پیکا ایکٹ کالا قانون

23 جنوری 2025 کو وفاقی وزیر عطا تارڑ نے بڑے اعتماد سے کہا کہ پیکا ایکٹ کا مقصد صحافیوں کی آواز دبانا ہرگز نہیں ہے۔ ان کے بقول یہ قانون پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے ورکنگ جرنلسٹ کے لیے نہیں بلکہ محض ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو قابو میں لانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس ایکٹ کی دفعات میں کہیں نہیں لکھا کہ صحافیوں کو ہدف بنایا جائے گا۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قانون جس طرح نافذ کیا گیا اور جس طرح استعمال ہو رہا ہے، اس نے واضح کر دیا ہے کہ اصل نشانہ اختلافی آوازیں اور صحافی ہی ہیں۔

پیکا ایکٹ پہلی بار 2016 میں متعارف کرایا گیا۔ اس وقت حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانون انٹرنیٹ پر بڑھتے ہوئے فراڈ، ہیکنگ، ڈیٹا چوری اور دہشت گردوں کی آن لائن سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ہے۔ لیکن ابتدا ہی میں ماہرین قانون اور صحافتی تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ اس قانون کی زبان مبہم اور دفعات سخت ہیں، جنہیں طاقتور حلقے آزادیٔ اظہار دبانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ حکومت نے یہ اعتراضات رد کر دیے اور اسے سائبر کرائم کے انسداد کا ہتھیار قرار دیا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ قانون اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر تنقیدی آوازوں کو خاموش کرانے کا ذریعہ بن گیا۔

اس ایکٹ کی سب سے زیادہ متنازع شق وہ ہے جس کے تحت ’’کسی شخص یا ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے‘‘ پر مقدمہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ جملہ اتنا غیر واضح ہے کہ کسی بھی خبر، کالم یا تجزیے کو اس کی زد میں لایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کے تحت ہونے والی زیادہ تر کارروائیاں صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے خلاف ہوئیں۔ عدالتوں میں پیش کیے گئے کیسز کی نوعیت دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اصل ہدف وہی لوگ تھے جنہوں نے طاقتور اداروں یا حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی۔

پاکستان میں صحافی پہلے ہی طرح طرح کے دباؤ کا شکار ہیں۔ کبھی اشتہارات کی بندش، کبھی ہراسانی، کبھی تشدد اور کبھی جان سے مارنے کی دھمکیاں۔ اب پیکا ایکٹ نے ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ یہ قانون آزادیٔ صحافت پر کاری ضرب ثابت ہو رہا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سمیت کئی انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ پیکا ایکٹ بنیادی آزادیوں سے متصادم ہے اور اس پر نظرثانی ناگزیر ہے۔

یہ معاملہ صرف صحافیوں تک محدود نہیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کر سکے۔ لیکن پیکا ایکٹ نے عام لوگوں کو بھی خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر کسی حکومتی شخصیت یا ادارے پر تنقید کی تو وہ بھی مقدمات کے جال میں پھنس سکتے ہیں۔ یہ صورتحال جمہوری اقدار کی نفی اور آمریت کی یاد تازہ کرتی ہے۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 19 اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ یہ آزادی قانون اور اخلاقیات کی حدود کے اندر ہوگی۔ لیکن پیکا ایکٹ نے ان حدود کو اتنا سخت اور مبہم بنا دیا ہے کہ آزادیٔ اظہار محض کتابی بات رہ گئی ہے۔ جمہوری نظام میں اختلافی آوازیں برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے، لیکن جب ان آوازوں کو دبانے کے لیے کالے قوانین بنائے جائیں تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ جبر اور آمریت کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

یقیناً فیک نیوز ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کے خلاف اقدامات ناگزیر ہیں۔ لیکن فیک نیوز کے نام پر صحافت کو قربان کرنا کسی طور درست نہیں۔ حکمران طبقہ ایک جانب دعویٰ کرتا ہے کہ یہ قانون صرف جھوٹی خبروں کے خلاف ہے، دوسری جانب وہ سچ بولنے والوں کو بھی نشانہ بناتا ہے۔ یہ تضاد ہی پیکا ایکٹ کو کالا قانون ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

میری حکومتِ پاکستان سے اپیل ہے کہ پیکا ایکٹ پر فوری نظرثانی کی جائے۔ اس کی وہ تمام دفعات ختم کی جائیں جو آزادیٔ اظہار کو محدود کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ اس قانون کو صرف سائبر فراڈ، ہیکنگ اور دہشت گردی جیسے حقیقی مسائل تک محدود رکھا جائے۔ صحافیوں اور عوامی نمائندوں کو اختلافی رائے دینے پر سزا دینا جمہوریت نہیں، جبر ہے۔

عطا تارڑ اور دیگر حکومتی نمائندے چاہے لاکھ وضاحتیں دیتے رہیں، مگر عوام بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قانون ان کی آواز دبانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ تاریخ لکھے گی کہ پاکستان میں جمہوریت کے نعرے تو بلند ہوئے لیکن عوامی حقوق پر سب سے بڑے حملے انہی کالے قوانین نے کیے۔ اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں جمہوری ریاست بنانا ہے تو ایسے قوانین کو ختم کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی خلیج مزید گہری ہوتی چلی جائے گی۔

پیکا ایکٹ کے تحت کئی نمایاں مقدمات سامنے آئے جنہوں نے اس قانون کی اصل حقیقت عیاں کر دی۔ سابق چیئرمین پیمرا اور معروف صحافی ابصار عالم پر محض سوشل میڈیا پر رائے دینے پر مقدمہ درج کیا گیا، بعدازاں عدالت نے اسے آزادیٔ اظہار کے منافی قرار دیا۔ اسلام آباد کے صحافی اسد علی طور کو یوٹیوب اور ٹوئٹر پر تنقید کرنے پر پیکا کا سامنا کرنا پڑا۔

کالم نگار بلال غوری کے خلاف حکومتی پالیسیوں پر لکھنے پر کارروائی کی گئی۔ سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کو بھی ایک کالم پر ہراساں کیا گیا۔ یہاں تک کہ عام شہری بھی محفوظ نہ رہے۔ پنجاب اور سندھ میں فیس بک پوسٹس اور ٹوئٹس پر متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ پیکا ایکٹ کا اصل ہدف اختلافی آوازیں اور ورکنگ جرنلسٹ ہی بنے��

Author

اپنا تبصرہ لکھیں