پاکستان کی مسلح افواج محض سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ ہر اس موقع پر قوم کی ڈھارس بنی ہیں جب وطن عزیز کسی کڑے امتحان سے دوچار ہوا۔ پاک فوج نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ اس کی ذمہ داریاں صرف دشمن کے خلاف مورچوں تک محدود نہیں بلکہ امن و استحکام، قدرتی آفات میں ریلیف، قومی ترقی اور عوامی خدمت میں بھی وہ پیش پیش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قوم اپنی فوج کو ایک محافظ ہی نہیں بلکہ خدمت گزار ادارے کے طور پر بھی دیکھتی ہے۔
پاکستان چونکہ جغرافیائی اعتبار سے ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں زلزلے، سیلاب اور دیگر آفات آتی رہتی ہیں، ایسے مواقع پر سب سے پہلے اگر کوئی ادارہ متحرک ہوتا ہے تو وہ پاک فوج ہے۔ زلزلہ 2005 ہو یا سندھ اور جنوبی پنجاب کے تباہ کن سیلاب، بلوچستان کی شدید بارشیں ہوں یا شمالی علاقہ جات میں برفباری کے باعث مشکلات، پاک فوج نے ہمیشہ متاثرہ عوام تک رسائی حاصل کی، خوراک اور طبی امداد پہنچائی اور ان کی بحالی کے لیے دن رات کام کیا۔ حالیہ برسوں میں بھی سیلابی صورتحال میں فوجی جوان کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچاتے اور امداد فراہم کرتے نظر آئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نِشَانِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) نے قصور سیکٹر اور جلالپور پیر والا، ملتان میں قائم سیلاب ریلیف کیمپ کا دورہ کیااور سیلاب کی موجودہ صورتحال کے ساتھ جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ دورے کا مقصد متاثرہ آبادی کی بروقت اور موثر مدد کے لیے سول انتظامیہ اور فوج کے مابین ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا تھا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری پنجاب اور سول انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔دورے کے دوران آرمی چیف کو سیلاب زدہ علاقوں میں جاری امدادی و ریسکیو سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سول انتظامیہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بہتر حکمرانی اور عوامی شمولیت پر مبنی ترقی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سیلاب سے بچاو کے لیے درکار تمام اقدامات، خصوصاً انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی، فوری طور پر مکمل کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ہر سال قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
آرمی چیف نے سول اور عسکری اداروں کے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آرمی عوامی فلاح و بہبود کے ہر اقدام میں بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔سیلاب متاثرین سے گفتگو کے دوران، جنہیں پاک فوج اور سول انتظامیہ نے بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیا تھا، آرمی چیف نے انہیں یقین دلایا کہ ان کی بحالی اور آبادکاری تک مکمل تعاون جاری رہے گا۔ متاثرین نے بروقت امداد پر پاک فوج کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
آرمی چیف نے ریلیف آپریشنز میں شریک فوجی جوانوں، ریسکیو 1122 اور پولیس اہلکاروں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے مشکل ترین حالات میں ان کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور قوم کی خدمت کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے ان کی شب و روز کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو سول انتظامیہ کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں بروقت ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔چیف آف آرمی اسٹاف نے لاہور۔قصور اور ملتان۔جلالپور پیر والا کے محاذوں پر سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی معائنہ بھی کیا تاکہ نقصانات کے پیمانے اور جاری ریلیف سرگرمیوں کا براہِ راست جائزہ لے سکیں۔سیلاب زدہ علاقوں میں آمد پر فیلڈ مارشل کا استقبال لاہور اور ملتان کور کے کمانڈرز نے کیا۔
اگر ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دیکھیں تو پاک فوج نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے وطن کو امن و سکون عطا کیا۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور سوات و وزیرستان میں کی جانے والی کارروائیوں نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی۔ ان قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں کھیلوں، سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہوا۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ فوج نے صرف دشمن سے لڑنے کا فریضہ ہی ادا نہیں کیا بلکہ امن کی بحالی سے لے کر عام شہری کی روزمرہ زندگی تک سکون پہنچایا۔ پاک فوج نہ صرف دفاعی شعبے میں بلکہ قومی تعمیر و ترقی کے منصوبوں میں بھی پیش پیش ہے۔ چاہے وہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر ہو، بلوچستان و گلگت بلتستان میں تعلیمی اداروں کا قیام، یا پھر صحت کے منصوبے فوج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو عوام کی سہولت کے لیے بروئے کار لایا۔ پاکستان میں جب بھی کوئی بڑا قومی پروجیکٹ رکاوٹوں کا شکار ہوا تو فوجی ادارے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے اسے مکمل کرنے میں معاون بنے۔
پاک فوج نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی فوجی دستوں کی خدمات کو دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔ افریقہ، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں پاکستانی فوجی جوان اپنی بہادری، انسانی ہمدردی اور پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت امن قائم کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔پاک فوج اور عوام کے درمیان ایک لازوال رشتہ ہے۔ عوام مشکل وقت میں فوج کی طرف دیکھتے ہیں اور فوج ہمیشہ اس اعتماد پر پورا اترتی ہے۔ چاہے انتخابات کے دوران شفافیت کو یقینی بنانا ہو، حج آپریشن میں سہولت فراہم کرنی ہو یا پھر کسی بڑے قومی ایونٹ کو کامیاب بنانا ہو، فوج اپنی خدمات پیش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اپنے فوجی جوانوں کو محض وردی والے نہیں بلکہ اپنی خدمت اور تحفظ کی ضمانت سمجھتے ہیں۔
زلزلے ہوں ، بارشیں یا حالیہ سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال ۔ پاک فوج ہمیشہ عوام کے شانہ بشانہ رہی ۔ ریلیف کیمپ قائم کرنا ، متاثرین تک خوراک اور طبی امداد پہنچانا اور مواصلاتی نظام کی بحالی یہ سب ایسے اقدامات ہیں جو فوج کو عوام سے جوڑتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل کی ہر گھڑی میں لوگ سب سے پہلے فوج کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں۔ پاک فوج پاکستان کے ہر شہری کے لیے فخر کا باعث ہے۔ وہ دن رات ملکی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور مشکل ترین حالات میں عوام کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ قدرتی آفات میں ریلیف آپریشنز سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قومی ترقیاتی منصوبوں تک پاک فوج کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ پاک فوج قوم کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے اور ان شاءاللہ مستقبل میں بھی اپنی ذمہ داریوں کو اسی عزم و جذبے کے ساتھ نبھاتی رہے گی۔