’گھوسٹ پارٹیکلز‘ کی تلاش پر فرانسس ہالزن نے 2026 کا نوبیل انعام برائے طبیعیات جیت لیا

فرانسس ہالزن کو 2026 کا نوبیل انعام برائے طبیعیات انتہائی بلند توانائی والے نیوٹرینوز کی تلاش اور ان کا سراغ لگانے کے لیے کیے گئے اہم کام پر دیا گیا ہے۔

نیوٹرینوز انتہائی چھوٹے ذیلی ایٹمی ذرات ہوتے ہیں جو زمین اور انسانی جسم سمیت زیادہ تر مادے سے تقریباً بغیر رکے گزر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے انھیں ’گھوسٹ پارٹیکلز‘ یعنی ’بھوت ذرات‘ بھی کہا جاتا ہے۔

82 سالہ فرانسس ہالزن نے یہ خیال پیش کیا تھا کہ جنوبی قطب کی انتہائی شفاف برف کی مدد سے ان ذرات کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ تصور بعد میں انٹارکٹیکا میں IceCube آبزرویٹری کی شکل اختیار کر گیا۔

IceCube میں پانچ ہزار سے زیادہ سینسرز برف کے اندر نصب ہیں۔ ان کی مدد سے سائنس دان نیوٹرینوز کا سراغ لگا کر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کن دور دراز کہکشاؤں، پھٹتے ہوئے ستاروں، بلیک ہولز یا دوسرے کائناتی مظاہر سے آئے ہیں۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق ہالزن کی تحقیق نے کائنات کو سمجھنے کا ایک نیا راستہ کھولا ہے۔ انھیں نوبیل انعام کے ساتھ 12 ملین سویڈش کرونر، یعنی تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر بھی دیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں