قومی پولیو پروگرام کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ، ملک کے 21 اضلاع سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں انسداد پولیو کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے ملک کے 30 اضلاع سے جمع کیے گئے 38 سیوریج نمونوں کی جانچ کی۔ ان میں سے لورالائی، کوئٹہ، ژوب، اسلام آباد، ایبٹ آباد، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، ٹانک، شمالی وزیرستان، لاہور، راولپنڈی، بدین، جامشورو، حیدرآباد، کشمور، کراچی شرقی، ملیر، کورنگی، کراچی جنوبی اور سکھر سے حاصل کردہ نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 (WPV1) کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
دوسری جانب، نوشکی، سبی، چارسدہ، لوئر دیر، مانسہرہ، سوات، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور راجن پور سے لیے گئے نمونوں کی رپورٹس منفی آئی ہیں۔
رواں سال ملک میں پولیو وائرس کے اب تک 8 کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں گزشتہ مہینے تین دن کے دوران دو کیسز بھی رپورٹ ہوئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ، ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات برقرار ہیں کیونکہ ہائی ٹرانسمیشن سیزن کا آغاز ہو چکا ہے، اور یہ وائرس گرم موسم میں زیادہ فعال ہو جاتا ہے۔
پولیو پروگرام کے ایک عہدیدار کے مطابق، بچوں کو فالج جیسے مہلک پولیو سے بچانے اور وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی مہم جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ، ستمبر 2024 کے بعد سے ملک بھر میں اعلیٰ معیار کی پولیو مہمات کی بدولت وائرس کے کیسز میں واضح کمی آئی ہے۔
آئندہ انسداد پولیو مہم 26 مئی سے یکم جون تک ملک بھر میں شروع کی جائے گی، جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا4 کروڑ 54 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔