کانگو میں ایبولا کا بدترین پھیلاؤ، اسکول کھلنے پر والدین اور اساتذہ میں تشویش

جمہوریہ کانگو میں بچے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اسکول واپس آ رہے ہیں، تاہم ملک میں جاری ایبولا کے بڑے پھیلاؤ نے والدین اور اساتذہ میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 31 اگست تک ایبولا کے 6 ہزار 41 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جبکہ 2 ہزار 911 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ملک کے 26 میں سے 6 صوبے ایبولا سے متاثر ہیں، جن میں شمال مشرقی صوبہ ایتوری سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ 26 اگست تک صرف ایتوری میں 4 ہزار 802 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ کیے گئے تھے۔

والدین کا کہنا ہے کہ اسکول کھلنے سے بچوں کے درمیان قریبی رابطہ بڑھے گا اور وائرس گھروں تک پہنچنے کا خطرہ بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ بعض والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں اس وقت تک کلاسیں مؤخر رکھی جائیں جب تک مؤثر حفاظتی انتظامات اور مناسب ویکسین دستیاب نہ ہو جائے۔

موجودہ وبا بنڈی بگیو ایبولا وائرس کی ایک قسم سے منسلک بتائی گئی ہے۔ اس مخصوص قسم کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔ زائر ایبولا وائرس کے خلاف استعمال ہونے والی ویکسین طبی عملے کو دی جا رہی ہے، تاہم بنڈی بگیو قسم کے خلاف اس کی مؤثریت ابھی ثابت نہیں ہوئی۔ عالمی ادارۂ صحت اس حوالے سے طبی آزمائشوں کی معاونت کر رہا ہے۔

حکومت نے پورے ملک میں اسکول بند کرنے کے بجائے خطرے کی سطح کے مطابق مختلف انتظامات کیے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرے والے علاقوں میں طلبہ کو گھروں پر رہتے ہوئے پرنٹ شدہ تعلیمی مواد اور ریڈیو پروگراموں کے ذریعے پڑھایا جائے گا، جبکہ کم خطرے والے علاقوں میں اضافی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اسکول کھلے رہیں گے۔

وزارتِ تعلیم کے مطابق ایبولا سے متاثرہ صوبوں کی 138 تعلیمی سب ڈویژنز میں سے 40 متاثر ہوئی ہیں، جن میں 18 کو انتہائی خطرے والے علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ان علاقوں کو سبز، نارنجی اور سرخ زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ خطرے کے مطابق تدریسی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکیں۔

اساتذہ کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں میں ہاتھ دھونے کی سہولت، سینیٹائزر، درجہ حرارت چیک کرنے کے آلات اور مستقل نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت نے اساتذہ اور تعلیمی حکام کو ایبولا سے بچاؤ، خطرناک علامات کی شناخت اور بچوں میں آگاہی پیدا کرنے کی تربیت بھی شروع کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں