بعض کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کے ذہن میں نقش ہوجاتی ہیں، جب بھی آپ اسے پڑھیں، دل ودماغ میں تروتازگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ایسی ہی کہانی بہت پہلے میں نے مستنصر حسین تارڑ کے سفرنامہ سپین ”اندلس میں اجبنی“ کے مطالعہ میں پڑھی۔
اس خوبصورت کہانی نے پہلے تو اس لئے چونکایا کہ مرکزی کردار کانام میرے نام سے ملتا تھا، جب غور کیا تو سمجھ آئی کہ یہ ایک لیجنڈ کی کہانی ہے۔ ایسا شخص جس پر تقدیر کی دیوی مہربان ہوئی، اسے اپنے ملک وقوم کے لئے مرکزی کردار ادا کرنے کا موقعہ ملا۔ ایسا کردار جس کا صرف خواب ہی دیکھا تھا۔ خوشی قسمتی کہیں، آہنی عزم اور ارادے کی استقامت یا کچھ اور کہ وہ شخصیت اس آزمائش میں سرخرو ہو کر زندہ جاوید ہوگئی۔
اس شاندار، جگمگاتی کہانی کا آغاز اندلس کی ایک مسجد سے ہوا۔ روایت کہہ لیں، حکایت یا تاریخی واقعہ سمجھ لیں، کچھ یوں شروع ہوتا ہے۔:
عصر کی نماز ہوچکی تھی، مسجد کے کشادہ صحن میں دن بھر کے تھکے ہارے طلبہ سستا رہے تھے۔ ایک گوشے میں پانچ طالب علم بیٹھے دھیمی آواز میں گفتگو کر رہے تھے۔ان میں سے ایک نوجوان گفتگو میں زیادہ دلچسپی سے حصہ نہیں لے رہا تھا۔اسے خیالوں میں ڈوبا دیکھ کر دوسرے دوستوں نے پوچھا،”ابن ابی عامر! آج تم اتنے خاموش کیوں ہو؟“چمکدار آنکھوں والا نوجوان چونکا اور ایک لمحے کے توقف کے بعد بولا،’میں مستقبل کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔“
شرارتی آنکھوں والے ایک لڑکے نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،”مدرسے کے طالب علموں کا مستقبل سے کیا تعلق،تمہارا مستقبل بھی اس شہر یا کسی قریبی دیہات کی مسجد ہی سے منسلک ہوگا۔“ابن ابی عامر کی کشادہ پیشانی پر ایک لمحے کے لئے ناگواری سے شکنیں پڑیں اور پھر ہموار ہوگئیں۔وہ بڑی متانت سے بولا،”میں اس وقت کے متعلق سوچ رہا ہوں جب مجھے ملک کی وزارت عظمیٰ پر فائز ہوکر مسائل حل کرنے ہوں گے۔“
یہ بات سن کر گویا ہنسی کا فوارہ سا پھوٹ پڑا۔اس کے چاروں دوست بے ساختہ ہنسنے لگے۔پہلے لڑکے نے ٹھٹھا لگا کر ایک ہجویہ شعر بھی چست کر دیا۔ابن عامر کا چہرہ سرخ ہوگیا۔اس نے جھنجھلا کر کہا،”میں وزیراعظم بن کر ہی رہوں گا۔ابھی وقت ہے،اپنے لئے جو مانگنا ہے،مانگ لو۔“
یہ سن کر ایک دوست نے مسکرا کر کہا،”مجھے قاضی بننے کا شوق ہے،تم مجھے میرے آبائی شہر مالقہ کا قاضی بنا دینا۔“دوسرے نے پولیس کے حاکم اعلیٰ کا عہدہ مانگا۔تیسرے نے کہاکہ مجھے باغات کابڑا شوق ہے۔مجھے تو بس شہر کے تمام باغات کا نگران بنا دینا۔چوتھا لڑکا،جس کا رویہ شروع ہی سے تمسخرانہ رہا،اس نے حقارت سے ابن عامر کے سر پر چپت لگائی اور کہنے لگا،”تمہاری اگلی سات نسلوں میں بھی کوئی وزیراعظم بنا تو میرا منہ کالا کر کے گدھے پر الٹا سوار کر کے شہر میں گشت کرانا۔“……دس سال بعد شہر کے بچوں کے جم غفیر کے درمیان وہی بد زبان طالب علم گدھے پر الٹا بیٹھا اس روز بد کو کوس رہا تھا،جب اس نے ابن عامر کا مذاق اڑاتے ہوئے اپنی اس منحوس خواہش کا اظہار کیا۔
مسجد کے صحن میں بیٹھ کر اندلس کی عظیم الشان سلطنت کے وزیراعظم کا خواب دیکھنے والا ابن ابی عامر تاریخ کا ایک ایسا جگمگاتا کردار ہے،جس کی آب وتاب ہزار سال گزرنے کے بعد بھی ماند نہیں پڑی۔ابن عامر جنوبی سپین کے ساحلی شہر الجزیرہ خضراء(Algeciras) کے ایک نجیب،مگر متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔مورخین نے اسے ”ابو عامرمحمد بن عبداللہ بن ابی عامر الحاجب المنصور“کے نام سے
یاد رکھا پکارا۔حاجب اس کا عہدہ تھا،جبکہ المنصور(فاتح) کا نام اس کی غیرمعمولی فتوحات کے باعث دیا گیا۔اسے منصوراعظم کے نام سے بھی پکارا گیا۔
ابن عامر اپنے آبائی شہر سے قرطبہ قانون اور ادب کی تعلیم حاصل کرنے آیا۔مدرسے سے فراغت کے بعد اس نے قرطبہ کی کچہری میں بطور عرضی نویس کام شروع کر دیا۔اپنی قابلیت اور رسا ذہن کے باعث آہستہ آہستہ شاہی خاندان کے ساتھ اس کا تعلق قائم ہو گیا۔حالات نے کچھ ایسی کروٹ بدلی کہ ابن عامر خود بخود نمایاں ہوتا گیا۔خلیفہ ہشام اول کے انتقال کے بعد ابن عامر کے تعاون سے بارہ سالہ ولی عہد ہشام دوم کو مسند خلافت ملی۔نوعمر خلیفہ نے اپنے محسن کو حاجب(وزیراعظم) جیسے اہم ترین عہدے سے نوازا۔اگلے چند برسوں میں ابن عامر کے حریف بساط سے ہٹتے گئے اور وہ”ڈی فیکٹو“ بادشاہ بن گیا۔
ابن ابی عامر ایک بلند ویژن رکھنے کے ساتھ نہایت شجاع اور دلیر تھا۔ اپنی بے جگری سے وہ فوج کا ہیرو بن گیا۔ اس نے قریبی عیسائی ریاستوں پر یکے بعد دیگرے حملے کر کے انہیں پسپا کیا اور سلطنت اندلس کا سکہ منوا لیا۔اپنے چھتیس سالہ عہد میں اس نے عیسائی ریاستوں سے ستاون جنگیں لڑیں اور سب جیتیں۔ہر سال بہار اور خزاں میں ایک طے شدہ پروگرام کے تحت وہ بارسلونا،پامپلونا،نوارا،لیان اور قشتالیہ کی عیسائی ریاستوں پر لشکر کشی کرتا۔مورخ لین پول نے المنصور کے بارے میں لکھا،”عبدالرحمٰن سوئم نے جس عظیم اندلس کا خواب دیکھا تھا،اس کی تعبیر المنصور کے عہد میں ظہور پزیر ہوئی۔“
ابن ابی عامر کی قوت برداشت کے بارے میں کئی قصے مشہور تھے۔ایک مرتبہ وہ اپنے وزرا کے ساتھ انتظامی امور پر بڑے اطمینان سے محو گفتگو تھا۔اچانک دربار میں گوشت جلنے کی بو پھیل گئی۔وزرا حیران ہوئے۔معلوم ہوا کہ شاہی جراح المنصور کی ٹانگ پرآئے ایک زخم کو گرم لوہے کی سلاخ سے داغ رہا ہے۔ابن عامر المنصور ایک معرکے سے واپسی پر مدینہ سالم (مدینہ سلی)کے قریب انتقال کر گیا۔اس کے قبر پر یہ عبارت نقش کی گئی،”اس کی نشانیاں تمہیں اس کی خبر بتلائیں گی،گویا تم اسے اپنے سامنے دیکھ رہے ہو۔اس جیسا زمانہ کبھی نہ دیکھے گا۔“
کہتے ہیں کہ اس نے اپنے ہر جہادی معرکے سے واپسی پر لباس پر لگی گرد کو جھاڑ کر جمع کر کے مٹی کا ٹکڑا بنوایا تھا، وصیت کی کہ اسے میت کے ساتھ رکھا جائے کہ شائد اس جہادی سوغات کے صدقے رب تعالیٰ قبر میں آسانی اور کشادگی پیدا کر دے۔
ابن ابی عامر نے مرنے سے کچھ عرصہ پہلے اپنے وزرا کو بتایا کہ میں زمانہ طالب علمی سے سوچتا تھا کہ اگر تقدیر مجھے اندلس کا طاقتور ترین شخص بنا دے تو میں اس سلطنت کو عظمت کی ان بلندیوں تک پہنچا دوں گا کہ یہاں کا شہری ہونا بھی فخر کی علامت سمجھا جائے۔اس پرعزم اندلسی سالار سے نفرت کرنے والے عیسائی مورخین بھی اس پر متفق رہے کہ اندلس کو ویسا عروج دوبارہ دیکھنا کبھی نصیب نہ ہوا۔
دور جدید میں حکومت میں آنے کے طریقے بدل گئے۔جمہوریت اور سیاست میں غیر متوقع بریک تھرو ملنا مزید دشوار ہوچکا،مگر ابھی بھی ایسے خوش نصیب موجود ہیں،جن پر قسمت مہربان ہوجاتی ہے۔تاریخ کے کسی اہم موڑ پر انہیں اہم کردار ملتا ہے اور قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوجاتی ہے۔ وہ آزمائش کے ان لمحوں میں سرخرو ہوجاتے ہیں۔
اگلے روز مسلم لیگ ن کے ایک حامی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، کوئی پسند کرے یا نہ کرے، یہ حقیقت ہے کہ ایٹمی دھماکے کرنے کا اعزاز میاں نواز شریف کو حاصل ہوا اور یہ بھی ایک اعزاز ہے کہ مئی کے ان دنوں میں جب پاک بھارت معرکہ ہوا، تب شہباز شریف وزیراعظم تھے۔ تاریخ انہیں فاتح وزیراعظم کے طور پر یاد رکھے گی۔
میں سوچتا رہا کہ ٹھیک ہے شہباز شریف کو یہ اعزاز ملا کہ وہ اس اہم بحرانی دور میں ملک کے وزیراعظم تھے۔ریاست پاکستان اورحکومت پاکستان اس میں سرخرو رہی۔وزیراعظم شہباز شریف کو ان کا کریڈٹ ظاہر ہے ملے گا، کون چھین سکتا ہے؟تاہم کیا ہی اچھا ہو کہ وہ اس فیصلہ کن موڑ پر پاکستان کو اکھٹا اور متحد کر دیں۔ پاکستان جو سیاسی طور پر منقسم ہے، اسے اگر وزیراعظم شہباز شریف کسی طرح اکھٹا کر پائیں تو یہ ایسا حقیقی کارنامہ ہوگا، جو انہیں تاریخ میں زندہ رکھے گا۔انہوں نے پارلیمنٹ سے خطاب میں تحریک انصاف کو ساتھ چلنے کی دعوت دی اور اپنے مخصوص پرجوش انداز میں اس حوالے سے کئی جملے کہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم اٹھائے، میڈیا سے دور رہ کر مذاکرات کرے اور اپوزیشن جماعت کے لئے آسانیاں پیدا کرے اوریوں ملک میں سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہو۔
پاک بھارت معرکہ آرائی ایک گیم چینجر واقعہ ہے۔ قوم اکھٹی ہوگئی ہے۔لوگوں میں جوش وخروش اور اعتماد پیدا ہوا ہے۔کوشش کی جائے توآئندہ کے لئے کوئی قابل عمل سیاسی روڈ میپ بھی بنایا جا سکتا ہے، جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں متفق ہو جائیں۔اگر ملک میں داخلی سیاسی استحکام ہو تو ان شااللہ ہم معاشی میدان میں بھی ترقی کر سکتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن جماعتوں کو اس تاریخی موقعہ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
المنصور نے اپنے ایک گورنر کو خط میں لکھا تھا،”خوش نصیب وہ نہیں جسے اقتدار مل گیا،بلکہ وہ ہے جس نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا اور اپنی قوم کی تقدیر بدل دی۔“