ایران-اسرائیل جنگ کے 12 روز بعد اسپین نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری گزٹ میں جاری اعلامیے کے مطابق، بدھ کے روز حکومت نے اسرائیل میں تعینات ہسپانوی سفیر انا ماریا سلامون کی تقرری ختم کرنے کا حکم جاری کیا۔ یہ فیصلہ 10 مارچ 2026 کو وزرا کی کونسل کے اجلاس میں غور و خوض کے بعد کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق، اسپین کے وزیر خارجہ کی تجویز پر یہ قدم اٹھایا گیا جس کے تحت اسرائیل میں اسپین کے سفارت خانے کی سربراہی اب ایک ناظم الامور کے سپرد کی جائے گی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارت خانہ معمول کے سفارتی امور جاری رکھے گا، تاہم سفیر کی تعیناتی فی الحال نہیں ہوگی۔
اسپین حالیہ عرصے میں یورپی یونین کے ان ممالک میں شامل رہا ہے، جو غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی نئی جنگ پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو ‘غیر منصفانہ’ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہےکہ میڈرڈ کا مؤقف جنگ کے خلاف ہے۔
اسپین کی حکومت اس سے پہلے بھی غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر مسلسل تنقید کرتی رہی ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں اسپین کی پارلیمنٹ نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت اسرائیل کو اسلحہ، فوجی سازوسامان اور دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام غزہ میں جاری انسانی بحران کے ردعمل کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، اسپین کی جانب سے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات میں ایک اہم اور سخت قدم سمجھا جا رہا ہے، جو خطے میں جاری جنگی صورتحال پر یورپی ممالک کے بڑھتے ہوئے اختلافات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔