ریاض میں ہونے والا “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ” پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا باب ہے۔ یہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی وحدت اور خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان، جو دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت ہے، اور سعودی عرب، جو عالمِ اسلام کا روحانی و معاشی مرکز ہے، جب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں تو یہ اتحاد محض دو ریاستوں کا نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کی امید بن جاتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یوں پاکستان کی عسکری قوت اور سعودی عرب کی مالی و سیاسی حیثیت مل کر ایک ایسا دفاعی حصار تشکیل دے رہی ہیں جو دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے امن و استحکام کا ضامن بن سکتا ہے۔
یہ کہنا بجا ہے کہ سعودی عرب کو اس معاہدے سے فوری اور نمایاں فائدہ ہوگا کیونکہ اسے ایک ایٹمی طاقت کا عملی تعاون حاصل ہوگیا ہے، مگر پاکستان بھی کسی طور پیچھے نہیں۔ پاکستان کو اس معاہدے کے نتیجے میں سفارتی وقار، معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے راستے میسر آئیں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ میں شریک ہو کر وہ اعزاز حاصل ہوگا جو دنیا کی کسی اور فوج کے حصے میں نہیں آیا۔ یہ دراصل پاکستان کے مقام و مرتبے کا اعتراف ہے۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ آیا سعودی عرب نے یہ معاہدہ اسرائیل کے خوف سے کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور بھارت کی بڑھتی ہوئی قربت اور مسلم دنیا پر ان کے اثر و رسوخ کے منصوبے ایک حقیقت ہیں۔ بھارت اور اسرائیل دونوں پاکستان کو اپنا سب سے بڑا رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ ایسے میں سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ان دونوں کے عزائم کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن اب ان کے حق میں نہیں رہے گا۔
اس تناظر میں مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اس جنگ نے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ پاکستان ایک طاقتور ملک ہے، جو نہ صرف اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ دشمن کو بھرپور جواب دینے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے عرب ممالک کو پاکستان کی طرف جھکنے پر مجبور کیا۔ انہیں اب احساس ہوا ہے کہ خطے میں حقیقی طاقت کا مرکز پاکستان ہے اور اس کے بغیر اپنی سلامتی کا تصور ممکن نہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کی یہ شراکت داری اس بات کا اعلان ہے کہ امتِ مسلمہ کے مسائل اب مغرب کی طاقتوں کے رحم و کرم پر نہیں رہیں گے۔ جب پاکستان جیسی عسکری قوت اور سعودی عرب جیسی معاشی طاقت ایک دوسرے کی پشت پر کھڑی ہوں تو دنیا کے کسی ملک کے لیے ان کی سلامتی کو چیلنج کرنا آسان نہیں ہوگا۔یہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔ یہ قدم پاکستان کے وقار کو نئی بلندیوں تک لے گیا ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کو نہ صرف خلیج بلکہ پوری مسلم دنیا کی سلامتی کے معمار کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
آج اگر کوئی پوچھے کہ اس معاہدے کا اصل فاتح کون ہے تو جواب ایک ہی ہوگا: پاکستان۔ کیونکہ پاکستان نے اپنی عسکری قوت، اپنے ایٹمی وقار اور اپنی اصولی پالیسی کے ذریعے امتِ مسلمہ کو وہ سہارا دیا ہے جس کی اسے صدیوں سے تلاش تھی۔