ایلون مسک کی کمپنیاں شدید مشکلات کا شکار

ایلون مسک کی کمپنیاں نئی ساکھ کی درجہ بندی میں انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئیں ،جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

تازہ ترین ایسے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جن میں ایلون مسک کی کمپنیاں مکمل طور پر نیچے جا گری ہیں: امریکہ کی 100 سب سے نمایاں کمپنیوں کی ایک نئی Axios Harris Poll میں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔
یہ پول صارفین کے مثبت رجحان اور بڑی کمپنیوں پر اعتماد کا جائزہ لیتا ہے اور مسک کی کمپنیاں تیزی سے گر رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ مسک کے ٹرمپ انتظامیہ میں کردار پر عوام کی وسیع سطح پر ناپسندیدگی ہے، جو سیاسی جماعتوں کی تمام شاخوں میں بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے، لیکن اعداد و شمار اس زوال کی رفتار کو بہت نمایاں انداز میں دکھاتے ہیں۔ 2021 کے پول میں، ٹیسلا ساکھ کی درجہ بندی میں آٹھویں نمبر پر تھی، جہاں وہ کوسٹکو، ایپل، اور ٹویوٹا جیسے برانڈز سے آگے تھی۔

تاہم، اس دوران، اس آٹومیکر نے ترقی کے راستے میں رکاوٹیں آئیں اور پیچھے کی طرف تیزی سے گر گئی۔ پچھلے سال، ٹیسلا 63ویں نمبر پر آ گئی تھی — اور اب، 2025 میں، یہ 95ویں نمبر پر گر کر راک باٹم پر پہنچ گئی ہے، جہاں اس کا ساتھ میٹا، ویلز فارگو، اور یونائیٹڈ ہیلتھ گروپ جیسی کمپنیوں کو ملتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹویوٹا نے ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ کر چوتھے نمبر پر جگہ بنائی ہے، اور پانچ دیگر کار کمپنیوں نے بھی اس ای وی آٹومیکر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ Axios کے مطابق، ٹیسلا “ساکھ اور کیریکٹر” کے شعبے میں سب سے نیچے رہی، اور “اخلاقیات” اور “شہریت” جیسے شعبوں میں بھی کافی خراب درجہ بندی حاصل کی ہے۔

اسپیس ایکس کی حالت بھی بہتر نہیں
2021 میں مسک کی ایروسپیس کمپنی اسپیس ایکس پانچویں نمبر پر تھی، لیکن اس سال یہ 86ویں نمبر پر آ گئی ہے، جو اسکا 88ویں نمبر پر موجود سکینڈل زدہ بوئنگ کے برابر ہے۔

چونکہ اسپیس ایکس صارفین سے براہِ راست تعلق نہیں رکھتی جیسا کہ ٹیسلا رکھتی ہے، اس لیے ان کی ساکھ پر یہ اثر ان کے مستقبل کے لیے اتنا زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔ لیکن پولنگ ڈیٹا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ جواب دہندگان کے درمیان 28.7 فیصد فرق پایا گیا ہے، جو اگر سیاسی حالات ان کے حق میں نہ رہے تو مستقبل میں ان کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

ایکس (سابقہ ٹویٹر) کی بھی خراب کارکردگی
ایلون مسک کے قبضے سے پہلے بھی ایکس (ٹویٹر) کی کارکردگی ہمیشہ کمزور رہی ہے، اور اب یہ شرمناک طور پر 98ویں نمبر پر ہے۔

صارفین کی ناپسندیدگی کی وجوہات
یہ صارفین کی ناپسندیدگی اور ریٹنگ میں تیز رفتار کمی ایلون مسک کی وجہ سے ہے، جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ میں اپنے کردار کے ذریعے دونوں سیاسی دھڑوں(ری پبلکن اور ڈیموکریٹس) کے صارفین کو ناراض کیا ہے۔ اپنے دعوے کردہ “ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی” کے ذریعے، مسک نے وفاقی حکومت میں ہزاروں ملازمین کو برطرف کیا، سیکڑوں ارب ڈالر کے اخراجات میں کٹوتی کی، اور امریکی سوشل سیکیورٹی میں مداخلت کی۔ ان کا ذاتی رویہ بھی صارفین کو ناگوار گزرا، جس میں مبینہ نازی ازم کا مظاہرہ اور نسل پرستانہ سازش تھیوریز کا بار بار اشتراک شامل تھا۔

مسک کی کاروباری کمپنیوں پر اثرات
صارفین کی منفی رائے کے علاوہ، ان اقدامات کے مسک کی کمپنیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مسک کی سرگرمیوں نے “ٹیسلا ٹیک ڈاؤن” نامی عالمی احتجاجی تحریک کو جنم دیا، جس میں ٹیسلا ڈیلرشپس اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جاتا رہا۔ آٹومیکر کی سالانہ فروخت 2024 میں پہلی بار کم ہوئی اور 2025 کے پہلے سہ ماہی میں یورپ میں 37 فیصد اور امریکہ میں 9 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ اسی عرصے میں اس کا خالص منافع 71 فیصد گھٹ گیا۔

مسک کی خود احتسابی
ایک موقع پر خود مسک نے اعتراف کیا تھا کہ “DOGE” میں ان کا وقت ان کے کاروباروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ اور اگر اس نئے پول کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو ان کی کمپنیوں کی ساکھ کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے واقعی معجزہ کی ضرورت ہوگی۔ کیا ایلون مسک ایسا کر پائیں گے؟ محتاط جواب یہ ہے کہ ایسا کرنا آسان نہیں۔ مسک بڑی مشکل میں پھنس چکے ہیں۔ ان کے تکبر، رعونت نے انہیں سزا دلوائی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں