اور اب خودکشی

محترم قارئین! جب سے سی سی ڈی کا وجود عمل میں آیا ہے پنجاب میں برق رفتاری سے امن و امان بحال ہو رہا ہے۔ جرائم کی رفتار میں بڑی تیزی کے ساتھ کمی واقع ہو رہی ہے اور مظلومین کو مفت اور فوری انصاف مہیا ہو رہا ہے۔ گو ہمارے بعض حلقے اس مفت اور فوری انصاف پر انگلیاں بھی اٹھا رہے ہیں اور اپنی تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ فوری انصاف پر اعتراض کرنے والوں میں اکثریت ان لوگوں یا طبقے کی ہے جن کے مفادات متاثر ہوئے ہیں۔ اس عمل کو سراہنے والے بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں کہ معترضین کی آواز ان کی آواز میں دب گئی ہے۔

آپ جانتے ہی ہیں کہ جرائم پیشہ اور قانون کو ہاتھ میں لینے والے افراد بااثر اور طاقت ور ہوتے ہیں۔ وہ جب کسی پر ظلم کرتے ہیں تو اس کی آواز بھی نہیں نکلنے دیتے۔ اگر کہیں سے صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے تو اسے طاقت، جبر اور بلیک میلنگ سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر آواز بلند کرنے والا یہ زبانیں نہ سمجھے تو اس کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں قانونی پیچیدگیاں ہمیشہ سے مجرموں کی پشت پناہی کرتی چلی آ رہی ہیں۔ یونہی تو ہماری عدالتیں انصاف کے معاملے میں کامیابی کی سب سے نچلی سیڑھی پر نہیں پہنچیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ سارا قصور عدلیہ یا معزز جج صاحبان کا ہی ہو۔ جج صاحبان تمام حالات کو جانتے اور سمجھتے ہوئے خواہش کے باوجود بھی مجرموں کو سزا نہیں دے پاتے کہ شواہد مجرم کے حق میں ہوتے ہیں۔ مظلوم روتا، پیٹتا اور چیختا رہ جاتا ہے لیکن وسائل کی کمی اور طاقت کے مقابلے میں بے بس ہو جاتا ہے۔ پولیس پوری محنت اور جدوجہد سے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کرتے ہوئے مجرموں کو پکڑتی ہے، مضبوط کیس تیار کرتی ہے، رشوت، لالچ اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے لیکن اس وقت اس کی مایوسی کی انتہا نہیں ہوتی جب مدعی اپنے ملزموں کو پہچان کر بھی نہیں پہچانتے یا پہچان بھی لیں تو اسے معاف کر دیتے ہیں کہ انہیں اپنے باقی خاندان کی عزت اور زندگی عزیز ہوتی ہے۔ انہیں اپنے مغویوں کو رہا کروانا ہوتا ہے جو ان کے ملزم یا مجرم کے ساتھیوں کے چنگل میں جکڑے ہوتے ہیں اور ان کی رہائی کا دارومدار عدالت میں دیئے جانے والے بیان پر ہوتا ہے۔

پولیس، مدعی اور جج صاحبان سب اپنی اپنی جگہ مجبور ہوتے ہیں۔ سبھی انصاف چاہتے ہیں لیکن طاقت کے آگے بے بس ہو جاتے ہیں۔ جس طرح سورج نصف النہار پر پہنچ کر ڈھلنے لگتا ہے اسی طرح انسان کے عروج کا بھی ایک دور ہوتا ہے۔ اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ ظالم کا ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو اس کے مٹنے کے اسباب بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ سی سی ڈی کا قیام اسی لیے عمل میں لایا گیا کہ خود کو ناقابلِ گرفت اور ناقابلِ تسخیر سمجھنے والوں کو مسخر کیا جا سکے۔

سی سی ڈی نے پنجاب کے جرائم پیشہ عناصر پر لرزہ طاری کر رکھا ہے۔ مجرموں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی نے سہیل ظفر چٹھہ کو عوام کا ہیرو بنا دیا ہے۔ یہ سی سی ڈی کی دہشت کا نتیجہ ہے کہ پکڑے جانے والے جرائم پیشہ افراد کو ان کے ساتھی اس وجہ سے گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ کہیں وہ ان کی نشان دہی نہ کر دیں۔ منشیات فروش مسجدوں اور خانہ کعبہ میں جا کر قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھائے قسمیں کھا رہے ہیں کہ آئندہ منشیات فروشی نہیں کریں گے۔ بڑے بڑے ڈان اور بھتہ خور سی سی ڈی کے سامنے سرنڈر کر چکے ہیں۔ سی سی ڈی کا یہ بھی ایک بڑا کارنامہ ہے کہ اوباش خصلت لوگ اپنے نیفوں میں رکھے پستولوں کے ذریعے ان اعضاء سے محروم ہو رہے ہیں جن کی موجودگی انہیں دوسرے کی بہو بیٹیوں کی عزت پامال کرنے پر اکساتی ہے۔ یہ اوباش لوگ اپنے ہاتھوں ہی مکافاتِ عمل کا شکار ہو رہے ہیں۔

خواتین اور ننھی بچیوں کی بے حرمتی کے بعد انہیں قتل کرنے والوں کے سلسلے میں اب تازہ ترین ڈویلپمنٹ سامنے آئی ہے۔ پھول نگر کے گاؤں اولکھ میں چند دن پہلے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک پانچ سالہ معصوم بچی نور فاطمہ کے ساتھ زیادتی کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق معصوم نور فاطمہ کی بوری بند لاش گھر کے قریب زیرِ تعمیر مکان سے ملی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل سے پہلے بچی کے ساتھ زیادتی کا انکشاف کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق بچی ایک روز پہلے کھیلتے ہوئے لاپتا ہوئی تھی جس کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بچی کی لاش ملنے پر ڈی پی او قصور موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے سرکل کے تمام ایس ایچ اوز کو طلب کیا۔ پولیس کی ٹیموں نے اولکھ بونگا کے 25 افراد سے تفتیش کی جس کے بعد پولیس نے ہیومن انٹیلیجنس اور سائنسی بنیادوں پر 19 سالہ واصف کو ٹریس کر لیا۔ پولیس نے واصف کو پکڑنے کے لیے جب چھاپہ مارا تو اس نے گرفتاری کے ڈر سے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی یہ اس نوعیت کا پنجاب میں پہلا واقعہ ہے لیکن امید کی جانی چاہیے کہ یہ آخری واقعہ نہیں ہو گا۔ مجرموں پر پنجاب میں لرزہ طاری ہے۔ واصف کی خودکشی نے معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کے بعد انہیں قتل کرنے والوں کو ایک نئی راہ سجھا دی ہے۔ خودکشی کا یہ سلسلہ رکنا نہیں چاہیے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں