امداد کے بہانے بلا کر کم از کم 549 فلسطینیوں کو مارا گیا، غزہ سرکاری میڈیا آفس

غزہ کی سرکاری میڈیا آفس کے مطابق، امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ ‘غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن(GHF)’ کے امدادی مراکز کے قیام کے بعد سے، کم از کم 549 فلسطینی امداد حاصل کرنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ، ان موت کے پھندوں پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 4,066 افراد زخمی ہوئے جبکہ 39 فلسطینی اب بھی لاپتہ ہیں۔ ان تمام متاثرین کا تعلق ان فاقہ زدہ شہریوں سے ہے جو امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

غزہ کے میڈیا آفس نے شدید الفاظ میں کہاکہ،ان مراکز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مکمل جنگی جرم ہے، جس کی براہ راست اور اولین ذمہ داری اسرائیلی قابض افواج پر عائد ہوتی ہے۔ ہم اس جرم کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس میں بھوکے شہریوں کو امداد کے بہانے بلایا جاتا ہے اور پھر پہلے سے طے شدہ نظام کے تحت انہیں روزانہ کی بنیاد پر جان بوجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیاکہ،قابض قوت خوراک کو اجتماعی قتل کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، اور جس امداد کا وہ دعویٰ کرتی ہے، وہ دراصل نسل کشی اور تسلط کا ایک ذریعہ بن چکی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں