روس کے یوکرین پر حالیہ حملے کے بعد رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ، وہ روسی صدر سے خوش نہیں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھاکہ، انھیں کیا ہو گیا ہے؟ وہ بہت سے لوگوں کو مار رہے ہیں۔ بعد ازاں انھوں نے پوتن کو ‘بالکل پاگل’ قرار دیا۔
یہ بیان روس کی جانب سے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب یوکرین پر کیے جانے والے بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں 367 میزائل اور ڈرونز استعمال کیے گئے۔ اس حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ روس-یوکرین جنگ کے آغاز سے اب تک ماسکو کی جانب سے کیا گیا سب سے بڑا حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس حملے کے بعد کہا ہے کہ، روس کی قیادت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر سخت دباؤ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، امریکہ کی خاموشی صرف پوتن کی حوصلہ افزائی کرے گی۔
نیو جرسی میں اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ، میں صدر پوتن کو ایک طویل عرصے سے جانتا ہوں، اور ماضی میں ہمارے تعلقات بہتر رہے ہیں، لیکن اب وہ شہروں پر راکٹ برسا رہے ہیں اور لوگوں کو مار رہے ہیں، یہ چیز مجھے بالکل پسند نہیں۔
بعد میں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں لکھا کہ، ولادیمیر پوتن ‘بالکل پاگل’ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ، وہ ہمیشہ سے یہ کہتے آئے ہیں کہ، پوتن پورا یوکرین حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور اب ایسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے بقول ، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ روس کے زوال کا باعث بنے گا۔
صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ، وہ جس انداز میں گفتگو کر رہے ہیں، وہ اپنے ملک کے لیے فائدہ مند نہیں۔ ٹرمپ نے کہاکہ، ان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے، وہ مسئلہ بن جاتی ہے، مجھے یہ رویہ پسند نہیں اور یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔