کیا اقوام متحدہ “اے آئی” کو قابو کر پائے گی؟

نیویارک کی چکاچوند عمارتوں میں جمع دنیائے عالم کے اہلِ حل و عقد نے گزشتہ روز مصنوعی ذہانت کے نقصانات پر ایک کھلی بحث اُس وقت چھیڑی، جب انسانیت کو بحیثیتِ مجموعی اس سے وجودی خطرہ لاحق ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

اگست میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے اے آئی ٹیکنالوجی کی شتر بے مہاری کو قابو میں لانے کے لیے ایک عالمی فورم اور ماہرین پرمشتمل پینل ترتیب دیا تھا۔

اسی سلسلے کو وسعت دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں امن کے قیام اور تنازعات کی روک تھام میں اے آئی کو عالمی قوانین کے مطابق لانے پر بحث و مباحثے کا آغاز اور اے آئی گورننس کے لیے ایک عالمی فورم کا قیام خوش آئند ہے۔

مصنوعی ذہانت جہاں ایک طرف انفرادی سطح پر انسان کی بقا کے لیے خطرہ ہے، وہیں اس میں نظام کی جگہ لینے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے وقتاً فوقتاً اپنی شکلیں بدلی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب “تحریر” ٹیکنالوجی کی ایک ابتدائی شکل کے طور پر نمودار ہوئی تھی۔ زمانے میں تغیرات اور انسانی سماج میں آنے والی پیچیدگیوں نے نت نئی ٹیکنالوجیاں متعارف کروائیں۔

پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے لے کر ماس میڈیا کے انقلاب تک، تاریخ گواہ ہے کہ ہر نئی ایجاد اور آسائش نے انسان سے اس کی کوئی نہ کوئی خوبی سلب کی ہے اور خامیوں میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم، ٹیکنالوجی کے ان مقابلوں میں انسان کی اہمیت اور افادیت برقرار رہی۔ یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجیز کی ان کڑیوں میں انسان برابر کا شریک تھا اور ہر محاذ پر اسے سہولت بھی حاصل رہی۔

دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان اے آئی ٹیکنالوجی کی موجودہ رسہ کشی اور دوڑ میں آج ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کے زیرِ سایہ پنپنے والا انسان مستقبل میں کتنا مختلف ہوگا؟ آیا وہ بہتر بھی ہوگا یا نہیں؟

مصنوعی ذہانت کی بنیاد درحقیقت کمپیوٹر ہے اور انسانی وجود کو خطرہ اسی کی ایجاد سے لاحق ہوا۔ چالیس اور پچاس کی دہائی میں بننے والے ابتدائی کمپیوٹرز اتنے طاقتور نہیں تھے۔ ان سے زیادہ سے زیادہ حساب و کتاب یا ڈیٹا محفوظ کرنے کا کام لیا جاتا، لیکن ٹیکنالوجی کے انقلاب نے انہیں اتنا مضبوط بنا دیا کہ آج اے آئی کمپیوٹر نہ صرف بذاتِ خود فیصلے کر سکتا ہے بلکہ نئے خیالات بھی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان دو صلاحیتوں کے ساتھ اے آئی کمپیوٹرز ڈیٹا جمع کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ فیصلہ، خیال اور تجزیہ جیسی خصوصیات اگر انسان سے جدا کر دی جائیں، تو اسے انسان کہنے اور پکارنے کے لیے کیا جواز باقی رہتا ہے؟ ہمارے ایک استاد کے الفاظ میں، اے آئی نے انسان کی تمام صلاحیتوں کو خارجی (externalize) کر دیا ہے۔

اے آئی زبان میں مہارت رکھتا ہے۔ اس میں انسان کے ساتھ قریبی تعلق قائم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ زبان کی مہارت نے اسے غلطیوں سے مبرا کر دیا ہے۔ ہم جب بھی اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو اسے خامیوں سے پاک سمجھ کر کرتے ہیں۔ یہ عمل اے آئی کو infallible بناتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو عیسائیت میں بائبل کو حاصل ہے۔

دوسری جانب، 2025 میں Kantar کی جانب سے شائع ہونے والی ایک عالمی تحقیق کے مطابق، جولائی میں 54 فیصد صارفین نے جذباتی یا ذہنی فلاح و بہبود کے مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔ اس کی بنیادی وجہ اے آئی میں موجود تعلق قائم کرنے کی اہلیت ہے، جو مستقبل میں انسان سے کچھ بھی کروا سکتی ہے۔

تاریخ میں بڑی طاقتوں کے درمیان لڑائیاں ہر دور میں معمول کے طور پر جاری رہی ہیں۔ ان لڑائیوں کا عوام پر اثر بھی کوئی انوکھا یا حیران کن امر نہیں۔ طاقتوں کے درمیان براہِ راست جنگوں نے بڑی بڑی آبادیوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ معاشی جنگوں نے پورے پورے خطے تاریکیوں کے حوالے کر دیے، لیکن ایک وقفے کے بعد متاثرہ معاشرے اس صورتحال سے نکل آئے اور زندگی کے سفر کو آگے بڑھایا۔

تب انفارمیشن ٹیکنالوجی طاقتوں کے درمیان انسانی سیاست کے نتیجے میں ترقی کرتی تھی، اور اب اس کی جگہ کمپیوٹر پالیٹکس نے لے لی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان اس وقت جیوپالیٹکس کی بنیاد پر ایک بڑی کمپیوٹر پالیٹکس جاری ہے۔ دونوں ممالک دنیا پر اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے اے آئی چپس اور ڈیوائسز کی نت نئی ایجادات کر رہے ہیں۔

امریکہ، چین کے ساتھ ٹک ٹاک پر معاہدہ چاہتا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ چین ٹک ٹاک کے ذریعے 170 ملین امریکی صارفین پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ یوکرین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ کاپر اور کوبالٹ جیسی معدنیات کے معاہدے کر رہا ہے، جو اے آئی چپس میں استعمال ہوتی ہیں۔

یہ طاقتیں خود کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات تو کر لیتی ہیں، جیسے چین نے گریٹ فائر وال کے ذریعے خود کو محفوظ رکھا ہے، لیکن باقی دنیا کو نیست و نابود کر دیتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں سر جوڑ کر بیٹھنے والے ان ممالک کی کاوش کس حد تک سنجیدہ اور بااختیار ہے، اس بات سے قطع نظر انسان کو کچھ مسائل باہم رضامندی سے طے کرنے پڑیں گے اور اے آئی سیاست کو نظم و ضبط کا پابند بنانا پڑے گا، ورنہ ماحولیاتی تبدیلی کی طرح ہم اس مسئلے کے سامنے بھی بے بس ہو جائیں گے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں