نتیجہ نہیں ، اسباب دیکھیں

ہمارے معاشرے کا ایک عجیب المیہ ہے کہ ہم کسی انسان کے حالات جانے بغیر اس کے کردار کا فیصلہ سنانے میں دیر نہیں لگاتے۔ ہمیں کسی کی غلطی نظر آ جائے تو ہم اس کی پوری زندگی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں، لیکن جب اپنی ذات، اپنے مفادات اور اپنے رویّوں کا جائزہ لینے کی باری آتی ہے تو ہمارے پاس درجنوں وضاحتیں، بے شمار مجبوریاں اور سینکڑوں جواز موجود ہوتے ہیں۔ دوسروں کی غلطی ہمیں ان کا اصل چہرہ دکھائی دیتی ہے، مگر اپنی غلطی ہمیں حالات کا نتیجہ محسوس ہوتی ہے۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جو ہمارے معاشرے میں منافقت کی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔ ہم انسانوں کو ان کے ایک عمل سے پہچاننے لگتے ہیں، ان کی پوری زندگی کو چند لمحوں میں تول دیتے ہیں اور پھر اپنے فیصلے کو حق و انصاف کا نام دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کسی انسان کو سمجھنا اتنا آسان ہے؟

ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔ ایک غریب آدمی کسی مجبوری کے تحت قرض لیتا ہے تو اسے غیر ذمہ دار کہا جاتا ہے، لیکن ایک صاحبِ حیثیت شخص لاکھوں کا نقصان کر دے تو اس کے لیے کاروباری حالات کی وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔ ایک عورت معاشی مجبوریوں، گھریلو تشدد یا کسی تلخ تجربے کے بعد اپنی زندگی کا راستہ بدلنے پر مجبور ہو جائے تو معاشرہ اس کے کردار پر سوال اٹھانے لگتا ہے، مگر اس کے حالات جاننے، اس کی مدد کرنے اور اسے دوبارہ زندگی شروع کرنے کا موقع دینے کے لیے بہت کم لوگ آگے آتے ہیں۔ ایک نوجوان بے روزگاری کے باعث پریشان ہو تو اسے محنت نہ کرنے کا طعنہ دیا جاتا ہے، لیکن ملازمتوں کی کمی، سفارش کے نظام اور مواقع کی غیر مساوی تقسیم پر بات کرنے والے کم نظر آتے ہیں۔ ہم نتیجہ دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے موجود اسباب نہیں؛ ہم زخم پر انگلی رکھتے ہیں، مگر یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ یہ زخم لگا کیسے۔ یہی رویّہ انسان کو تنہا بھی کرتا ہے اور معاشرے کو بے حس بھی۔

ہمارے ہاں کردار کا پیمانہ بھی اکثر عجیب ہوتا ہے۔ کسی کی عزت کا فیصلہ اس کے لباس، خاندان، مالی حیثیت، پیشے اور معاشرتی مقام سے کر لیا جاتا ہے۔ جو شخص ہمارے بنائے ہوئے معیار پر پورا اترے، اس کی خامیوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ معاشرتی دائرے سے باہر کھڑا انسان اپنی ہر خوبی کے باوجود شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس معاشرتی منافقت کی ایک نمایاں شکل یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کی برائیوں پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی نیکیوں کی تشہیر کرنا نہیں بھولتے۔ کسی کی غلطی سوشل میڈیا پر سامنے آ جائے تو ہم اسے تضحیک کا نشانہ بنانے، اس کی پرانی تصاویر تلاش کرنے اور اس کے خاندان تک کو بحث میں گھسیٹنے لگتے ہیں۔ ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ چند لمحوں کی ہماری تفریح کسی دوسرے انسان کے لیے برسوں کی ذہنی اذیت بن سکتی ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حالات کسی انسان کی ہر غلطی کا جواز بن سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ غربت، محرومی، ناانصافی اور تلخ تجربات کسی کے رویّے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، لیکن یہ ہر قسم کے نقصان دہ عمل کو درست نہیں بنا دیتے۔ اگر کسی نے کسی کا حق مارا ہے، کسی کمزور کا استحصال کیا ہے یا کسی دوسرے انسان کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا ہے تو اسے جواب دہ ہونا چاہیے۔ تاہم، فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ واقعہ کیا تھا، اس کے اسباب کیا تھے اور اصلاح یا انصاف کا مناسب راستہ کون سا ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ درکار ہے جہاں مظلوم کو انصاف ملے، غلطی کرنے والے کو اپنی اصلاح کا موقع ملے اور کسی انسان کو اس کے ماضی کی بنیاد پر ہمیشہ کے لیے مجرم نہ سمجھ لیا جائے۔

ہم اکثر مذہب، اخلاقیات، عزت اور تہذیب کی بات کرتے ہیں، لیکن ان اصولوں کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے سامنے کوئی ایسا انسان آتا ہے جسے معاشرہ پہلے ہی مسترد کر چکا ہو۔ کسی بے سہارا عورت کی مدد کرنا، کسی ناکام نوجوان کی حوصلہ افزائی کرنا، کسی غریب کی مجبوری کو سمجھنا یا کسی غلطی کے بعد پشیمان شخص کو اصلاح کا موقع دینا محض اچھے الفاظ نہیں بلکہ عملی کردار کا تقاضا ہے۔ انسانیت کا ثبوت اس وقت نہیں ملتا جب ہم اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں، بلکہ اس وقت ملتا ہے جب ہم ایسے شخص کے ساتھ بھی انصاف اور احترام کا رویّہ اختیار کرتے ہیں جس کے حالات، ماضی یا فیصلے ہم سے مختلف ہوں۔ کسی کی مجبوری کا مذاق اڑانے کے بجائے اس کے لیے راستہ پیدا کرنا، کسی کی کمزوری کو اچھالنے کے بجائے اسے سہارا دینا اور کسی کی غلطی کو اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اس کی اصلاح کی کوشش کرنا ہی وہ رویّے ہیں جو معاشرے کو بہتر بناتے ہیں۔

معاشرے کی اصلاح کا آغاز ہمیشہ دوسروں سے نہیں، اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم کسی کی کہانی مکمل سنے بغیر رائے قائم کر سکتے ہیں؟ یاد رکھیں، ہر انسان کی زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے تمام صفحات دوسروں کے سامنے نہیں ہوتے۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ ہو سکتی ہے مگر دل میں برسوں کا دکھ چھپا ہو؛ کسی کے رویّے میں سختی ہو سکتی ہے مگر اس کے پیچھے ایسے تجربات موجود ہوں جن کا ہمیں علم نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر شخص کے بارے میں اچھا ہی گمان کریں یا ہر غلطی کو نظرانداز کر دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے فیصلوں میں جلد بازی کے بجائے انصاف، نفرت کے بجائے سمجھ بوجھ اور تحقیر کے بجائے وقار کو جگہ دیں۔ معاشرے اس وقت بہتر نہیں ہوتے جب لوگ ایک دوسرے کی غلطیاں تلاش کرنے میں ماہر ہو جائیں؛ معاشرے اس وقت بہتر ہوتے ہیں جب لوگ غلطی اور انسان کے درمیان فرق کرنا سیکھ لیں۔ شاید ہمیں دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے رویّوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کسی انسان کو گرانے کے لیے ایک جملہ کافی ہوتا ہے، لیکن اسے سنبھالنے کے لیے ہمدردی، وقت اور حوصلہ درکار ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں