ورنہ مرد بے چارے ادھورے ہی ہیں

گزشتہ شام ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔ میری اہلیہ نے مجھے ایک واٹس ایپ میسج بھیجا جو کہ ان کی دوست نے ان سے شیئر کیا تھا۔ یہ ایک روایتی سوشل میڈیا لطیفہ تھا جو فیس بکی مردوں نے بڑے چائو سے تخلیق کر رکھا ہے۔ آپ اگر سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں، مرد لکھاریوں کی پوسٹیں اور خاص کر کمنٹس دیکھتے ہیں تو اکثر نے اپنی بیگمات کے بارے میں طرح طرح کے طنزیہ، ہلکے پھلکے جملے لکھ رکھے ہوتے۔ نجانے یہ’’علم ودانش کا عظیم منبع‘‘کہاں موجود ہے، جو ختم ہونے میں نہیں آرہا۔
شائد قدیم زمانوں سے خاوند حضرات اپنی بیویوں سے نالاں رہے، ممکن ہے معاملہ دوسری طرف بھی ایسا ہی رہا ہوگا، مگر چونکہ زیادہ تر لکھاری مرد ہیں، تو وہ اپنا کتھارسس لکھنے سے کر لیتے ہیں۔ میں نے جب مشہور داستان الف لیلہ پڑھتی تو بڑی حیرت ہوئی کہ ہر دوسری کہانی کسی خاتون کی بے وفائی، چلتر اور دھوکے بازی پر مبنی ہے۔ یوں لگتا جیسے دنیا میں صرف بے وفا، مکار اور لالچی حسینائیں ہی رہتی ہیں۔ پھر خیال آیا کہ اس داستان کے سو فی صد خالق مرد حضرات ہیں اور کئی زمانوں تک یہ کہانیاں صرف مرد ہی سنتے رہے۔ ہوتا یہ تھا کہ تاجروں اور مسافروں کے قافلے کئی کئی ماہ تک سفر کرتے، راستے میں جہاں پڑاو ڈالا جاتا، وہاں رات کو دیر تک لکڑیوں کا الاو جلا کر یہ قصے کہانیاں سنے جاتے، منورنجن ہوتا اور پھر مسافر حضرات اپنا کتھارسس کر کے مزے سے میٹھی نیند سو جاتے۔
پچھلے چند برسوں سے یہ رواج نکل چلا ہے کہ تاریخ کو نئے سرے سے لکھا جائے۔ کسانوں کی تاریخ، مزدوروں کی تاریخ، عام سپاہیوں کی تاریخ وغیرہ وغیرہ۔ کیا ہی خوب ہو کہ ان قصے کہانیوں کو بھی نئے سرے سے لکھا جائے، اس بار خواتین کے زاویہ نظر سے۔ پھر دیکھیں گے کہ ہزارراتوں والی اس داستان میں کون کردار ولن ہوگا اور کہاں کہاں جگمگاتی ہوئی، ہیرے کی طرح تراشی،دھلی دھلائی، شفاف ہیروئن کے کردار نظرآئیں گے۔
خیر بات اس واٹس ایپ میسج کی ہو رہی تھی۔ لطیفہ خاصا پامال ہوچکا، مگر بہرحال مطلب کے مواقع پر کام تو دے ہی جاتا ہے اور پھر تفنن طبع کی خاطر طبع آزمائی میں کیا حرج ہے۔
لطیفے کے مطابق، ایک سکول ٹیچر نے اپنے بچوں کو ایک نامکمل جملہ دے کر کہا کہ اسے مکمل کریں:
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے……
طلبا کے جوابات:
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے پھر بھی وہ بڑا آدمی بن جاتا ہے
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے، جس سے ہوشیار رہنا بہت ضروری ہے
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو اسے بتاتی رہتی ہے کہ قسمت کا پھیر ہے ورنہ اس کیلئے اچھے رشتے تو اور بہت تھے۔
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جسے یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کے آگے کھڑا آدمی واقعی ایک بڑا آدمی ہے
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو اس پر ہمیشہ شک کرتی رہتی ہے
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو یہ سوچ کر حیران ہوتی رہتی ہے کہ دنیا اس بیوقوف آدمی کو بڑا آدمی کیوں کہتی ہے
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو اس کے کان میں کہتی رہتی ہے کہ میرے بغیر تم کچھ بھی نہیں
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو بائیس گریڈ کے افسرتک کو بتاتی ہے کہ آپ کو تو کوئی بات سمجھانا ہی ناممکن ہے-
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو ایک فقرے سے شوہر کا بلڈ پریشر 180/220 کرنے کے بعد کہتی ہے ”میرا یہ مطلب نہیں تھا”-
سب سے کلاسیکل جملہ یہ تھا
10. ”ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے، جو دوسری عورتوں کو اس کے قریب پھٹکنے نہیں دیتی’‘‘
لطیفہ تو ختم ہوا، ہماری آزمائش مگر شروع ہوچکی تھی۔ ہم نے اس پر خاصا غوروخوض فرمایا اور پھر ایک بیانیہ تخلیق کیا کہ آج کل موقف یا بات نہیں بلکہ بیانیہ ہی کا چلن ہے اور وہی کامیاب رہتا ہے۔ ہم نے اس اعلیٰ عدالت کے سامنے جو اپریل کی اس گلابی شام ہمارے گھر میں قائم ہوچکی تھی، ایک بلیغ خطبہ ان ناہنجار مردوں کے خلاف دیا جو اپنی بیویوں کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں اور ایسے بیکار لطیفوں کی تخلیق کا باعث بنتے ہیں، حالانکہ وہ سیاہ بخت اپنا وقت کسی اور مفید چیز پر صرف کر سکتے ہیں۔پھر مختلف قانونی، اخلاقی دلائل سے یہ حتمی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے نوید سنائی کہ قدرت کو منظور ہوا تویہ مردوئے اس پاداش میں روز آخرت دبوچے جائیںگے۔
اس کے بعد ہم نے تاریخ انسانی میں ایسے ان گنت عظیم کرداروں پر روشنی ڈالی، جو صرف اسی وجہ سے کامیاب اور کامران ہوئے کہ ان کے گھر کوئی نیک بی بی بیٹھی ان کے لئے دعاگو رہی اورانہیں کامل درجہ ذہنی سکون فراہم کرتی رہیں۔ ہمارا بیانیہ اختتام پزیر ہوا، اعلیٰ عدالت نے اطمینان اور طمانیت سے سر ہلایا، ایک دل خوش کن مسکراہٹ دی اور کیس ڈسمس ہونے کا اعلان کر دیا۔
تس پہ ہم نے پہلے توایسے لطائف تراشنے والے کم بختوں پر تین حرف بھیجے جو بیٹھے بٹھائے دوسروں کو آزمائش میں مبتلا کر دیتےہیں اور پھر مسرت وانبساط کی سرشاری میں یہ فیصلہ کیا کہ آج نیویارک ٹائمز کی اس خاتون صحافی کی کتاب پڑھنا شروع کی جائے جس میں اس نے کئی ہالی وڈ شخصیات کے دلچسپ پروفائلز لکھے ہیں، اس کے بعد وہ کتاب کھولی جائے جو اپنے لیپ ٹاپ کے لاکڈ فولڈر میں محفوظ کر رکھی ہے، ’’بیویوں کے مظالم سے بچنے کے ایک ہزار ایک مجرب نسخے۔‘‘
اوپر والا آخری جملہ تو ازراہ تفنن بڑھا دیا، ورنہ یہ حقیقت ہے کہ کامیابی اکثر اوقات پیکیج کی شکل میں ہوتی ہے، کریڈٹ بے شک کوئی اکیلا آدمی لے جائے ، مگر کاوش کئی لوگوں کی ہوتی ہے، جن میں سب سے زیادہ اہم اور نمایاں حصہ اس کی اہلیہ کا ہوتا ہے۔ گھر اگر پرسکون نہ ہو تو مرد حضرات بڑا کام کر ہی نہ پائیں۔ علم وادب ہو، سائنسی ریسرچ یا پھر سروسز کے شعبے، ہر جگہ کسی معروف، کامیاب آدمی کا انٹرویو کریں تو کہیں نہ کہیں آپ کو اس کے پیچھے اس کی وفاشعار، اپنے وقت کی قربانی دینے والی بیگم ضرور ملے گی۔ ذہنی یکسوئی اور ذہنی آسودگی کے بغیر بڑے اور غیر معمولی کام کرنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ ویسے دوسری طرف بھی یہی معاملہ ہے، شادی شدہ خواتین کی کامیابیاں بھی ان کے خاوند اور اہل خانہ کی سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں۔
نیٹ فلیکس پر کچھ عرصہ قبل ایک بہت دلچسپ اور مزے کا ڈرامہ شامل کیا گیا، یہ ممتاز لاطینی امریکی ادیب گارشیا مارکیز کے شاہکار ناول ’’تنہائی کے سو سال‘‘پر بنایا گیا ہے۔ گارشیا مارکیز کو ادب کا نوبیل انعام ملا اور بنیادی کردار اسی ناول کا تھا۔ میں نے یہ ناول پہلے اردو ترجمے کی صورت میں پڑھا، ڈاکٹرنعیم کلاسرا مرحوم نے اس کا ترجمہ کیا۔ بعد میں اس کے دیگر تراجم بھی ہوئے، یہ ناول ویسے انگریزی میں پڑھنے کا اپنا لطف ہے۔
یہ ایک قصبے کی کئی نسلوں کی روداد ہے۔ ایک مختلف مزاج کا قصبہ، وہاں کے اپنی ہی ڈگر کے مکین۔ چھ سات نسلوں پر محیط سو سال کا نقشہ جس انداز میں گارشیا مارکیز نے کھینچا، وہ اسی کا خاصہ ہے۔تنہائی، تشنگی، نارسائی،ہجر، وصال، طویل خانہ جنگی، اعصاب شکن واقعات، حیران کن گمشدگی، خیرہ کن حسن،قیامت خیز سوگواریت … یہ سب کیفیات اس ناول میں ملتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ چند سطروں میں عالمی ادب کے اس شاہکار کو بیان کرنا بڑا مشکل ہے۔
ہسپانوی ادب میں نے بہت زیادہ نہیں پڑھا،مگر لاطینی امریکی لکھاریوں میں کچھ خاص بات ضرور ہے۔ وہ عام سی چیزوں کو بھی ہاتھ لگا کر خاص بنا دیتے ہیں۔ گارشیا مارکیز اس حوالے سے غیرمعمولی کمال تک پہنچ چکا تھا۔ اس کے کردار جیتے جاگتے، سانس لیتے محسوس ہوتے۔ یوں لگتا کہ ہم انہیں دیکھ سکتے، چھو سکتے ہیں، ان سے ہماری محبت اورنفرت حقیقی حد تک پہنچ جاتی۔ ا سکی بعض کہانیوں میں بھی یہی کیفیت دیکھی۔ایک خاص بات تو ان کہانیوں کا لینڈ سکیپ تھا۔مارکیز کا تعلق کولمبیا سے تھا، اس کی بیشتر کہانیاں اسی ماحول میں لکھی گئیں۔ شدید گرمی،پسینہ، حبس، مکھیاں، اس موسم سے لوگوں کی اکتاہٹ …ان سب کو ہم جنوبی ایشیائی لوگ بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔
گارشیامارکیز کا کہنا تھا کہ تنہائی کے سو سال کو لکھتے اٹھارہ ماہ کے قریب لگ گئے، اسے پندرہ سال سے سوچ رہا تھا،یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے شروع کس طرح کیا جائے۔پھر ایک روز اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ گاڑی میں کسی دوسرے شہر جاتے ہوئے اچانک مارکیز کے ذہن میں کوندے کی طرح خیال لپکا کہ اسے داستانی انداز میں لکھا جائے۔ مارکیز نے ہائی وے سے گاڑی موڑی اور واپس گھر کا رخ کیا۔ بیوی بچے بھونچکا رہ گئے۔بات کتنی عجیب ہے کہ پوری فیملی سیر وتفریح کے لئے دوسرے شہر کی طرف روانہ ہوں اور راستے ہی میں خاندان کا سربراہ گاڑی موڑ کر گھر پہنچ جائے، سب پروگرام چوپٹ۔ خیر گھر پہنچ کرمارکیز نے اپنی گاڑی بیچی، بینک اکائونٹ خالی کیا اور جتنے پیسے تھے، بیوی کے حوالے کر دئیے کہ مجھے ڈسٹرب نہ کرنا۔ وہ روزانہ آٹھ دس گھنٹوں تک اس ناول پر کام کر تار ہا۔ اس کی توقع سے زیادہ وقت لگ گیا۔وفا شعار دانا بیوی نے خاوند کو ڈسٹرب نہ کیا۔ گوشت، گراسری اور بریڈ وغیرہ دکانداروں سے ادھار لیتی رہی، کئی ماہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ آخر ایک دن ناول مکمل ہوا، مارکیز نے مسودہ اپنی بیوی کو دیا اور اسے ایک پبلشر کو پوسٹ کرنے کے لئے بھیجا۔ ویسے کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ کورئیر کے پیسے بھی نہیں تھے تو مارکیز کی بیوی نے اپنی انگوٹھی فروخت کرکے مسودہ اچھی کورئیر کمپنی سے پبلشر کے پاس بھیجا۔ وہ ناول ہٹ بلکہ سپر ہٹ ہوگیا، دو ہفتوں میں اس کی ہزارہا کاپیاں فروخت ہوگئیں۔ اس ناول نے مارکیز کو کروڑپتی بنا دیا، اسے نوبیل انعام بھی ملا۔
عالمی ادب کے قارئین کو مارکیز کے ساتھ ساتھ اس کی بیوی کا بھی شکر گزار ہونا چاہیے۔ اگر وہ ایثار کیش بی بی نہ ہوتی تو شائد مارکیز اپنا سب سے اہم ناول کبھی نہ لکھ پاتا، عالمی ادب بھی تب نامکمل ہی رہتا۔
یہ حقیقت ہے کہ ہم مرد خواہ کتنا اپنی بیویوں کے گلے شکوے کریں، درحقیقت ان کے بغیر ادھورے ہیں۔ ہماری کامیابیاں گھر کے سکون اور اپنے لائف پارٹنر کی سپورٹ اور حوصلہ افزائی کی مرہون منت ہوتی ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں