پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت ،جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ ،مولانا فضل الرحمٰن اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے لاہور میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ، فلسطین کی صورتحال امت مسلمہ کے لیے نہایت تشویشناک ہے، اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا کہ، 27 اپریل کو مینار پاکستان پر ایک عظیم الشان جلسہ اور مظاہرہ ہوگا، جس میں مختلف مذہبی جماعتیں شرکت کریں گی اور فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ،مجلس اتحاد امت کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا جارہا ہے، جس کے تحت یہ اجتماع منعقد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ، فلسطین کے معاملے پر امت مسلمہ کا مشترکہ اور واضح مؤقف ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے، اور یہی امت کی کمزوری ہے۔ انہوں نے مسلم حکمرانوں سے گلہ کیا کہ، وہ اپنا اصل فرض ادا نہیں کررہے۔
علاقائی خودمختاری کے سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے واضح کیا کہ، جے یو آئی کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ، ہر صوبے کے وسائل اس صوبے کے عوام کی ملکیت ہیں اور آئین بھی اسی کی ضمانت دیتا ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، حکومت کو 56 میں سے 34 شقوں سے دستبردار ہونا پڑا، جو ہمارے اختلاف کا نتیجہ تھا۔
اس موقع پر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ، اس وقت امت مسلمہ کا سب سے اہم مسئلہ فلسطین اور غزہ ہے، جہاں اسرائیل امریکی سرپرستی میں مظالم ڈھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ، تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ، وہ مظلوموں کا ساتھ دیں اور ظالموں کی کھل کر مذمت کریں، خواہ وہ امریکا ہو یا اسرائیل۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ، ملک میں آئین اور جمہوریت کی بالادستی سب کو قبول کرنی چاہیے اور تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ 26 ویں آئینی ترمیم پر جماعت اسلامی کا مؤقف بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، جماعت نے اس ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے اور اپنے پلیٹ فارم سے جدوجہد جاری رکھے گی۔
الیکشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ، جماعت اسلامی کا مؤقف کچھ مختلف ہے۔ اگرچہ جے یو آئی کی طرح ہم بھی انتخابات میں دھاندلی کے مؤقف سے متفق ہیں، مگر ہم فوری نئے الیکشن کا مطالبہ نہیں کررہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ، ایک بااختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جو فارم 45 کی بنیاد پر شفاف تحقیقات کرے۔