پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پیر کے روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کو یقینی بنانا ہوگا کیونکہ ملک مزید دھماکوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
واضح رہے کہ 2023 میں حکومت نے بغیر قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد افغان پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ اور افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں کو بھی واپس بھیجنے کا فیصلہ سامنے آیا۔
پریس کانفرنس میں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو تین صوبوں سے کامیابی سے واپس بھیج چکے ہیں مگر خیبر پختونخوا میں صورت حال اس کے برعکس ہے اور وہاں انہیں تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور، کوہاٹ اور نوشہرہ میں قائم پناہ گزین کیمپوں کو ختم کرنے کے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تھے، تاہم انہیں اب تک بند نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند روز قبل ایف سی ہیڈ کوراٹرز پر ہونے والے حملے میں افغان شہری ملوث تھے۔ وانا کیڈٹ کالج اور اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ حملوں میں بھی افغان شہری ملوث تھے۔
ان کے بقول، اگلے ہفتے سے ہر ایس ایچ او کی ذمہ داری لگائی جائے گی کہ وہ اپنے اپنے علاقے سے افغان شہریوں کو ڈھونڈیں، انہیں ہم نے ہر حال میں واپس بھیجنا ہے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ اپریل 2025 تک گیارہ لاکھ افغان شہریوں کو واپس بھیج چکے تھے۔ یہ سلسلہ اب بڑے پیمانے پر پھیلایا جا رہا ہے۔ تمام افغان پناہ گزینوں کو ہر حال میں واپس بھیجیں گے