنے جہازی سائز کے اشتہارات میں جس روشن پنجاب کاڈھول پیٹ رہے تھے، بھاٹی گیٹ میں بدقسمت ماں بیٹی سمیت حکمران جماعت کا بیانیہ بھی مین ہول میں ڈوب گیا۔ تخت لاہور میں مجرمانہ بدانتظامی نے ماں بیٹی کی جان لے لی اورماں کے بازوؤں کی گرفت سے ناحق موت کی آغوش میں جانیوالی شیرخواربیٹی کے غمزدہ باپ کوالٹامقامی ایس ایچ او نے ہتک اور تشدد کانشانہ بنایا۔ اس اندوہناک سانحہ نے پنجاب میں اشتہارات فیم ”ون وومن شو“سمیت سیف سٹی،شہری محکموں اور تھانہ کلچر کوبھی بری طرح ایکسپوز کردیاہے۔ حاملہ ماں اوراس کی دس ماہ کی شیرخواربیٹی کی ناحق اوردردناک موت سے نام نہاد”روشن“ پنجاب کا چہرہ پوری طرح ’’سیاہ“ پڑگیاہے۔
شیرجنگل کاایک بے رحم درندہ ہے،معلوم نہیں مسلم لیگ (ن)کی قیادت نے کیا سوچ کرشیرکواپناانتخابی نشان بنایا تھا۔اگر”شیر“ سے”یہ“ نکل جائے توپیچھے ”شر“ بچتا ہے۔آدم خورشیر بھوکا ہوتوپھر”آٹا“ بھی نہیں چھوڑتا،اس بار تو”شیر“ ایک”شیرخوار“ کونگل گیا۔ایک ماں جوامید سے تھی اوراس کی دس ماہ کی شیرخواربیٹی اس قدردلخراش موت کی مستحق ہرگز نہیں تھیں، ان دونوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظرعام پرآنے سے عوام کادکھ شدیدہوگیا۔اس اندوہناک اورالمناک سانحہ پربھی حکمران سیاست اورشعبدہ بازی سے باز نہیں آئے،پنجاب کی ترش لہجے والی وزیراطلاعات نے شروع میں اس سانحہ کوجھٹلادیابعدازاں سچائی بتاتے ہوئے اپنے جھوٹ پر معذرت کرلی۔وزراء یادرکھیں وزراتیں عارضی ہوتی ہیں اسلئے تکبر نہیں تدبر سے کام لیاکریں۔سانحہ بھاٹی گیٹ کے فوری بعد مخصوص ہدف کے تحت ایک ویڈیو بنائی اورپبلک کی گئی جس میں پنجاب کی خاتون وزیراعلیٰ کو تخت لاہور کے انتظامی عہدیداروں کی سخت لہجے میں سرزنش اوربازپرس کرتے ہوئے دیکھاجاسکتا ہے۔اس قسم کے سٹنٹ سے سیاست میں قدبڑانہیں ہوتا،یادرکھیں ارباب اقتدارواختیار کی شعبدہ بازی انتظامی شعبہ جات کیلئے زہرقاتل ہے۔حادثات اورسانحات کی شفاف تحقیقات کئے اورملزمان کا اپنے دفاع میں موقف سنے بغیرعجلت میں سزا سناناآمرانہ اورمجرمانہ روش ہے۔سانحات کے مرکزی کرداروں کوبچانے کیلئے ماتحت اہلکاروں پرملبہ گرانا بھی سانحہ شمار ہوگا۔
ضروری”منصوبہ بندیوں“ کے بغیر تعمیراتی”منصوبوں“کاآغازیقینی ڈیزاسٹر کاسبب بنتا ہے۔راقم کامشاہدہ ہے ہمارے ہاں دلخراش حادثات اورسانحات کے بعد ارباب اقتدار واختیارہڑبڑا تے ہوئے اِدھر اُدھردوڑ اورقوم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہوتے ہیں۔ہمارے ملک میں سات”دہائیوں“ سے ہرسیلاب اورسانحہ کے بعد آئندہ سیلاب اور سانحہ کاانتظار کیاجاتا ہے،افسوس مصیبت زدگان کی”دوہائیوں“ سے حکمرانوں کی سوچ اور صحت پرکوئی فرق نہیں پڑتا۔واصف علی واصف ؒ نے فرمایا تھا،”بادشاہ کاگناہ،گناہوں کابادشاہ ہوتا ہے“۔ماں بیٹی کی موت کے بعد ایک ”ایف آئی آر“عارضی فرش جبکہ دوسری عرش پر کاٹ دی گئی ہے۔یادرکھیں حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کے نتیجہ میں بیگناہ شہریوں کی دردناک ا موات کے بعد حکمرانوں اوران کے حواریوں کی لفاظی اورشعبدہ بازی ان کے گناہوں کاکفارہ اور متاثرہ خاندانوں کی محرومیوں کامداوانہیں بن سکتی۔سانحہ بھاٹی گیٹ کے بعد حکمران جس طرح جھوٹ کی اوٹ میں چھپ رہے تھے اس سے ان کی اخلاقی پوزیشن مزیدبدتر ہوگئی ہے۔اگرداتادربار کے مقابل ہونیوالی تعمیرات کے سلسلہ میں بروقت اورسخت حفاظتی تدابیر اختیار کی جاتیں توایک حاملہ ماں اوراس کی شیرخواربیٹی آج زندہ ہوتیں۔پنجاب حکومت بتائے اس بدقسمت حاملہ ماں اوراس کی معصوم بیٹی کاکیاگناہ تھا،انہیں اس قدردلخراش موت کیوں ملی۔تین زندگیوں کے ضیاع کاحساب کون دے گا۔انتظامی محکمے اندوہناک حادثات اورسانحات کاملبہ ایک دوسرے پرگرا تے ہیں،یہ ان کاپراناوتیرہ ہے۔محکموں کی طرف سے ایک دوسرے کی حدود اوردوسروں کے اختیارات میں بیجامداخلت عام ہے۔
ہمارابلوچستان اورخیبرپختوانخوا دہشت گردی کی”زد“ جبکہ پنجاب بسنت کی ”ضد“میں ہے۔ایک طرف بلوچستان میں خوارج کوواصل جہنم کر تے اورفرض کی بجاآوری کے دوران دادِشجاعت دیتے ہوئے جام شہادت نوش کرنیوالے ہمارے محبوب فوجی جوانوں اوربھاٹی گیٹ کے مقام پر مین ہول میں ڈوب کرشہیدہونیوالی ماں بیٹی کے جنازے اٹھ رہے ہیں جبکہ تخت لاہورمیں سہ روزہ جشن بسنت منایاجارہا ہے۔ وزیراعلیٰ کے ہوم ٹاؤن بلکہ ان کی ہوم گراؤنڈمیں ماں سمیت شیرخوار بیٹی کی دلخراش موت نے ”اشتہاری“ ترقی کو بری طرح ایکسپوز اورزمین بوس کردیا ہے۔سانحہ بھاٹی گیٹ کو”تعمیر“ کی بجائے”تشہیر“ کاشاخسانہ کہنا بیجا نہیں ہوگا۔سانحہ بھاٹی گیٹ کے بعد اس ایشوپروزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے لاہور کے اعلیٰ سطحی انتظامی آفیسرز کی بازپرس کرنیوالی آڈیو اور ویڈیو بھی محض ایک میڈیاسٹنٹ اور سلف پروجیکشن مہم کاحصہ تھی۔اس ویڈیو کی مدد سے وزیراعلیٰ پنجاب کوطاقتورمنتظم اعلیٰ، عوام کاسچاہمدرد اورہیروبنانے کی ناکام کوشش کی گئی۔میں اپنی اس ناقص تحریر میں امیرالمومنین حضرت عمرفاروق ؓ سے منسوب دوباتیں کوٹ کررہا ہوں،ایک بار انہوں نے فرمایاتھا”اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا پیاس سے مرگیا توڈر ہے مجھ سے پوچھاجائے گا“جبکہ دوسر ی مرتبہ ان کاکہنا تھا،”اگر کسی دشت میں کوئی خچرناہموار راستہ سے پریشان ہوا تومجھے ڈر ہے اللہ تعالیٰ روز محشر مجھ سے بازپرس فرمائے گا“، ان کے مذکورہ دونوں فرمودات ہرعہد کے حکمرانوں کیلئے ایک ضابطہ اخلاق اورکامیابی کاروڈ میپ ہیں۔فاروق اعظمؓ نے بدانتظامی کی صورت میں اپنے کسی گورنر یا ریاستی اہلکار کوانصاف کے کٹہرے میں کھڑاکرنے کااشارہ نہیں دیا بلکہ خود کوقابل احتساب ٹھہرایاتھا۔مہذب ملکوں میں حادثات اورسانحات رونماہونے کی صورت میں حکمران یاوزیراپنی توپوں کارخ سرکاری اہلکاروں کی طرف نہیں موڑتے بلکہ اپنابوجھ اپنے کندھوں پراٹھاتے ہوئے مستعفی ہوجاتے ہیں۔ سانحہ بھاٹی گیٹ کے سلسلہ میں بھی ہمیشہ کی طرح مرکزی کردارکوبچانے کیلئے ماتحت اہلکاروں پرملبہ گرادیا گیاہے۔میں سمجھتا ہوں مین ہول میں گرنے سے ماں بیٹی کی موت حادثہ نہیں بلکہ قتل عمد ہے لہٰذاء مہمان اداکاروں کی بجائے مرکزی مجرمان کوتختہ دار پرلٹکایاجائے۔ اب بھی وقت ہے حکمران اشتہارات نہیں درست اوردوررس اصلاحات پرفوکس جبکہ دستیاب وسائل عام آدمی کی ویلفیئر پرصرف کریں۔ حکمران اپنے جہازی سائز کے اشتہارات میں اپنی”واہ واہ“ لیکن مصیبتوں کے مارے عوام”آہ آہ“ کررہے ہیں۔جوحکمران مسلسل اشتہارات کی زینت بن رہے ہیں،انہیں ”ماڈل“ اور”رول ماڈل“ میں فرق سمجھناہوگا۔