حالیہ برسوں میں متعدد ایسے بیانات، اقدامات اور منصوبے سامنے آئے ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہودی مذہبی و صہیونی حلقے عبادت، نشانیات اور سیاسی حکمتِ عملی کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اثر و رسوخ کے لیے عالمی سطح پر وسائل تلاش کر رہے ہیں، اسی سلسلے میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا حالیہ بیان ایک مثال ہے، نیتن یاہو نے ایک امریکی کانگریس وفد سے ملاقات کے دوران کہا “Do you have cell phones? … You’re holding a piece of Israel right there” یعنی اگر آپ کے پاس موبائل فون ہے تو وہ ایک “ٹکڑا اسرائیل” ہے، اسرائیل کے اثرات اور مصنوعات آپ کی زندگی میں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سی دوائیں، خوراک، اور دیگر مصنوعات اسرائیل سے آتی ہیں، اور یہ کہ اسرائیل کی پیداوار صرف مقامی نہیں ہے بلکہ عالمی منڈی تک پھیل رہی ہے،اسرائیل سرخ گائے کی قربانی اور تیسری عبادت گاہ کے تصور کو مذہبی نصاب، علمی سرگرمیوں اور میڈیا کے ذریعے اجاگر کر رہا ہے تاکہ یہودی عوام میں اس کی اہمیت بڑھے، بیت المقدس، دیوار گریہ، اور معبد جبل کے اردگرد کھدائی یا تحقیقاتی و آثارِ قدیمہ کی کاروائیاں مبینہ طور پر بڑھ رہی ہیں، جس سے مقدس مقامات کی بدلتی صورت اور تفویض کا خدشہ ہے، مذہبی اور سیاسی رہنما اسرائیلی شناخت کو قومیت کے ساتھ مذہب سے جوڑنے کی کوششیں کر رہے ہیں، اور تعلیم و نصاب میں ایسا مواد شامل ہو رہا ہے جو یہودی تاریخی اور مذہبی حقوق کو اجاگر کرتا ہے۔
فلسطینی عوام مسلسل جغرافیائی، سیاسی اور مذہبی طور پر محاصرہ اور پابندیوں کا شکار ہیں، نقل و حرکت کی رکاوٹیں، عبادت کی محدود آزادی، گھروں کی مسماری، اور بین الاقوامی عدالتوں یا میڈیا کی کارروائیوں کی کمی، مذہبی عبادت گاہیں بشمول مسجد الاقصیٰ کو حفاظتی اور سیکیورٹی اقدامات کے نام پر محدودی پابندیوں کا سامنا ہے جس سے مسلمان عبادت گزاروں کو تکلیف ہوتی ہے، عالمی برادری کی طرف سے مسلمانوں کے موقف کی آواز اکثر دب جاتی ہے، اور حقوق انسانی اور عبادت کی آزادی کے موضوعات پر بین الاقوامی دباؤ کم محسوس ہوتا ہے۔
نیتن یاہو کا بیان کہ “ہر موبائل فون ایک ٹکڑا اسرائیل ہے” دراصل یہ بتاتا ہے کہ اسرائیل اپنا معاشی، ٹیکنالوجیکل اور تجارتی اثر دنیا بھر پھیلانے کا عزم رکھتا ہے، یہ محض اقتصادی مصنوعات کا اشارہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی و سیاسی حکمتِ عملی بھی ہے، ایسی حکمتِ عملی جہاں یہودی تشخص، مذہبی نشانیات اور معبد کا تصور شامل ہوں، وہ مسلمانوں میں تشویش اور احساسِ محرومی کو بڑھا رہا ہے، خاص طور پر جب مقدّس مقامات کی حفاظت اور عبادت کی آزادی کو خطرہ محسوس ہو، نوجوان نسل پر اثرات مذہبی انتہا پسندی کے تصورات، ثقافتی فرقہ واریت، اور مغربی ثقافتی اثرات کے مقابلے میں مسلمانوں کی فکری، اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
مسلمان علماء، مصنفین اور مفکرین کو چاہیے کہ وہ نیتن یاہو جیسے بیانات اور اسرائیلی منصوبوں کی تحقیق کریں، شفاف اور معتبر رپورٹیں مرتب کریں، اور انہیں عالمی فورمز پر پیش کریں تاکہ مسلمانوں کی آواز کو نظرانداز نہ کیا جائے، مسلمانوں کے تعلیمی ادارے، مساجد اور عالمی تنظیمیں نوجوان نسل کو دینی، اخلاقی اور فکری تربیت فراہم کریں تاکہ وہ اپنے عقیدے اور ثقافت سے وابستہ رہیں، مغربی اور تکنیکی اثرات کے باوجود اپنی شناخت کو محفوظ رکھ سکیں، بیت المقدس، مسجد الاقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا سہارا لیا جائے تاکہ عبادت کی آزادی اور مذہبی رسومات پر مکمل حقوق حاصل ہوں، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ عالمی میڈیا، بین الاقوامی عدالتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں یہ موقف واضح کریں کہ مقدس مقامات کے حوالے سے ہونے والی کسی بھی حرکت مذہبی آزادی کی اجازت کے دائرے میں ہو، اور بین الاقوامی ضوابط کے مطابق ہو، مسلمانوں کے اندر یہ شعور بیدار کیا جائے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز صرف تفریح یا خبریں نہیں بلکہ ثقافتی اثرات کا میدان ہیں، ایسے مواد کی تشہیر کی جائے جو اسلامی تعلیمات، اخلاقی و روحانی فوائد، اور بھائی چارے کو فروغ دے، فحاشی، عریانیت اور فرقہ وارانہ تشہیر کے خلاف علمی اور ادبی پلیٹ فارمز قائم ہوں