ماریو ورگاس یوسا —نوبیل انعام یافتہ عظیم ادیب

تیرہ اپریل کو لاطینی امریکہ کے عظیم ادیب اور نوبیل انعام یافتہ ناول نگار ماریو ورگاس یوسا (Mario Vargas Llosa) انتقال کر گئے ۔
ماریو ورگاس یوسا 28 مارچ 1936 کو پیرو (Peru) کے شہر آریکویپا (Arequipa) میں پیدا ہوئے۔ یوسا ناول نگار، مضمون نویس، ڈرامہ نگار اور صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں سیاست، طاقت، معاشرتی ناانصافیاں اور انسان کی داخلی کشمکش جیسے موضوعات نمایاں ہوتے ہیں۔ کیتھڈرل میں مکالمہ (Conversation in the Cathedral )،دا ٹائم آف دا ہیرو(The Time of the Hero)، بکرے کی ضیافت (The Feast of the Goat)اور دا وار آف دا اینڈ آف دا ورلڈ شامل ہیں۔
وہ “لاطینی امریکی بوم” (Latin American Boom) تحریک کے اہم رکن تھے، جس میں گیبریئل گارشیا مارکیز، جولیو کورٹازار اور کارلوس فیوئنٹس جیسے عظیم مصنفین شامل تھے۔

یوسا کو 2010 میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا، جس میں ان کی خاکہ نگاری” اور “انفرادی مزاحمت، انکار اور شکست کے مناظر” کو سراہا گیا۔
ماریو ورگاس یوسا نہ صرف فکشن کے میدان میں ممتاز ہیں، بلکہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم رہے۔ ایک موقع پر وہ پیرو کے صدارتی امیدوار بھی بنے، حالانکہ کامیاب نہ ہو سکے۔
ان کی تحریریں فکری گہرائی، ادبی چمک اور سیاسی شعور کا حسین امتزاج پیش کرتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں پڑھے اور سراہا جاتے ہیں۔
یوسا کے ناولوں کے بعض مشہور جملے :
“اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ کبھی واپس نہیں آئے گی، لیکن اب وہ اُس شہر کی گلیوں میں چل رہی تھی، جو یادوں اور زخموں کی مہک سے بھرا ہوا تھا۔” (ناول فیسٹ آف دا گوٹ ، یورانیہ کی واپسی )

“خوف وہ ہوا تھی جو وہ سانسوں میں کھینچتے تھے؛ وہ ان کی ہڈیوں اور خوابوں تک میں اتر چکا تھا۔ (فیسٹ آف دا گوٹ )

“اسے صرف ملک پر نہیں، بلکہ ہر روح، ہر سرگوشی، ہر خاموشی پر بھی اختیار درکار تھا۔”

کچھ زخم بھر نہیں پاتے، وہ صرف وقت کے ساتھ خاموش ہو جاتے ہیں۔”

“سب سے تاریک گھڑی میں بھی، وہ روشنی پر یقین رکھتے تھے — چاہے اس کی قیمت ان کی جان ہی کیوں نہ ہو۔”

ناول “کیتھڈرل میں مکالمہ” کے چند جملے :

“وہ کون سا لمحہ تھا جب پیرو نے خود کو برباد کر لیا؟” (ناول کا ابتدائی جملہ)
“کوئی راہِ فرار نہیں تھی — نہ ان گلیوں سے، نہ ماضی سے، اور نہ ہی خود اپنی ذات سے۔”
“آمریت صرف محلوں میں نہیں تھی؛ وہ انسانوں کی روحوں میں بھی سرایت کر چکی تھی۔”
“اس کے اندر ایک خلا تھا، اور کوئی لفظ، کوئی شراب، کوئی عورت اسے پُر نہیں کر سکتی تھی۔”
“یادداشت ایک پھندہ ہے — فراموشی سے کہیں زیادہ ظالم۔”

ناول وار آف دا اینڈ آف دا ورلڈ :

“انہیں موت کا خوف نہ تھا۔ انہیں صرف اس بات کا ڈر تھا کہ مشیر کی نظر ان سے ہٹ نہ جائے۔”

“جب دونوں طرف کے لوگ یکساں شدت سے جھوٹ بولتے ہیں، تو سچ بچتا ہی کہاں ہے؟”
“شاید ہمیں اس چیز کو قتل کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے، جسے ہم سمجھ نہیں پاتے۔”
“Canudos did not surrender. It was destroyed, stone by stone, soul by soul.”

Author

اپنا تبصرہ لکھیں