کشمیر, تقسیمِ ہند کا ادھورا ایجنڈا اور پون صدی کا المیہ

ریاستِ جموں و کشمیر محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ برصغیر کی تقسیم کا وہ ادھورا ایجنڈا ہے جو آج پون صدی گزر جانے کے باوجود عالمی امن کے ماتھے پر ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر جہاں انسانی خون پانی سے بھی ارزاں ہے جہاں بنیادی حقوق کی مسلسل پامالی اقوام عالم کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ 1947ء میں جب برطانوی ہند کی تقسیم کا عمل جاری تھا، تو ریاست جموں و کشمیر اپنی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث جنوبی، شمالی اور مشرقی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے خاص مرکزِ نگاہ تھی۔ یہ ریاست جہاں جنوب میں پنجاب اور مغرب میں پاکستان کے صوبہ سرحد سے جڑی تھی، وہیں شمال میں اس کی سرحدیں واخان کوریڈور کے ذریعے افغانستان اور تبت سے ملتی تھیں۔

(1947ء کی عوامی جدوجہداور قبائلی لشکر کی آمد)

تقسیمِ ہند کے وقت جب مہاراجہ ہری سنگھ اقتدار کو طول دینے کے لیے تذبذب کا شکار تھے، ریاست کے غیور عوام بالخصوص پونچھ اور میرپور کے سابق فوجیوں نے ڈوگرہ مظالم کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے تھے۔ پونچھ کی یہ آزادی کی جدو جہد دراصل ایک عوامی تحریک تھی جس نے مہاراجہ کی فوجی گرفت کو ہلا کر رکھ دیا اور جب ڈوگرہ افواج نے نہتے مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی تو یہ عوامی تحریک معاشی استحصال، مذہبی پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور عوامی رائے عامہ کیخلاف حکومتی طرز عمل پر رد عمل تھا۔ ڈوگرہ راج میں مسلمانوں پر چولہے اور کھڑکیوں تک کے بھاری ٹیکس عائد تھے اور پونچھ کے عوام نے جب ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائی تو مہاراجہ کی فوج نے گاؤں کے گاؤں جلا کر اور جموں میں مسلمانوں کی منظم نسل کشی (جموں قتلِ عام) کر کے اس تحریک کو کچلنے کی کوشش کی۔ یہی وہ جبر تھا جس نے 22 اکتوبر 1947 کو قبائلی مجاہدین کو کشمیریوں کی مدد کے لیے میدان میں آنے پر مجبور کیا، جس کے پانچ دن بعد 27 اکتوبر کو بھارتی فوج نے مہاراجہ کے ساتھ ایک متنازع الحاق کا سہارا لے کر باقاعدہ مداخلت کی۔
انکے مظالم اور مہاراجہ کے انڈیا کی طرف جھکاؤ کو دیکھتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کی پکار پر سرحد کے غیرت مند قبائلی لشکر، جن میں محسود، آفریدی اور دیگر قبائل شامل تھے، اکتوبر 1947ء میں کشمیر میں داخل ہوئے۔

ان قبائلیوں اور مقامی مجاہدین نے اپنی روایتی بہادری سے ڈوگرہ فوج کو پیچھے دھکیل دیا اور مظفرآباد سے ہوتے ہوئے سری نگر کے مضافات تک جا پہنچے۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب کشمیریوں کی آزادی بالکل قریب تھی، لیکن مہاراجہ کی بوکھلاہٹ اور بھارت کی فوجی مداخلت نے منظر نامہ بدل دیا۔ بھارت نے فوجی امداد کو (Instrument of Accession) پر دستخط سے مشروط کر دیا۔ 26 اکتوبر 1947ء کو مہاراجہ نے متنازع حالات میں دستاویز پر دستخط کیے اور 27 اکتوبر کو بھارتی افواج سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتر گئیں، جس نے اس خطے کو مستقل جنگ کے دہانے پر کھڑا کر دیا۔
(سیاسی مزاحمت اور حریت کانفرنس کا بے مثال کردار)

کشمیر کی تاریخ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ سیاسی عزم و استقلال کی بھی ایک طویل داستان ہے۔ 1990ء کی دہائی میں جب تحریکِ آزادی نے نیا رخ اختیار کیا، تو ریاست کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے متحد ہو کر “کل جماعتی حریت کانفرنس” کی بنیاد رکھی۔ اس پلیٹ فارم نے کشمیریوں کی آواز کو عالمی سطح پر منظم انداز میں پہنچایا۔

اس جدوجہد میں سید علی گیلانی مرحوم کا نام ایک استعارے کے طور پر ابھرا، جنہوں نے “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے” کے نعرے سے تحریک کو ایک نظریاتی اساس فراہم کی۔انکے جانشین مسرت عالم بٹ اپنی زندگی کے پچیس سال مختلف اوقات میں جیلوں میں کاٹ چکے ہیں اور اس وقت بھی دہلی کی تہاڑ جیل میں ۲۰۱۵ سے لیکر تاحال غیر اعلانیہ اور غیر معینہ قید میں ہیں۔ اسی طرح شبیر احمد شاہ، جنہیں ان کی طویل قید و بند کی وجہ سے “نیلسن منڈیلا” کہا جاتا ہے، اور یاسین ملک جنہوں نے پرامن سیاسی جدوجہد کی پاداش میں بھارت کی سنگین عدالتوں سے سزائیں پائیں، کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کی علامت بن کر ابھرے۔ میر واعظ عمر فاروق نے اپنی مذہبی اور سیاسی حیثیت کے ذریعے کشمیریوں کی فکری راہنمائی کی۔ محترمہ آسیہ اندرابی بھی الحاق پاکستان کا ایک بڑا نام ہے جوکہ ۲۰۱۸ سے جیل میں قید ہیں انکے خاوند ڈاکٹر قاسم فکتو بھی گزشتہ تیس سال سے قید و بند کی صعوبتوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مزکورہ بالا ان قائدین اور دیگر نے بھارت کی جانب سے دی گئی مراعات کو ٹھکرا کر قید اور اذیتوں کو ترجیح دی، جس نے ثابت کر دیا کہ کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔عبدالغنی لون،افضل گورو،مقبول بٹ،اشرف صحرائی جیسی نابغہ روزگار شخصیات کی قربانیوں کی ایک الگ داستان ہے جن کا جرم صرف اور صرف اپنے حق رائے دہی کے حصول کیلئے جدوجہد کرنا ہی تھا۔

(خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور 5 اگست کا شب خون)

1. سیاسی خلا اور قیادت کی قید،
آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ ہی کشمیر کی پوری سیاسی قیادت (بشمول حریت پسند اور بھارت نواز سمجھے جانے والے لیڈروں) کو گرفتار یا نظر بند کر دیا گیا۔ سید علی گیلانی کی وفات کے بعد حریت کا ڈھانچہ بکھر چکا ہے اور مسرت عالم بٹ جیسے رہنما جیلوں میں ہیں۔ مقامی لوگوں کے پاس کوئی ایسی سیاسی آواز نہیں بچی جو ان کی ترجمانی کر سکے۔

2. آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کا خوف (Demographic Change)
آرٹیکل 35A کے خاتمے کے بعد سب سے بڑا اثر ‘ڈومیسائل’ قوانین پر پڑا ہے۔ اب غیر کشمیریوں کو وہاں زمین خریدنے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کی اجازت مل چکی ہے۔ کشمیریوں میں یہ شدید خوف پایا جاتا ہے کہ بھارت یہاں اسرائیل کے طرز پر آباد کاری کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی رائے شماری کے نتائج کو متاثر کیا جا سکے۔

3. انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار پر پابندی
مقامی صحافت پر سخت سینسر شپ ہے۔ کئی صحافیوں کو قید کیا گیا، جس کی وجہ سے مقامی میڈیا اب صرف حکومتی بیانیہ چھاپنے تک محدود ہو گیا ہے۔
• وادی میں کسی بھی قسم کے سیاسی اجتماع یا احتجاج کی اجازت نہیں ہے۔ عوامی آواز کو دبانے کے لیے ‘پبلک سیفٹی ایکٹ’ کے تحت کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کیا https://tashkenturdu.com/wp-admin/edit-comments.phpجا رہا ہے۔

4. معاشی بدحالی اور زمینوں کی واگزاری
• حکومت نے ‘انسدادِ تجاوزات’ (Anti-encroachment) مہم کے نام پر ایسی کئی زمینوں سے کشمیریوں کو بے دخل کیا ہے جن پر وہ دہائیوں سے آباد تھے۔
• کشمیر کی معیشت، جو سیاحت اور سیب کی صنعت پر منحصر تھی، بار بار کے لاک ڈاؤنز اور انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

5. نفسیاتی دباؤ اور خوف کی فضا
کشمیر اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ فوجی پہرے والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ گلی کوچوں میں بنکرز، تلاشی کی کارروائیاں اور نوجوانوں کی بلا جواز گرفتاریاں عام ہیں۔ لوگوں میں ایک “خاموشی کی خوفناک لہر” ہے؛ وہ ناراض ہیں لیکن بولنے پر جیل یا تشدد کا خطرہ ہے۔

6. تعلیمی اور مذہبی مداخلت
جامع مسجد سرینگر جیسی بڑی مساجد کو اکثر نمازِ جمعہ کے لیے بند رکھا جاتا ہے۔ اسکولوں کے نصاب اور تعلیمی اداروں میں ایسے پروگرامز لازمی قرار دیے جا رہے ہیں جنہیں مقامی لوگ اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت پر حملہ تصور کرتے ہیں

(مستقبل کا راستہ حل کی تجاویز)
مسئلہ کشمیر اب محض جذباتی نعروں سے حل ہونے والا نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک ہمہ جہت قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے

1. قومی اتفاقِ رائے:
ریاست کو کشمیر کے معاملے پر تمام سیاسی و عسکری قیادت کے اشتراک سے ایک مستقل اور غیر متزلزل ‘نیشنل پالیسی’ ترتیب دینی چاہیے۔

2. سفارتی و قانونی محاذ:
عالمی فورمز پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنیوا کنونشن کی روشنی میں مقدمہ لڑنا وقت کی ضرورت ہے۔

3. کشمیری قیادت کی شمولیت: کسی بھی حل میں حریت قیادت اور کشمیری عوام کو مرکزی ‘اسٹیک ہولڈر’ کے طور پر شامل کیا جائے۔

اقوام عالم کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ کشمیر اب محض ایک سرحدی تنازع نہیں رہا، بلکہ یہ انسانی ضمیر کی بقا اور بین الاقوامی قوانین کی ساکھ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ بھارت نے اگرچہ طاقت کے زور پر وادی میں ایک ‘مصنوعی خاموشی’ طاری کر رکھی ہے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ نظریات کو سلاخوں کے پیچھے قید نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی برادری کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ جب تک کشمیر کے عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت نہیں ملتا، تب تک جنوبی ایشیا میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے لیے وقت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی سفارتی صفوں میں یکسوئی پیدا کرے اور کشمیریوں کے اس مقدمے کو دنیا کے ہر فورم پر ‘حق اور انصاف’ کی بنیاد پر لڑے۔ کشمیر کا زخم تبھی بھرے گا جب فیصلے کی طاقت کشمیریوں کے اپنے ہاتھ میں ہوگی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں