پاکستانی اولمپیئن ارشد ندیم نے بھارت میں ہونے والے بنگلورو کلاسک جیولن تھرو مقابلے میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ یہ مقابلہ 20 مئی کو بھارت میں منعقد ہونا ہے، جس کے لیے بھارتی اولمپیئن نیرج چوپڑا نے ذاتی طور پر ارشد ندیم کو دعوت دی تھی۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد ندیم نے کہا کہ ان کی 22 مئی کو کوریا کے لیے روانگی طے ہے، جہاں وہ ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں شرکت کریں گے، اس لیے بنگلورو جانا ممکن نہیں۔ انہوں نے نیرج چوپڑا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ نیرج نے انہیں یاد رکھا اور مدعو کیا۔
ارشد ندیم کی جانب سے انکار بظاہر شیڈول کے مسئلے کی وجہ سے سامنے آیا ہے، لیکن یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی اور سفارتی کشیدگی عروج پر ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف سخت اقدامات کیے، جن میں تمام پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کی ہدایت اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی شامل ہے۔
یہ سفارتی ماحول کھیلوں کے میدان پر بھی اثر انداز ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اگرچہ ارشد ندیم نے اپنے فیصلے میں ان سیاسی عوامل کا ذکر نہیں کیا، تاہم موجودہ حالات میں کسی پاکستانی کھلاڑی کا بھارت جانا خود ایک پیچیدہ معاملہ بن چکا ہے۔ اس کے باوجود نیرج چوپڑا کی طرف سے ذاتی دعوت اور دونوں کھلاڑیوں کے درمیان باہمی احترام اس بات کی علامت ہے کہ کھیل اب بھی تعلقات بہتر بنانے کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔