پاکستان اور قازقستان کے تعلقات میں ایک نئی تازگی محسوس کی جا رہی ہے۔ اسلام آباد میں قازقستان کے نائب وزیر اعظم مرات نورٹلو کی آمد کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا دو روزہ دورہ محض رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس دوران پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ مختلف معاہدوں پر دستخط ہوئے اور وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی اہم گفتگو ہوئی۔ ان ملاقاتوں نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ دونوں ممالک مستقبل کو سامنے رکھ کر ایک جامع شراکت داری کی بنیاد ڈالنا چاہتے ہیں۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ پاکستان اور قازقستان نے دو طرفہ تعاون کی بات کی ہو، مگر اس بار جو بات اسے نمایاں کرتی ہے وہ ہے ایکشن پلان پر اتفاق۔ اس پلان میں معیشت، تجارت، دفاع، توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت، سیاحت اور انسانی وسائل جیسے مختلف شعبوں میں عملی تعاون کا خاکہ شامل ہے۔ گویا اب تعلقات محض بیانات یا خوش آئند خواہشات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معاہدوں اور منصوبوں کی شکل اختیار کریں گے۔مرات نورٹلو کا یہ دورہ پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے اہمیت رکھتا ہے۔ ایک تو یہ کہ تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد اعلیٰ سطحی روابط کو نئی جہت ملی ہے۔ دوسرا یہ کہ وسطی ایشیا کے بدلتے ہوئے حالات میں قازقستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے، جو اپنی جغرافیائی پوزیشن اور قدرتی وسائل کی وجہ سے پاکستان کے لیے ایک قیمتی شراکت دار بن سکتا ہے۔ پاکستان اگر قازقستان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرتا ہے تو اسے نہ صرف وسطی ایشیا تک رسائی مل سکتی ہے بلکہ سی پیک جیسے منصوبوں کو بھی وسعت دی جا سکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی ہوگی کہ عالمی طاقتیں وسطی ایشیا پر اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے قازقستان جیسے ملک کے ساتھ تعلقات محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت ہیں۔ تعلیم، توانائی اور سیاحت کے میدانوں میں تعاون سے دونوں ممالک کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ تجارتی روابط سرمایہ کاری کے نئے در وا کر سکتے ہیں۔
بیشک، معاہدے کاغذوں پر دستخط کے ساتھ زندہ نہیں رہتے بلکہ انہیں عملی شکل دینے کے لیے تسلسل اور سنجیدگی درکار ہوتی ہے۔ پاکستان اور قازقستان دونوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مستقبل کے چیلنجز اور مواقع یکساں ہیں، اس لیے مشترکہ اقدامات ہی دیرپا نتائج دے سکتے ہیں۔
مرات نورٹلو کے دورۂ پاکستان کو اگر ایک سنگِ میل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ دورہ اس پیغام کا حامل ہے کہ پاکستان اور قازقستان اپنے تعلقات کو محض رسمی نہ رکھ کر عملی میدان میں لے جانے پر آمادہ ہیں۔ اگر یہ تسلسل قائم رہا تو آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات خطے میں ایک نئی مثال بن سکتے ہیں۔