ڈیجیٹل ڈاکو اور لٹتے شہری!

پاکستان میں جہاں ایک طرف ڈیجیٹل انقلاب دستک دے رہا ہے، وہاں دوسری طرف “ڈیجیٹل ڈاکوؤں” نے شہریوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ حال ہی میں پیش آنے والا ایک واقعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ شکاری کس قدر گھات لگا کر بیٹھے ہیں۔ رات گئے عشاء کے وقت ایک کال موصول ہوئی کہ “آپ کا پارسل آیا ہے، کنفرمیشن کے لیے او ٹی پی کوڈ آیا ہو گا وہ ملا دیں۔” بظاہر ایک عام سی بات لگتی ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپا مقصد آپ کے واٹس ایپ (WhatsApp) کا مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جیسے ہی آپ وہ کوڈ بتاتے ہیں، آپ کا اکاؤنٹ آپ کے ہاتھ سے نکل کر کسی نامعلوم مجرم کے قبضے میں چلا جاتا ہے، جو بعد میں آپ کے نام پر آپ کے ہی عزیز و اقارب سے پیسے مانگتا ہے یا آپ کی نجی معلومات کا سودا کرتا ہے۔

جب اس معاملے کی چھان بین کے لیے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) جھنگ کے پی آر او سے رابطہ کیا گیا، تو انکشاف ہوا کہ یہ معاملہ جتنا سادہ نظر آتا ہے، اتنا ہی پیچیدہ ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق یہ جرائم مقامی پولیس کے بجائے وفاقی اداروں (ایف آئی اے/سی آئی اے) یا جو نیا ادارہ بنایا گیا ہے این سی سی آئی اے کی ڈومین میں آتے ہیں، جس کی وجہ سے بروقت کارروائی میں دشواری ہوتی ہے۔حیرت انگیز طور پر، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی ان ماہر فراڈیوں کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔ کئی پولیس اہلکاروں کو ان کے گھریلو افراد کے نام پر یا متعلقہ تھانوں کے افسروں کے نام پر لوٹا جا چکا ہے یا کئی بار وہ لٹنے سے بچ گئے۔ کال کے لیے استعمال ہونے والے نمبرز اکثر فیک ہوتے ہیں یا کسی ایسے شخص کے نام پر ہوتے ہیں جسے علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے نام پر کوئی سم چل رہی ہے۔

تحقیق سے یہ تلخ حقیقت سامنے آئی ہے کہ اس سارے فراڈ کی جڑیں موبائل کمپنیوں کے مارکیٹنگ اسٹالز اور دیہی علاقوں میں موجود موبائل شاپس سے جڑی ہیں۔ ناخواندہ خواتین اور بزرگ شہریوں کو بیوقوف بنا کر، “بائیومیٹرک تصدیق نہیں ہوئی” کا بہانہ بنا کر ان کے انگوٹھے بار بار لگوائے جاتے ہیں۔ ایک سم دینے کے بجائے ان کے نام پر متعدد سمیں نکال لی جاتی ہیں۔ یہ سمیں بعد میں بھاری قیمتوں پر سائبر مجرموں اور اسکیمرز کو بیچ دی جاتی ہیں، جو ان کا استعمال کر کے قانون کی گرفت سے بچے رہتے ہیں۔

سال 2025-26 کے دوران پاکستان میں سائبر کرائم کی شکایات میں 70 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرف واٹس ایپ ہیکنگ اور مالیاتی فراڈ کی 80,000 سے زائد درخواستیں درج ہوئیں، مگر سزا کی شرح انتہائی کم ہے۔ جب تک سم کارڈز کے اجراء کا نظام شفاف نہیں ہوتا اور عوامی شعور بیدار نہیں ہوتا، یہ گراف نیچے نہیں آئے گا۔

آپ کی ایک چھوٹی سی غلطی آپ کو بڑے نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔ یاد رکھیں اپنے واٹس ایپ پر فوراً ٹو سٹیپ ویریفیکیشن آن کریں تاکہ کوڈ ملنے کے باوجود کوئی لاگ ان نہ کر سکے۔کبھی بھی فون پر آنے والا کوئی بھی کوڈ (OTP) کسی اجنبی کو نہ بتائیں، چاہے وہ کتنا ہی معتبر کیوں نہ لگے۔ سم نکلوانے یا ری پلیس کروانے کے دوران اسکرین پر نظر رکھیں کہ کتنی سمیں ایکٹیویٹ ہو رہی ہیں۔

سائبر کرائم سے بچاؤ کا واحد راستہ “احتیاط اور آگاہی” ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ سم کارڈز کی فروخت کے غیر قانونی طریقے روکیں، ورنہ ہر دوسرا پاکستانی اس ڈیجیٹل دہشت گردی کا شکار ہوتا رہے گا۔ سیلولر نیٹ ورک کمپنیوں کی ملک بھر میں موجود فرنچائزز کو پابند کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے تمام کسٹمرز سینٹرز سے روزانہ کی بنیاد پر سموں کی فروخت اور ری پلیس منٹ کا ریکارڈ تھانوں میں جمع کروائیں۔ این سی سی آئی اے ادارہ تمام اضلاع اور شہروں میں متحرک نظر نہیں آتا اور پولیس محکمہ پابند ہے کہ جب تک کوئی نامزد نہ ہو وہ کاروائی نہیں کر سکتے۔ ضلعی پولیس افسران کو چاہیے کہ ہر چوکی اور تھانے میں فرنٹ ڈیسک پر ان سائبر کرائم رپورٹس کو موصول کرنے کے لیے ایک الگ سے ٹیم تشکیل دیں۔ کم از کم فیک سم استعمال کرنے والوں کو ان کے فونز یا بینک اکاؤنٹس سے پکڑا جا سکتا ہے، جس سے متعلق پولیس اہلکار کا تعاون سائلین سے ہمیشہ زیرو رہتا ہے یا مشکل بنایا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور آئی جی پنجاب کو چاہیے کہ سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے ان تجاویز کے ساتھ مؤثر حل تجویز کریں۔ تاکہ شہری لٹنے سے بچ سکیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں