"دروز ” ،مشرقِ وسطیٰ کی خفیہ مگر بااثر اقلیت

جب ہم مشرقِ وسطیٰ کی مذہبی اور سیاسی ساخت پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمارے سامنے ایک ایسا منظرنامہ آتا ہے جو بظاہر شیعہ اور سنی مسالک کے درمیان تقسیم دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اگر ہم اس خطے کی تہہ در تہہ تاریخ کا گہرا مطالعہ کریں تو ہمیں کئی ایسی مذہبی اقلیتیں نظر آتی ہیں جو نہ صرف اپنی انفرادی شناخت، فلسفے اور عقائد کے اعتبار سے منفرد ہیں بلکہ بعض اوقات خطے کی سیاسی کشمکش میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم مگر کم معروف برادری “دروز” ہے۔

دروز فرقے کی ابتدا 11ویں صدی عیسوی میں مصر کی فاطمی خلافت کے دور میں ہوئی، جب فاطمی خلیفہ الحاکم بامر اللہ (996–1021ء) کے دور میں اسماعیلی عقائد میں ایک خاص ارتقاء پیدا ہوا۔ دروزوں کا عقیدہ دراصل اسماعیلی شاخ سے نکلا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ ایک علیحدہ مذہبی شناخت اختیار کر گیا۔ محمد بن اسماعیل الدرزی (المعروف بہ نشتکین الدرزی) نے جب شام اور لبنان میں اپنے عقائد کی تبلیغ شروع کی تو ان کے ماننے والوں کو “الدروزی” کہا جانے لگا، جو وقت کے ساتھ “دروز” میں تبدیل ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود دروز علما نے بعد ازاں محمد الدرزی کی بعض تعلیمات کو “غیر معتدل” قرار دے کر اُن سے اظہارِ لا تعلقی کیا، مگر “دروز” کا نام اُن کے ساتھ جُڑا رہ گیا۔

دروز مذہب ایک خفیہ اور باطنی (esoteric) فلسفہ رکھتا ہے، جس میں عمومی مذہبی تعلیمات عوام سے چھپی رہتی ہیں اور صرف مخصوص طبقے کو ان تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ان کے بنیادی عقائد میں توحید (خدا کی وحدانیت)، تناسخِ ارواح (reincarnation)، تقویٰ، سچائی، اور باطنی علم شامل ہیں۔ دروز قرآن کو مقدس تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس کی باطنی تفسیر کو اہمیت دیتے ہیں، جو عام مسلمانوں کی تشریحات سے خاصی مختلف ہو سکتی ہے۔

دروز مذہب میں کوئی رسمی عبادت گاہ نہیں، نہ ہی یہ لوگ روزہ، حج، یا دیگر اسلامی شعائر کی عمومی صورتوں پر عمل کرتے ہیں۔ ان کی عبادات اور تعلیمات “رسالۃ الحکمۃ” (Epistles of Wisdom) کے نام سے جانے جانے والے متون میں موجود ہیں، جنہیں صرف “عُقال” (دانشور یا باخبر دروز) ہی پڑھنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ باقی عوامی دروز صرف بنیادی اخلاقیات اور سماجی اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔

دروزوں کی موجودہ آبادی تقریباً 10 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، جن میں سے نصف شام میں، ایک بڑی تعداد لبنان میں، اور باقی اسرائیل، مقبوضہ گولان اور اردن میں آباد ہیں۔ لبنان میں دروز برادری کو سیاسی نمائندگی بھی حاصل ہے، جہاں وہ پارلیمنٹ میں مخصوص نشست رکھتے ہیں۔ شام میں ان کا تاریخی مرکز “جبل الدروز” (موجودہ السویداء) ہے جو دروزوں کی تہذیبی اور عسکری خودمختاری کا گڑھ رہا ہے۔

اسرائیل میں دروز ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ واحد عرب اقلیت ہیں جو نہ صرف اسرائیلی شہریت رکھتی ہے بلکہ اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) میں باقاعدہ خدمات انجام دیتی ہے۔ اس کے برعکس، فلسطینی عرب مسلمان اور مسیحی نوجوان فوجی خدمات سے مستثنیٰ ہیں یا انکار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں دروزوں کو ریاست کا “وفادار” شہری سمجھا جاتا ہے، اگرچہ حالیہ برسوں میں اسرائیلی پالیسیوں پر ان کی برہمی کے آثار بھی ظاہر ہوئے ہیں، خصوصاً “یہودی قومی ریاست قانون” (2018) کے بعد۔

دروزوں کی تاریخ مزاحمت، اتحاد، احتیاط اور توازن پر مبنی رہی ہے۔ فرانسیسی نوآبادیاتی دور میں لبنان کے دروزوں نے مارونی مسیحیوں کے خلاف عسکری محاذ سنبھالا۔ شام میں بھی دروز لیڈر سلطان باشا الأطرش نے فرانسیسی سامراج کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ یہی وہ جذبہ ہے جو دروزوں کو صرف ایک مذہبی اقلیت ہی نہیں بلکہ ایک فعال سیاسی قوت بھی بناتا ہے۔

شام کی موجودہ خانہ جنگی (2011ء تا حال) میں دروزوں نے نسبتاً غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی، مگر جنوبی شام (السویداء) میں ان کے مقامی گروہوں نے داعش، النصرہ فرنٹ اور بعض اوقات حکومتی افواج سے بھی ٹکراؤ کیا۔ یہ مزاحمت کسی واضح نظریاتی وابستگی کے تحت نہیں بلکہ “مقامی دفاع” کے جذبے پر مبنی تھی۔ دروزوں کی یہ “لو-پروفائل” حکمت عملی ان کی تاریخی بقا کا راز ہے۔

دروز معاشرہ سخت اندرونی نظم و ضبط رکھتا ہے۔ شادی، عبادات، اور تعلیم جیسے معاملات پر مکمل سماجی نگرانی موجود ہے۔ بیرونی شادیوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، اور مذہب تبدیل کرنے والوں کو برادری سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، جدیدیت، تعلیم، اور انٹرنیٹ کی رسائی نے دروز نوجوانوں میں بھی سوالات اور نئے رجحانات کو جنم دیا ہے۔

لبنان میں حالیہ سیاسی اور اقتصادی بحران، اسرائیل میں نسلی و مذہبی کشیدگی، اور شام میں مسلسل عدم استحکام نے دروز برادری کو ایک بار پھر چیلنج کر رکھا ہے۔ ان کی قدامت پسندانہ خودمختاری، جو صدیوں سے ان کی طاقت تھی، اب سوالات کی زد میں ہے۔

دروز ایک ایسی برادری ہے جو اپنی خاموشی، توازن اور احتیاط سے پہچانی جاتی ہے۔ وہ مذہبی اقلیت ہونے کے باوجود، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایسی قوت رکھتے ہیں جو کئی بار فیصلہ کن ثابت ہوئی ہے۔ ان کی بقا کا راز کسی بڑے نعرے یا انقلاب میں نہیں، بلکہ خاموش مزاحمت، مقامی خود مختاری، اور صدیوں پر محیط حکمتِ عملی میں پنہاں ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں