مڈل ایسٹ کے مختلف میڈیا ذرائع بشمول العربیہ نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی ایک خصوصی فورس غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس کے وسط میں داخل ہو گئی ہے تا کہ اسرائیلی قیدیوں کو نکالنے کا مشن انجام دے سکے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق “اس کارروائی کے دوران کوئی اسرائیلی یرغمالی رہا نہیں کرایا جا سکا”۔
خواتین کے لباس میں ملبوس کمانڈوز
بتایا گیا ہے کہ یہ خصوصی فورس خواتین کا لباس پہن کر اور پناہ گزینوں کے بیگ اٹھائے ہوئے داخل ہوئی۔ اس نے القسام بریگیڈز کے ایک ذمے دار کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ ممکنہ طور پر کچھ قیدیوں کے ہمراہ سرنگوں سے باہر نکلا ہے۔ بعد ازاں یہ واضح ہوا کہ وہاں کوئی قیدی موجود نہیں، تو فورس کارروائی کے بعد واپس چلی گئی، جب کہ اس کے نتائج پوری طرح واضح نہیں ہو سکے۔
ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ “اس کارروائی کا مقصد القسام بریگیڈزکے ایک رہنما کو اغوا کرنا اور ساتھ ہی قیدیوں کو نکالنا تھا۔”
دوسری طرف، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے تمام علاقوں میں “عربات جدعون” کے نام سے آپریشن انجام دے رہی ہیں، تاہم ترجمان نے خان یونس کی اس مخصوص کارروائی کا ذکر نہیں کیا۔
اسرائیل اس وقت غزہ کی پٹی میں حماس پر عسکری دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مذاکرات کی میز پر اسے مزید رعائتیں دینے پر مجبور کیا جا سکے۔
ادھر حماس کی جانب سے اس شرط پر اصرار کیا جا رہا ہے کہ تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے مکمل جنگ بندی اور امداد کی فراہمی کی ضمانت دی جائے۔