صحافت: خبر، کاروبار اور ضمیر کی کشمکش

صحافت کسی معاشرے میں محض واقعات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ وہ اجتماعی شعور کی تشکیل، اقتدار کے احتساب، عوامی مسائل کی نشان دہی اور حقائق کی بازیافت کا ایک بنیادی وسیلہ ہے۔ اس کی معنویت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب خبر کی صحت، رائے کی آزادی اور عوامی مفاد کو تجارتی منفعت اور ذاتی مصلحت پر ترجیح حاصل ہو۔ لیکن جب خبر کی قدر اس کے مندرجات کے بجائے اس کی فروخت، اس کے اثرات کے بجائے اس کی مقبولیت اور اس کی صداقت کے بجائے اس کی کاروباری افادیت سے متعین ہونے لگے تو صحافت اپنے بنیادی مقصد اور معاشی بقا کے درمیان ایک پیچیدہ کشمکش میں گرفتار ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں صحافت کو درپیش موجودہ چیلنجوں کا مطالعہ بھی اسی تناظر میں کیا جانا چاہیے۔

خبر اور کاروبار کا تعلق اپنی ذات میں متضاد نہیں۔ کسی اخبار، ٹیلی وژن چینل یا ڈیجیٹل ادارے کو چلانے کے لیے سرمایہ، تربیت یافتہ افرادی قوت، جدید آلات، تحقیقاتی وسائل اور مستقل مالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ اشتہارات اور دیگر آمدنی کے ذرائع کے بغیر صحافتی اداروں کی بقا دشوار ہوسکتی ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کاروباری مفاد خبر کے انتخاب، اس کی پیش کش اور اس کی اشاعت کی حدود متعین کرنے لگے۔ صحافتی ادارہ اگر عوام کو باخبر رکھنے کے بجائے صرف مشتہرین، مالکان یا بااثر حلقوں کی ترجیحات کا تابع ہوجائے تو ادارتی آزادی بتدریج رسمی اصطلاح بن کر رہ جاتی ہے۔ یوں صحافت کا معاشی ڈھانچا اس کے فکری تشخص پر اثرانداز ہونے لگتا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کو اس وقت مالی دباؤ، اشتہاری آمدنی میں تبدیلی، پیداواری اخراجات، ملازمتوں کے عدم تحفظ اور ڈیجیٹل ذرائع سے پیدا ہونے والے نئے مسابقتی ماحول کا سامنا ہے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی 2025-26 کی رپورٹ نے بھی صحافتی آزادی، معاشی مشکلات، قانونی دباؤ اور صحافیوں کے تحفظ سے متعلق متعدد خدشات اجاگر کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یکم مئی 2025 سے 30 اپریل 2026 کے دوران صحافیوں کو دھمکیوں، قانونی کارروائیوں اور تشدد سمیت مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا رہا۔ یہ رپورٹ ایک بین الاقوامی صحافتی تنظیم کا جائزہ ہے اس کے نتائج کو متعلقہ شواہد اور قومی تناظر کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے، تاہم یہ اس امر کی نشان دہی ضرور کرتے ہیں کہ صحافت کی آزادی اور اس کے معاشی استحکام کو الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

سرکاری اشتہارات کی تقسیم بھی اسی بحث کا اہم پہلو ہے۔ اگر اشتہاری وسائل کی فراہمی شفاف، منصفانہ اور قابلِ جانچ اصولوں کے بجائے ادارتی رویّے سے مشروط ہونے لگے تو صحافتی خودمختاری متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی طرح نجی اشتہارات پر حد سے زیادہ انحصار بھی اداروں کو تجارتی دباؤ کے سامنے کمزور کرسکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر اشتہار ادارتی مداخلت کا ذریعہ ہو، لیکن ایسے نظام میں جہاں آمدنی کے متبادل محدود ہوں، مالیاتی انحصار خبر کے انتخاب پر بالواسطہ اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس مسئلے کا حل اشتہارات کی مکمل نفی نہیں، بلکہ آمدنی کے ذرائع میں تنوع، منصفانہ تقسیم، واضح ضابطوں اور ادارتی فیصلوں کو کاروباری معاملات سے الگ رکھنے میں مضمر ہے۔

اس کشمکش کا دوسرا رخ خود خبر کی نوعیت میں تبدیلی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں نے معلومات کی ترسیل کو غیر معمولی رفتار عطا کی ہے، لیکن اسی رفتار نے تصدیق، سیاق و سباق اور ذمہ دارانہ اشاعت کے تقاضوں کو بھی زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ اب ایک غیر مصدقہ اطلاع چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے، جب کہ اس کی تردید اصل خبر جتنی توجہ حاصل نہیں کرپاتی۔ سنسنی خیز سرخیاں، جذبات کو بھڑکانے والا مواد، نامکمل ویڈیوز اور غیر مصدقہ دعوے وقتی طور پر زیادہ توجہ حاصل کرسکتے ہیں، مگر ان سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ خبر کی رفتار اگر اس کی صحت سے آگے نکل جائے تو صحافت معلومات کی خدمت کے بجائے ابہام کی افزائش کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ اب تصاویر، آوازوں اور ویڈیوز میں ایسی تبدیلیاں ممکن ہیں جن سے حقیقی اور مصنوعی مواد کے درمیان فرق کرنا عام قاری کے لیے دشوار ہوسکتا ہے۔ اس ماحول میں صحافی کی ذمہ داری صرف اطلاع آگے پہنچانا نہیں، بلکہ ماخذ کی شناخت، مواد کی تصدیق، متعلقہ فریق کا مؤقف حاصل کرنا اور خبر کے سیاق کو واضح کرنا بھی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی صحافت کے لیے تحقیق اور تجزیے کے نئے امکانات پیدا کرتی ہے، لیکن اسے انسانی تحقیق، پیشہ ورانہ فیصلہ سازی اور اخلاقی جواب دہی کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

تاہم صحافت کے تمام مسائل کا سبب بیرونی دباؤ یا کاروباری مفاد کو قرار دینا بھی حقیقت کا نامکمل مطالعہ ہوگا۔ پیشہ ورانہ معیار کی پاسداری، غلطی کی بروقت اصلاح، خبر اور اشتہار کے درمیان واضح امتیاز، مفادات کے تصادم کی نشان دہی اور اختلافی مؤقف کو منصفانہ جگہ دینا خود صحافتی اداروں اور اہلِ قلم کی ذمہ داری ہے۔ آزادیٔ صحافت کے ساتھ جواب دہی لازم ہے، کیونکہ غیر ذمہ دارانہ آزادی بھی عوامی اعتماد کو مجروح کرسکتی ہے۔ اسی لیے پریس کونسل آف پاکستان کے اخلاقی ضابطے میں دیانت، صحت، معروضیت، انصاف اور عوامی مفاد کو صحافت کے بنیادی اصولوں میں شمار کیا گیا ہے۔ ان اصولوں کی افادیت محض ضابطہ مرتب کردینے میں نہیں، بلکہ ان پر مستقل عمل درآمد میں ہے۔

اس ضمن میں صحافتی اداروں کو اپنے مالیاتی نظام میں شفافیت، ادارتی پالیسی میں خودمختاری اور پیشہ ورانہ تربیت میں تسلسل پیدا کرنا ہوگا۔ صحافیوں کی بروقت تنخواہوں، ملازمت کے تحفظ، قانونی معاونت اور جسمانی سلامتی کو بھی صحافتی آزادی کے بنیادی تقاضوں میں شامل سمجھنا چاہیے۔ جب ایک رپورٹر معاشی بے یقینی یا ذاتی سلامتی کے خدشات میں گھرا ہو تو اس کے لیے آزادانہ تحقیق اور بے لاگ سوال اٹھانے کی گنجائش محدود ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف قارئین اور ناظرین کو بھی معلومات کے انتخاب میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہر مقبول خبر لازماً درست نہیں ہوتی، اور ہر غیر مقبول حقیقت لازماً غلط نہیں ہوتی۔

صحافت کی اصل قوت اس کے شور، سنسنی یا اثر و رسوخ میں نہیں، بلکہ اس اعتماد میں ہے جو وہ اپنے قارئین کے ساتھ قائم کرتی ہے۔ کاروبار ادارے کو زندہ رکھ سکتا ہے، ٹیکنالوجی اس کی رسائی بڑھا سکتی ہے اور آزادی اسے سوال اٹھانے کا حوصلہ دے سکتی ہے؛ لیکن ان تمام عناصر کو بامعنی بنانے کے لیے ضمیر کی بیداری ناگزیر ہے۔ خبر اگر تجارت کی نذر ہوجائے، آزادی اگر مصلحت کے تابع ہوجائے اور اخلاقیات اگر محض تحریری ضابطے تک محدود رہ جائیں تو صحافت اپنی ظاہری وسعت کے باوجود اپنے اصل منصب سے دور ہوسکتی ہے۔ پاکستانی صحافت کے مستقبل کا انحصار اسی توازن پر ہے کہ ادارے معاشی طور پر مستحکم بھی ہوں، صحافی پیشہ ورانہ طور پر محفوظ بھی ہوں اور عوام کو ایسی معلومات بھی میسر آئیں جن کی بنیاد تصدیق، دیانت اور اجتماعی مفاد پر استوار ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں