ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو امریکی کمپنیوں کی ایران میں سرمایہ کاری پر کوئی اعتراض نہیں، حتیٰ کہ وہ تیل اور گیس جیسے اہم شعبوں میں کام کرنا چاہیں تو بھی راہ ہموار کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ امریکہ خود عائد کردہ اقتصادی پابندیاں ختم کرے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ “اگر امریکی کمپنیاں ایران کی معیشت میں دلچسپی رکھتی ہیں تو انہیں چاہیے کہ واشنگٹن ان پابندیوں کو ختم کرے تاکہ یہ راہ ہموار ہو سکے”۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور تہران کے درمیان جوہری معاہدے پر ازسر نو مذاکرات کی چار کوششیں ہو چکی ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد 2015ء کے تاریخی جوہری معاہدے کی جگہ ایک نیا معاہدہ طے کرنا تھا۔ ٹعراقچی کا کہنا تھا کہ “ہم نے امریکی کمپنیوں کی ایران میں اقتصادی سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی، ان کی غیر موجودگی کی اصل وجہ وہ پابندیاں ہیں جو امریکہ نے خود ہم پر عائد کر رکھی ہیں”