امت مسلمہ کی قوتوں کا جائزہ

کفر اور امت مسلمہ کے درمیان صدیوں سے جنگ جاری ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ آج یہ جنگ ہمیں محسوس نہیں ہو رہی۔ یہ جنگ اب کھلے میدانوں کی بجائے نظریات، معیشت، ثقافت اور سیاست کے پوشیدہ محاذوں پر لڑی جا رہی ہے۔ جنگ کے بنیادی اصولوں میں سے ہے کہ دیکھا جائے کہ:

دشمن کی قوت اور اس کے اہداف کیا ہیں؟
جنگ کا میدان کون سا ہے؟
ہماری اپنی اور دشمن کی پوزیشن، طاقتیں اور کمزوریاں کیا ہیں؟

ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کامیابی کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔

آج ہماری امت مسلمہ ایک عظیم آزمائش سے گزر رہی ہے۔ ہم دنیا بھر میں ذلت و پستی کا شکار ہیں۔ فلسطین، کشمیر اور دیگر مقامات پر ہمارے بھائی بہنیں ظلم کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ اور ہم بظاہر بے بس نظر آتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ تمام وسائل اور طاقتیں عطا کی ہیں جن کی بنیاد پر ہم نہ صرف اپنا دفاع کر سکتے ہیں بلکہ پوری دنیا میں اللہ کے نظام عدل کو قائم کر سکتے ہیں۔

آئیے، مختصراً ان عظیم نعمتوں اور طاقتوں کا جائزہ لیں جو اللہ نے ہمیں عطا کی ہیں۔

امت مسلمہ کی بنیادی طاقتیں اور وسائل:

انسانی وسائل اور آبادیاتی قوت:
دنیا کی 8 ارب آبادی میں سے تقریباً 2 ارب مسلمان ہیں۔ یعنی ہر چار میں سے ایک شخص مسلمان ہے۔ یہ ایک ایسی عظیم قوت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلم آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان توانائی، جوش اور تبدیلی کا ایندھن ہیں۔ جبکہ مغرب اور دیگر ممالک بوڑھی ہوتی آبادی کا شکار ہیں۔

جغرافیائی فوقیت:
57 سے زائد مسلم ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں، جو تین براعظموں (ایشیا، افریقہ، یورپ) کو جوڑتے ہیں۔
دنیا کی تمام بڑی تجارتی شاہراہیں، خواہ زمینی ہوں، بحری ہوں یا فضائی، مسلم ممالک سے ہو کر گزرتی ہیں۔ اگر مسلمان اپنی سرحدیں، آبنائے اور فضائی حدود عارضی طور پر بھی بند کر دیں تو دنیا کا تجارتی نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے۔
دنیا کی اہم ترین آبنائے (خلیج ہرمز، آبنائے باب المندب، آبنائے مالاقا) مسلمانوں کے کنٹرول میں ہیں۔
دنیا کے عظیم دریا (دریائے نیل، دجلہ و فرات، دریائے سندھ) بھی مسلم ممالک میں بہتے ہیں، جو پانی کی قوت کو کنٹرول کرتے ہیں۔یعنی پانی پر بھی مسلمانوں کا کنٹرول ہے۔

معدنی وسائل اور معاشی قوت:
جدید دنیا کا نظام تیل پر چل رہا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے دنیا کے 10 بڑے ممالک میں سے 9 مسلمان ہیں (جیسے سعودی عرب، عراق، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات)۔

اس کے علاوہ سونے، یورینیم، تانبے، لوہے اور کوئلے کے عظیم ذخائر بھی مسلم ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ یورینیم جیسی مہلک دھات ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد ہے۔

پاکستان کی ایٹمی قوت، اسلام کا قلعہ:
پاکستان دنیا کی واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے۔ اس کا ایٹم بم صرف ایک ملک کا دفاع نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کی اجتماعی قوت اور اسلام کے لیے ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ امت کے وجود کی حفاظت اور باطل قوتوں کے غرور کو توڑنے والا ہتھیار ہے۔

انقلابی قوت:
جہاد اور شہادت کا جذبہ: یہ وہ انمول جوہر ہے جو مسلمان کو دنیا کی کسی بھی قوت سے ممتاز کرتا ہے۔ جب ایک نوجوان سر پر کفن باندھ کر میدان میں نکلتا ہے تو وہ نہ موت سے ڈرتا ہے اور نہ ہی شکست سے۔ اسے معلوم ہے کہ یا تو فتح اس کا مقدر ہوگی اور وہ غازی بنے گا، یا شہادت اس کا نصیب ہوگی اور وہ جنت کا حق دار ٹھہرے گا۔ یہ جذبہ پہاڑوں کو ہلا کر رکھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

شاندار تاریخی ورثہ اور علمی پایہ:
ہمارا شاندار ماضی (سلطان صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی، ارطغرل غازی، سلطنت عثمانیہ اور عظیم سائنس دانوں کا دور) ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ ہم پھر سے انسانیت کے قافلے کی قیادت کر سکتے ہیں۔

ہمارے آباؤ اجداد وہ عظیم ہستیاں تھیں جنہوں نے علم و حکمت کے میدان میں دنیا کو رہنمائی دی۔
ابن سینا، الخوارزمی، ابن الہیثم، الرازی، اور الفارابی جیسے سائنس دان، ریاضی دان، فلکیات دان اور فلسفی ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔
جدید سائنس کی بیشتر بنیادی ایجادات اور دریافتیں درحقیقت انہی مسلم سائنس دانوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔

ابدی رہنمائی کا سرچشمہ:
ہمارے پاس قرآن مجید اور سنت رسول ﷺ کی صورت میں وہ کامل اور ابدی رہنمائی موجود ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہمارا راہنما ہے۔ یہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، بشرطیکہ ہم اسے سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔

مزید طاقتیں جن کا احاطہ کیا جا سکتا ہے:

اجتماعی معاشی بازار:
اگر مسلم ممالک باہمی تجارت کو فروغ دیں تو ایک 2 ارب آبادی پر مشتمل معاشی بلاک وجود میں آ سکتا ہے جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن سکتا ہے۔

زرعی وسائل:
بہت سے مسلم ممالک زراعت میں خود کفیل ہیں اور دنیا کی خوراک کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔

ثقافتی یکجہتی:
اسلام کی مشترکہ ثقافت، تہذیب اور زبان (عربی کی حیثیت سے دینی زبان) امت میں یکجہتی پیدا کرنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ تمام وسائل دیے ہیں جو کسی قوم کے عروج کے لیے درکار ہوتے ہیں: نوجوان آبادی، جغرافیائی قوت، معدنی وسائل، شاندار تاریخ اور سب سے بڑھ کر ابدی رہنمائی۔

لیکن پھر وہ کون سی کمزوریاں ہیں جو ہمیں اس مقام پر پہنچنے سے روک رہی ہیں؟
ہماری صفوں میں کون سی دراڑیں ہیں جن سے دشمن فائدہ اٹھا رہا ہے؟
ہماری ترجیحات میں کہاں خرابی ہے کہ ہم اتنے وسائل کے باوجود بھی پیچھے ہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں