گدھوں اور گِدھوں

ہم اپنے باپ دادا سے سنتے آئے ہیں، "آب حیات” نوش فرمانے سے حضرت خضر ؑ کو حیات جاوداں ملی اوروہ سرورکونین سیّدنا محمدرسول اللہ خاتم الاانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم سمیت کئی انبیاء کے دورنبوت میں براہ راست ان کی زیارت سے مشرف ہوتے رہے ہیں۔ اللہ ربّ العزت نے انہیں مسجد اقصیٰ میں امام الانبیاء کی امامت میں باجماعت نمازاداکرنے کااعزازاوراعجازبھی بخشا ہے۔وہ اللہ ربّ العزت کی مشیت سے آج بھی حیات ہیں،آب حیات بھی اللہ ربّ العزت کے معجزات میں سے ایک ہے۔تاہم شب وروز جس” آب” سے ہم سیراب ہوتے ہیں اس میں بھی” حیات” پنہاں ہے۔یہ” آب” ہمیں،ہماری نباتات،ہمارے کھیت کھلیانوں اورمیدانوں کو”سیراب” کرتا ہے،اس کے بغیرکسی جاندار کی حیات کو دوام نہیں۔ آسمان سے شفاء کے ساتھ جوشفاف بوندیں زمین پر اترتی ہیں میں توا ن کو بھی آ ب حیات کہتاہوں،اس آب حیات کے مقابلے میں بیش قیمت جواہرات بھی بے وقعت ہیں،یقیناکسی بھی ریاست کے پاس اس نایاب آب حیات کے ضیاع کاکوئی جوازنہیں۔ ہمارے ہاں سیلاب کوعذاب کہنا درست نہیں کیونکہ عذاب بار بار نہیں صرف ایک باراور اچانک آتا ہے جبکہ ہم ہرسال مون سون میں سیلاب کی آمد سے آگاہ بلکہ بدقسمتی سے اس کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہماری حیات اورزراعت کیلئے ناگزیر اس آب کا”سیلاب ” کی صورت میں ہماری قیمتی نسلیں اورفصلیں اپنے ساتھ بہالے جانا یقینا ہمارے ارباب اقتدارواختیار کی بدنیتی، بدانتظامی اور نااہلی کا نتیجہ ہے لہٰذاء ہم اس فطرت کوآفت قرار دیتے ہوئے نعوذ باللہ من ذلک قدرت کودوش نہیں دے سکتے۔بیشک بارش” ابررحمت” ہے لیکن ہم اپنی اجتماعی نااہلی سے اسے” ابرزحمت” بناتے ہیں۔بھارت سمیت دنیا کے متعدد ملک اس ابررحمت کوسٹور اور اجناس کی پیداوار سمیت دوسری ضروریات کیلئے استعمال کررہے ہیں لیکن ہمارے ہاں بارش کاپاک پانی سیوریج کے ناپاک پانی میں جاملتا ہے۔یادرکھیں موسمیاتی تبدیلی کاتعلق بھی آسمان نہیں زمین سے ہے،ہم اپنی زمینی ضروریات،ترجیحات اور تخریبات کے بل پرفطرت میں بیجا مداخلت کررہے ہیں۔ کلاؤڈبرسٹ کوانتباہ سمجھا جائے،اگر اقوام عالم نے اجتماعی دانش کے ساتھ عالمی سطح پر اپنازمینی نظام اورانتظام تبدیل نہ کیا تودنیا کو آئندہ بھی فطرت کے انتقام کیلئے تیاررہناہوگا۔

قیام پاکستان کے بعد پہلی بارجوسیلاب آیا اسے قدرتی آفت کہاجاسکتا ہے کیونکہ ہم تیار نہیں تھے اورہمارے ہاں اس کیلئے کوئی مخصوص نظام اورانتظام نہیں تھا لیکن اس کے بعدجوسیلاب آیا وہ اپنے اپنے عہد کے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کاشاخسانہ تھا۔ہم کئی دہائیوں سے ہرسال سیلاب کے نتیجہ میں جوخطیرمالی نقصان اورقیمتی جانوں کاضیاع برداشت کرتے ہیں اس سے بچاؤ کیلئے بروقت کوئی تدبیر کیوں نہیں کی گئی۔دو،چار، آٹھ، دس، بیس،پچاس بلکہ ستر برس بعد بھی ہمارے حکمران پاکستان میں ” ڈیم "کی بجائے پاکستانیوں کو”ڈیم فول” بنا رہے ہیں اورشایدمزید کئی دہائیوں تک بناتے رہیں گے۔جوسیاستدان سالہا سال تک ملک میں کوئی نیا ڈیم تعمیرکرنے کیلئے متفق نہیں ہوتے وہ مختلف نظریات کے باوجود محض اپنے اپنے سیاسی مفادات کیلئے آئین میں ترمیم کیلئے فوری متحد اورمستعد ہوجاتے ہیں، 18ویں ترمیم وفاق کے ساتھ نفاق کادوسرا نام ہے۔ہم نے صوبائیت اورمنافرت کے سومنات تعمیرکرتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے مرکز کادامن چھوڑدیا۔چندماہ قبل چولستان میں محفوظ شہید کینال بنانے پرکام شروع ہوا تھا لیکن پیپلزپارٹی کے سیاسی دباؤ پریہ منصوبہ بھی بندکردیاگیا۔مقروض ملک کے محدود وسائل کوہرسال سیلاب زدگان اورمصیبت زدگان کی بحالی اورآبادکاری کیلئے امدادی سرگرمیوں کے نام پر جھونک دیا جاتا ہے لیکن آئندہ سال یقینی سیلاب کے بروقت سدباب کیلئے ایک ٹیڈی پیسہ صرف نہیں کیا جاتا۔سیلاب کاسدباب نہ کرنے کی متعدد وجوہات میں سے ایک ملک میں سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے بڑے پیمانے پرامدادی سامان سمیت نقد بیرونی فنڈز کاآنا جبکہ سیلاب پرسیاست چمکانا بھی ہے۔حکمران اورسیاستدان ہرسال سیلاب زدگان کے ساتھ اظہارہمدردی کاڈھونگ جبکہ ووٹوں کیلئے پوائنٹ سکورنگ اورپھر آئندہ سال سیلاب آنے کاانتظار کرتے ہیں۔

ایک طرف اسلامی معاشرے میں ” گَدھوں ” کاگوشت بیچنے مردہ ضمیر مردارلوگ متحرک ہیں تودوسری طرف ایک آدم خورطبقہ "گِدھوں ” کی طرح سیلاب میں غرقاب ہونیوالے انسانوں کی بوٹیاں نو چتا اوران کے احساس محرومی کی آگ پراپنی روٹیاں پکاتا ہے۔بیچارے سیلاب زدگان کے آنسونہیں تھم رہے جبکہ حکمران ان کی بیچارگی پربھی مگر مچھ کے آنسوبہارہے ہیں۔ اس بار بھی مختلف ملکوں سے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے خطیر سرمایہ اور مختلف سامان آئے گا لیکن ہمیشہ کی طرح مستحقین اس سے محروم رہیں گے۔یادرکھیں یہ جدید تعمیرات کادور ہے، دنیا کے متعدد ملک سمندر کے اندراوراوپر شاہراہوں پر گاڑیاں دوڑا رہے ہیں،عرب ملکوں کی ہردوسری "عمارت” سے ان کی” امارت” جھلکتی ہے جبکہ ہمارے ملک میں ہرچوک پرایک فلائی اوورتعمیرکرنے پرزور ہے۔یقینا ہماری حکمران اشرافیہ کی ترجیحات درست نہیں ہیں۔ جس ملک میں سیلاب آتے ہوں وہاں بڑے شہروں میں پل اورپارکنگ پلازے بنانے سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں پختہ بنداورآبی ذخائر تعمیرکرنااشدضروری ہے۔سیلاب کا”روٹ” اوراس کی "رُوٹ کاز”معلوم ہوتے ہوئے بھی اس کے بروقت سدباب کیلئے کوئی موثرانتظام یا اقدام کیوں نہیں کیاجاتا۔یادرکھیں شجر ہیں توبشر ہیں، درخت کاٹنا ایک جاندار کوناحق مارنا ہے۔سخت سزاؤں کی مدد سے اشجار کا قتل عام بندکیاجائے۔ جدید اصلاحات اورتعمیرات کی مدد سے دریاؤں اورنہروں کوسیلاب کامقابلہ کرنے کیلئے تیار کیاجائے۔کوئی مہذب معاشرہ اپنی نسلیں اورفصلیں سیلاب کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑسکتا، ہرسال ممکنہ سیلاب کے یقینی سدباب کیلئے ماہرین کی مدد سے ایک گرینڈ پراجیکٹ تیار کیاجائے۔

میں پاکستان کے خوابیدہ حکمرانوں کوجھنجوڑنے کیلئے امیرالمومنین حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کاقول دوہراتا رہتا ہوں،انہوں نے فرمایا تھا،اگردریائے فرات کے کنارے کوئی کتابھی پیاسا مرگیا تو مجھے ڈر ہے مجھ سے اس کے بارے میں پوچھاجاسکتا ہے”۔ اِسلامی ریاست پاکستان میں ہرسال سیلاب سے مارے جانیوالے انسانوں اورجانوروں کے بارے میں بھی ہمارے حکمرانوں سے روزمحشر بازپرس ضرور ہوگی۔یادرکھیں اقتدار واختیار بڑے بڑے سیاسی بیانات دینے یااپنے خاندان کیلئے شاہانہ محلات بنانے کا نہیں بلکہ شہریوں کوجدیدشہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے تعمیری اقدامات اوراصلاحات کرنے کادوسرا نام ہے۔ جوحکمران اقتدار کوامانت اورخودکوبارگاہ الٰہی میں جوابدہ سمجھتا ہووہ ہرگز راستہ نہیں بھٹکتا۔ ہماری موت اٹل ہے لیکن ہم میں سے کوئی مرنا نہیں چاہتا،معمولی بخار ہونے پرہم دوڑتے ہوئے ڈاکٹرکے پاس جاتے ہیں اوراپنی یااپنوں کی بحالی صحت کیلئے اپنے دستیاب وسائل جھونک دیتے ہیں۔ہم ڈاکٹریاطبیب کی ہدایات پرفوری پرہیز کیلئے کئی حلال نعمتوں کو بھی ترک کردیتے ہیں،ہم میں سے کوئی اپنی موت روکنے کی قدرت نہیں رکھتا لیکن اس کے باوجود بھرپور کوشش کرتے ہیں توپھر سیلاب کوبروقت روکنے یااس کے نقصانات سے خاطرخواہ بچاؤ کی قدر ت اورصلاحیت ہو تے ہوئے بھی ہمیں سال بھر ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھناکیوں پسند ہے۔میں نے اپنے گاؤں میں اَن پڑھ خواتین کو بارشوں سے بچاؤ کیلئے اپنی چھتوں اوردیواروں کومٹی کے گار سے لپائی اوراپنی موسمی فصلیں بروقت محفوظ مقام پرمنتقل کرتے ہوئے دیکھا ہے توکیا اس دورِجدید میں ہمارا تعلیم یافتہ حکمران طبقہ ہمارے گاؤں کی اَن پڑھ لیکن باصلاحیت خواتین کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتا۔ہمارے ملک میں آنیوالے سیلاب سے ہرسال صرف عام کسان اوردیہاتی کیوں متاثر ہوتے ہیں،کوئی بڑا زمیندار یاوڈیرہ اس کی زد میں کیوں نہیں آتا۔ راقم نے اپنے” بچپن "سے "پچپن "کے دوران آنیوالے ہر سیلاب کے بعدطاقتور فوجی اورنام نہاد منتخب حکمرانوں کوآئندہ برس ممکنہ سیلاب کے سدباب کیلئے کسی قسم کی تعمیرات یااقدامات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ہماری مادری زبان پنجابی کاایک محاورہ ہے،”ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں "، یعنی جو کام اپنے مقررہ یامخصوص وقت پرنہ کیاجائے وہ فائدہ مند نہیں ہوسکتا۔ہرسال سیلاب کاانتظار اورہزاروں متوفیان کے جنازوں پرماتم کرنے کی بجائے اس کے سدباب کاموثرنظام وضع کرناہوگا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں