پاکستان قدرتی وسائل، نوجوان افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود 78 سال گزرنے کے بعد بھی ملک وہ ترقی حاصل نہ کر سکا جس کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کی سب سے بنیادی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ ملک میں طویل عرصے تک جمہوری نظام کو تسلسل نہ مل سکا، فوجی مداخلتیں، حکومتوں کی قبل از وقت برطرفیاں اور سیاسی محاذ آرائی نے ریاستی اداروں کو کمزور کیا۔ جب بھی نئی حکومت آتی ہے، پالیسیوں میں تبدیلی لاتی ہے، جس سے نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل ٹوٹتا ہے بلکہ ملکی اعتماد، سرمایہ کاری اور معاشی پالیسیوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
معاشی بدانتظامی بھی پاکستان کی پسماندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ غیر متوازن معاشی پالیسیاں، ٹیکس نظام کی کمزوری، بیرونی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار اور برآمدات میں مسلسل کمی نے ملک کو معاشی طور پر غیر مستحکم رکھا۔ طاقتور طبقات کو ٹیکس چھوٹ ملتی رہی جبکہ عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کا شکار ہوتا رہا۔ ملکی وسائل کو دیرپا ترقی کے بجائے وقتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے معاشی ڈھانچہ کمزور ہوتا گیا۔
گورننس کی کمزوری یعنی کرپشن، اقربا پروری اور میرٹ کی خلاف ورزی نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا۔ اداروں میں شفافیت کا فقدان اور قانون کی غیر مساوی عملداری نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد ختم کیا۔ ترقی یافتہ قومیں اداروں کی مضبوطی پر تعمیر ہوتی ہیں، مگر پاکستان میں ادارے شخصیات کے تابع رہے۔ نتیجتاً پالیسی سازی سے لے کر بنیادی خدمات کی فراہمی تک ہر سطح پر کمزوریاں برقرار رہیں۔
تعلیم کا پسماندہ نظام بھی قومی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں شرح خواندگی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم رہی، نصاب پرانے، تحقیق کا فقدان، اور پیشہ ورانہ تربیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ جدید دنیا میں ترقی علم و تحقیق کے بغیر ممکن نہیں، لیکن پاکستان اس شعبے میں مسلسل پیچھے رہا۔ اسی طرح صحت عامہ کی صورتحال، آبادی میں بے تحاشا اضافہ اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے سماجی ترقی کو شدید متاثر کیا۔
خارجہ پالیسی کی غیر مستقل مزاجی بھی پاکستان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنی۔ علاقائی تنازعات، عالمی سیاست میں غیر واضح پوزیشن اور سفارتی حکمتِ عملی کی کمزوریاں پاکستان کو معاشی اور سیاسی طور پر تنہائی کی طرف لے جاتی رہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی تعاون کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر پاکستان اکثر اندرونی مسائل کی وجہ سے ان مواقع سے بھرپور فائدہ نہ اٹھا سکا۔
تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود ترقی ممکن ہے۔ سب سے پہلے ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، جہاں حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کریں اور پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔ معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ٹیکس نظام کو مؤثر بنایا جائے، غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں، برآمدات بڑھانے پر توجہ دی جائے اور مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اداروں کو سیاسی اثر سے آزاد کر کے شفافیت اور میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر سرمایہ کاری کی جائے، خاص طور پر ٹیکنالوجی، تحقیق اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری پر توجہ دی جائے۔ آبادی کے کنٹرول اور وسائل کی بہتر منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔
پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، نوجوان افرادی قوت، معدنی وسائل اور زرعی صلاحیت کے باعث آج بھی ترقی کی بھرپور اہلیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بصیرت، اتحاد اور مستقل مزاجی کے ساتھ وہ فیصلے کیے جائیں جو ملک کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔ اگر قوم متحد ہو کر صحیح سمت اختیار کرے تو پاکستان آنے والی دہائیوں میں خطے کی مضبوط ترین معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔