آج کل پنجاب میں HPV مہم بھرپور انداز سے جاری ہے۔ 15 ستمبر 2025 سے شروع ہونے والی یہ مہم 27 ستمبر تک جاری رہے گی جس میں صوبے بھر کی 9 سے 14 سال کی بچیوں کو ایچ پی وی (HPV) ویکسین بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ انہیں مستقبل میں رِحم (بچے دانی) کے کینسر سے محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ اقدام نہ صرف بچیوں کی صحت کا ضامن ہے بلکہ آنے والے وقت میں ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی ہے۔
دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے لیکن صحت کے میدان میں کچھ بیماریاں ایسی ہیں جو آج بھی انسانی زندگی کو خطرات سے دوچار کرتی ہیں۔ انہی میں سے ایک مرض سروائیکل کینسر (بچے دانی کے مونہہ کا کینسر) بھی ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں خواتین اس بیماری کا شکار ہیں۔یہ مرض نہ صرف عورت کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے بلکہ پورے خاندان کو درد اور کرب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ مرض خاموشی سے بڑھتا ہے اور جب تک پتا چلتا ہے، اکثر دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ سائنس نے اس سے بچاؤ کا مؤثر علاج دریافت کر لیا ہے جسے دنیا بھر میں محفوظ اور اثرپذیر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اللہ تعالٰی نے سائنسدانوں کے ہاتھ میں ایک ایسی ڈھال دے دی ہے جو بچیوں کو اس بیماری سے ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا سکتی ہے۔ یہ ڈھال HPV ویکسین کی صورت میں ہم تک پہنچ چکی ہے۔
پاکستان میں یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کہ یہاں صحتِ عامہ کے ہر منصوبے کو بعض مخصوص حلقوں کی جانب سے ہمیشہ متنازعہ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ایسی ایسی افواہیں اور من گھڑت باتیں پھیلائی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی کوئی سائنسی حقیقت یا توجیہہ ہوتی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب حفاظتی ٹیکے اور پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کا آغاز کیا گیا تھا تو اس وقت بھی یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ یہ بچوں کو بانجھ بنا دیتے ہیں۔ بعد میں پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ صرف گمراہ کن پروپیگنڈا تھا۔ پھر کرونا کے انجکشن کے بارے میں بھی یہ مضحکہ خیز افواہ پھیلائی گئی کہ اس کو لگوانے والا دو سال کے اندر مر جائے گا۔ آج چار سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور سب نے دیکھ لیا ہے کہ یہ بھی لوگوں کو گمراہ کرنے کی سازش تھی۔
اس HPV ویکسین کے مضر اثرات کی افواہوں کے بارے میں جب ڈاکٹر محمد شعبان ندیم سابق مینجر آپریشنز ای پی اینڈ سی ڈینگی کنٹرول صوبہ پنجاب سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ سب من گھڑت اور گمراہ کن افواہیں ہیں جن کا کوئی سر پَیر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے 140 ممالک میں یہ ویکسین کامیابی سے لگائی جا چکی ہے اور کروڑوں بچیاں اس کے ذریعے کینسر کے خطرے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو چکی ہیں۔ یہ ویکسین بالکل محفوظ ہے۔
ایک حلقے کی طرف سے یہ اعتراض بھی سامنے آ رہا ہے کہ HPV ویکسین چونکہ نئی ہے اس لیے اس تجرباتی موقعے پر اسے استعمال کرنا مناسب نہیں۔ بعد میں اگر اس کے مضر اثرات سامنے آ گئے تو بہت بڑا نقصان ہو چکا ہو گا۔ ان معترضین کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ ویکسین بالکل بھی نئی نہیں ہے۔ یہ دنیا بھر میں 2006 سے استعمال کی جا رہی ہے۔ ابھی تک اس کے کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔ اگر یہ ویکسین نقصان دہ ہوتی تو اس کے اثرات سامنے آ چکے ہوتے۔ یہ بات ہمیں ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یہ ویکسین ہماری بیٹیوں کی حفاظت کے لیے ہے انہیں نقصان پہنچانے کے لیے نہیں ہے۔ رہی اس کے سائیڈ ایفیکٹ کی بات، تو وہ بالکل معمولی ہیں جیسے بازو میں درد، ہلکی سی سوجن یا بخار جو چند دن میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
سائنسی تحقیق یہ واضح کر چکی ہے کہ اس ویکسین کا بانجھ پن یا کسی اور نقصان سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈاکٹر محمد شعبان ندیم کا مزید کہنا تھا کہ آپ فیصلہ خود کر لیجیے کہ اعتراض کرنے والوں کی سائنس کے میدان میں کیا قابلیت ہے؟ ان کے پاس کوئی سائنسی تحقیق یا ثبوت ہے تو سامنے لائیں۔ محض افواہیں پھیلا کر عوام کو خوف ردہ کرنا نامناسب عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب محکمہ صحت نے بین الاقوامی اداروں یونیسف (Unicef) اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے تعاون سے 15 تا 27 ستمبر اس خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے جس میں بچیوں کو مستقبل میں اس موذی مرض سے بچایا جا سکے گا۔ اس مرض کے خطرناک ہونا کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ GLOBOCAN 2020 کے مطابق پاکستان میں ہر سال اوسطاً پانچ ہزار کے قریب خواتین سروائیکل کینسر کا شکار ہو رہی ہیں جن میں سے قریباً تین ہزار موت کے مونہہ میں چلی جاتی ہیں۔ ترقی یافتہ مملک کے مقابلے میں یہ شرح بہت خوف ناک اور الارمنگ ہے۔
یاد رکھیے: صحت مند بیٹیاں ہی صحت مند مائیں بنتی ہیں، اور صحت مند مائیں ہی ایک خوشحال خاندان اور مضبوط قوم کی ضمانت ہیں۔
"آج کا ایک ٹیکہ، سروائیکل کینسر سے ہماری بیٹیوں کے کل کی زندگی بھر کی حفاظت کا ضامن ہے”