استغاثہ ملزمان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام، ہائی کورٹ نے ممبئی ٹرین حملوں میں سزا پانے والے 12 ملزمان کو بری کر دیا

ممبئی ہائی کورٹ نے پیر کے روز 2006 ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے کیس میں سزا پانے والے تمام 12 افراد کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ، استغاثہ ملزمان پر الزامات ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ دی ہندو کے مطابق، جسٹس انیل ایس کلور اور جسٹس شیام سی چندک پر مشتمل خصوصی بینچ نے 2015 میں انسداد منظم جرائم کی خصوصی عدالت (MCOCA) کی جانب سے دی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا۔

خصوصی عدالت نے ان میں سے پانچ ملزمان کو سزائے موت اور باقی سات کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ انہیں بھارتی تعزیراتِ قانون (IPC)، انسداد غیرقانونی سرگرمی ایکٹ (UAPA)، MCOCA اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق قوانین کے تحت مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔

ان 12 ملزمان میں شامل ایک شخص، کمال احمد محمد وکیل انصاری، 2021 میں ناگپور جیل میں قید کے دوران کووڈ-19 کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔

بینچ نے اپنے فیصلے میں کہاکہ، استغاثہ اپنے مقدمے کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں طرح ناکام رہا ہے۔ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ، ملزمان نے یہ جرم کیا۔ لہٰذا ان کی سزا کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے مزید کہاکہ،جرم کے اصل مجرم کو سزا دینا جرائم کی روک تھام، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہےلیکن محض جھوٹے دکھاوےکے لیے یہ کہنا کہ کیس حل ہو گیا ہےاور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا،یہ عوام کو ایک گمراہ کن تسلی دینے کے مترادف ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں