غزہ میں اسرائیل کی جارحیت اور موجودہ حالات نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو عالمی ضمیر کی عدالت میں لا کھڑا کیا ہے کہ کیا موجودہ بین الاقوامی نظام مظلوم اقوام کو انصاف فراہم کرنے کی اہلیت رکھتا ہے؟ یا یہ نظام مکمل طور پر طاقتور ریاستوں کے مفادات کے تابع ہو چکا ہے؟ اسی پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں قائم ہونے والے “بورڈ آف پیس برائے غزہ” میں پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کی شمولیت ایک ایسی سفارتی پیش رفت ہے جس کے مضمرات محض وقتی سیاسی مصلحت نہیں بلکہ تزویراتی (Strategic) اہمیت کے حامل ہیں۔
بظاہر اس اقدام کو جنگ بندی، انسانی امداد اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک عملی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم سوال یہ نہیں کہ نیت کیا بتائی جا رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس عمل کی ساخت، قیادت اور ترجیحات کن مفادات کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس فورم میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی اور انڈونیشیا جیسے مسلم ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کا مشترکہ استدلال یہ ہے کہ عالمی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والے پلیٹ فارم پر موجودگی کے بغیر مسئلہ فلسطین مزید پسِ پشت چلا جائے گا۔
تاہم اس پورے بندوبست میں سب سے نمایاں پہلو فلسطینی نمائندگی کی عدم موجودگی ہے۔ نہ فلسطینی اتھارٹی، نہ غزہ کی مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی ایسا فریق شامل ہے جو براہِ راست فلسطینی عوام کی ترجمانی کر سکے۔ بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں یہ ایک سنجیدہ خامی ہے، کیونکہ امن کے کسی بھی عمل میں متاثرہ فریق کی غیر موجودگی اس کی ساکھ کو ابتدا ہی سے مشکوک بنا دیتی ہے۔ فلسطین کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب بھی فیصلے فلسطینیوں کی مرضی کے بغیر کیے گئے،چاہے وہ اعلانِ بالفور ہو یا بعد ازاں مختلف نام نہاد امن منصوبے، نتیجہ ہمیشہ عدم استحکام اور مزید تصادم کی صورت میں نکلا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اس عمل کا سب سے متنازع پہلو ہے۔ ان کی گزشتہ صدارت کے دوران امریکا نے خود کو عملاً ایک غیر جانبدار ثالث کے بجائے اسرائیل کے واضح حامی کے طور پر پیش کیا۔ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا، اسرائیلی آبادکاریوں پر خاموشی اور “ڈیل آف دی سنچری” جیسے منصوبے اس حقیقت کے گواہ ہیں۔ اسی لیے ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا موجودہ امن اقدام واقعی ایک منصفانہ سیاسی حل کی طرف لے جا سکتا ہے، یا یہ محض تنازع کو “مینج” کرنے کی ایک اور کوشش ہے جس میں اصل سیاسی مسائل کو انسانی امداد کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے۔
پاکستانی حکومت اس شمولیت کو اپنی دیرینہ فلسطین پالیسی سے متصادم قرار نہیں دیتی۔ سرکاری مؤقف کے مطابق پاکستان بدستور 1967ء کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست، القدس الشریف کی خصوصی حیثیت اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کا حامی ہے۔ تاہم داخلی سطح پر اس فیصلے پر مکمل سیاسی اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اور مذہبی حلقے اس حساس معاملے پر پارلیمانی مشاورت کی کمی کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ اقدام پاکستان کی اس اخلاقی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے جو اسے مسلم دنیا میں ایک اصولی آواز بناتی ہے۔
پاکستان کا کردار کے حوالہ سے تجاویز و لائحہ عمل
پاکستان اس فورم کا حصہ بن چکا ہے، تو اب سوال یہ ہے کہ اسے اس پلیٹ فارم کو فلسطینیوں کے مفاد میں کیسے استعمال کرنا چاہیے؟ محض حاضری لگوانے کے بجائے پاکستان کو درج ذیل نکات پر زور دینا ہوگا۔
۱۔پاکستان کو سب سے پہلے اس فورم کے اندر یہ آواز اٹھانی چاہیے کہ فلسطینی قیادت کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی فیصلہ غیر اخلاقی اور ناقابلِ عمل ہوگا۔
۲۔پاکستان کو واضح کرنا ہوگا کہ غزہ کو صرف خوراک اور ادویات کی ضرورت نہیں بلکہ قبضے سے نجات چاہیے۔ امدادی پیکجز کو سیاسی حقوق کا نعم البدل نہیں بننے دینا چاہیے۔
۳۔پاکستان، ترکی اور انڈونیشیا کے ساتھ مل کر اس بورڈ کے اندر ایک ایسا ذیلی بلاک بنا سکتا ہے جو اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ آبادکاریوں کا سلسلہ فوری بند کرے۔
۴۔واپسی کا آپشن (Exit Strategy)اگر یہ فورم فلسطینی ریاست کے قیام کے بجائے محض اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ بننے لگے، تو پاکستان کو اس سے علیحدگی اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھانی چاہیے۔
خلاصہ یہ کہ انصاف کے بغیر امن محض ایک عارضی وقفہ ہوتا ہے۔ اگر یہ عمل فلسطینی عوام کے بنیادی سیاسی حقوق اور غاصب و مقہور کے درمیان واضح فرق کو تسلیم کیے بغیر آگے بڑھا، تو یہ بھی ماضی کی ناکام کوششوں کی فہرست میں ایک اور اضافہ ثابت ہوگا۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ کون کس میز پر بیٹھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس فورم سے فلسطینیوں کی آواز توانا ہو کر نکلتی ہے یا ہمیشہ کے لیے دبا دی جاتی ہے