اتائیوں کے خلاف کاروائی! آخر کب ہوگی؟

اتائیت جیسے عفریب کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف بھی کاروائی موجودہ وقت کی اھم ضرورت ھے ۔ اسکے ساتھ وطن عزیز کے مختلف محکموں میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف بھی سخت ترین اقدامات کرنے ھوں گے ۔ وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ سے گذارش ھے کہ وطن عزیز میں اتائیت جیسے عفریب کے خلاف بھی اقدام اٹھائیں ۔

2010ء میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ۔ جس کا کام پنجاب سے اتائیت کا خاتمہ کرنا اور شعبہ صحت کی قدر و منزلت کو بحال کرنا ۔ یہ بات درست ہے کہ اس نے اپنے قیام سے لے کر اب تک ہزاروں کی تعداد میں اتائیوں کی دکانوں کو چیک کیا اور بڑی تعداد میں ان کو جرمانے اور دکانوں کو سیل کیا ۔ لیکن ذرائع کے مطابق یہ بھی حقیقت ہے کہ اکثر نے کالی بھیڑوں کی ملی بھگت سے اپنی دکانیں یا تو از خود ڈی سیل کر لیں یا اپنی شاپ کا نام بدل کر قریب ہی نئی شاپ نئے نام سے کھول لی. جبکہ جراحی و حجامہ صرف نیشنل کونسل فار طب سے رجسٹرڈ شخص ھی کرنے کا مجاز ھے لیکن یہاں انڈر میٹرک ۔ میڈل ۔پرائمری اور انگھوٹھا چھاپ لوگ یہ کام کررھے ھیں ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی ندارد پنجاب ھیلتھ کیئر کمیشن خاموش تماشائی بنا ھوا ھے اور اوپر سب اچھا کی رپورٹ ھے ۔ وزیراعلی پنجاب اپنی خفیہ ٹیم سے اگر چیک کرنا چاھیں تو کروا لیں ۔

پنجاب کے اندر اکثر علاقوں میں نان کوالیفائیڈ انڈر میٹرک لوگ بطور ھیلتھ کئیر پرووائیڈر بڑی دیدہ دلیری سے ان کالی بھیڑوں کی نگرانی میں کام کررھے ھیں اور عوام میں موذی بیماریاں پھیلا رھے ھیں. مزید یہ کہ بعض مقامات پر پنجاب ھیلتھ کئیر کمشن کے ایس او پیز اور ایم ایس ڈی ایس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا اور نہ ھی ڈریپ کے قوانین پر بھی کوئی عمل نہیں کیا جارھا ۔گزشتہ 15 سالوں میں این سی ٹی سے رجسٹرڈ اطباء کی میٹرک کی اسناد انکے متعلقہ بورڈز سے چیک کروائی جائیں اور این سی ٹی کا حساس ادارے کے ذریعے آڈٹ کروائیں تو کئی اھم انکشافات منظر عام پر آئیں گے ۔

یہ امر قابل ذکر ھے ملک کے ایک ادویات ساز ادارے نے اپنے ملازم کو دوسرے سینئرز کے ھوتے ھوئے این سی ٹی کا سربراہ بنوایا اور اس کا دفتر بھی اسکی ڈیوٹی والی جگہ ھی قائم کروا دیا اور اسے سب آفس کا نام دے دیا ۔ جو کہ باعث حیرت بات ھے ۔

وزیراعظم پاکستان نے ( این ٹی سی اے ایس ایم ) نیشنل ٹریڈیشنل کمپلیمینٹری اینڈ آلٹرنیٹیو میڈیسن کونسل بنانے کی منظوری دی لیکن اس پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رھی ۔ جو عناصر اس میں رکاوٹ بنے انکے خلاف کاروائی وقت کی اھم ضرورت ھے ۔ طب کے پیپر حکومتی نگرانی میں کروائے جائیں تاکہ اتائیت پر کنٹرول کیا جاسکے ۔ عوامی و سماجی حلقوں اور انجمن تحفظ حقوق عوام پاکستان نے وزیراعظم پاکستان ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان ۔ وفاقی وزارت صحت ۔ وزیراعلی پنجاب ۔ وزیر صحت پنجاب ۔ چیئرمین پنجاب ھیلتھ کیئر کمیشن سے اپیل ھے کہ وہ اتائیوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کریں ۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں